سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّكَ الۡاَعۡلَىۙ سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Saturday، 19 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّكَ الۡاَعۡلَىۙ ۞
ترجمہ:
اپنے رب کے نام کی تسبیح پڑھیے جو سب سے بلند ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اپنے رب کے نام کی تسبیح پڑھیئے جو سب سے بلند ہے۔ جس نے ( مخلوق کو) پیدا کیا پھر اس کو درست بنایا۔ اور جس نے ( صحیح) اندازہ کیا پھر ہدایت دی۔ اور جس نے چراگاہ بنائی۔ پھر تازہ گھاس کو خشک مائل بہ سیاہ کردو۔ ( الاعلیٰ : ٥۔ ١)
تسبیح کا معنی اور اللہ کے نام کی نقص اور عیب سے بری ہونے کی وجوہ
الاعلیٰ : ١ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کی تسبیح پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
تسبیح کا معنی ہے تقدیس اور تنزیہ، یعنی اللہ تعالیٰ کے نام کو ان چیزوں سے بری کرنا جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں، اور وہ حسب ذیل چیزیں ہوسکتی ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام اللہ کے نام پر رکھنا، جیسے مشرکین نے اپنے بت کا نام لات رکھا تھا، اور مسیلمہ کا نام یمامہ کا رحمان رکھا تھا، ہمارے ہاں کسی کا نام عبد الرحمن یا عبد الغفار ہوتا ہے، پھر لوگ تخفیف کے لیے اس کو رحمان صاحب یا غفار صاحب کہتے ہیں، یہ بھی اسی حکم میں ہے، اس سے بھی سختی کے ساتھ اجتناب کرنا لازم ہے، بعض لوگ کہتے ہیں : اے رحمان بھائی ! اے غفار بھائی ! ، یہ اور بھی معیوب ہے، اللہ تعالیٰ کے اسماء ذات ہوں یا اسماء صفات، ان کا احترام کرنا لازم ہے۔
(٢) اللہ تعالیٰ کے اسماء کی ایسی تفسیر نہ کی جائے جو اس کی شان کے لائق نہیں ہے، مثلاً اس کی صفت اعلیٰ ہے تو اس کی ایسی تفسیر کی جائے کہ وہ کسی بلند ہے یا اس کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔
(٣) اللہ تعالیٰ کا نام بغیر اس کے خوف اور اس کی تعظیم کے نہ لیا جائے، مثلاً غفلت اور بےدھیانی سے اس کا نام نہ لیا جائے، کوئی ناجائز اور معیوب کام کرتے وقت اس کا نام نہ لیا جائے، کسی نا پاک حالت اور نا پاک جگہ اس کا نام نہ لیا جائے، مثلاً غسل خانے یا واش روم میں اس کا نام لہ لیا جائے، جنابت کی حالت میں یا برہنہ بدن اس کا نام نہ لیا جائے، اس کے معنی پر توجہ کے بغیر اس کا نام نہ لیا جائے، کھیل کود میں اور مشغلہ کے طور پر تالی بجاتے ہوئے اس کا نام نہ لیا جائے، جیسے مشرکین تالیاں بجاتے ہوئے اور سیٹیاں بجاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لیتے تھے۔
(٤) اللہ تعالیٰ کے اسماء صفات سماع شرع پر موقوف ہیں، یعنی کتاب اور سنت میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات وارد ہوچکی ہیں، ان ہی صفات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، ہمارے ہاں عام لوگ اللہ میاں کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو میاں کہنا جائز نہیں ہے، میاں شوہر کو کہا جاتا ہے، بعض لوگ بوڑھے آدمی کو میاں جی کہتے ہیں، بعض لوگ اللہ سائیں کہتے ہیں، سائیں فقیر کو بھی کہا جاتا ہے، یہ تو اردو کے الفاظ ہیں، عربی کے الفاظ میں سے بھی اللہ تعالیٰ پر ان ہی اسماء کا اطلاق جائز ہے جو قرآن اور حدیث میں وارد ہوچکے ہوں، اللہ تعالیٰ پر علام کا اطلاق ہے، علامۃ کے لفظ میں اگرچہ زیادہ مبالغہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ پر اس کا اطلاق جائز نہیں ہے کیونکہ ہرچند کہ تاء کے متعدد معانی ہیں لیکن تاء تانیث کے لیے بھی آتی ہے، اسی طرح قرآن اور حدیث میں اگر افعال کا اطلاق ہو تو اپنی طرف سے ان سے اسم مشتق کر کے اس کا اللہ تعالیٰ پر اطلاق کرنا جائز نہیں ہے مثلاً قرآن مجید میں ” یعلم “ کا لفظ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پر معلم کا اطلاق کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ معلم اس کو کہتے ہیں جو فیس لے کر بچوں کو پڑھاتا ہو، غرض جس لفظ میں کسی اعتبار سے بھی نقص اور عیب کا معنی ہو، اس کا اللہ تعالیٰ پر اطلاق جائز نہیں اور نہ یہ قاعدہ ہے کہ جس لفظ میں بھی کسی عمدگی اور خوبی کا معنی ہو، اس کا اللہ تعالیٰ پر اطلاق کردیا جائے بلکہ یہ دیکھاجائے کہ اس لفظ کا اطلاق قرآن اور حدیث میں آیا ہے یا نہیں، اسی طرح یہ کہنا صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا خالق ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ خنزیروں، بندروں اور کیڑوں مکوڑوں کا خالق ہے، قرآن مجید میں ہے :
وَاللہ ِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَا ( الاعراف : ١٨٠) اور اللہ کے لیے سب اچھے نام ہیں سو ان ناموں سے اللہ کو پکارو۔
اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات، اس کے افعال، اس کے اسماء اور اس کے احکام میں سے کسی کے ساتھ بھی اس چیز کو ذکر نہ کیا جائے جو اس کی شان کے لائق نہیں ہے، مثلاً اس کی ذات کے متعلق یہ نہ کہا جائے کہ وہ جسم ہے یا باپ ہے یا شوہر ہے اور اس کی صفات کے متعلق یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ وہ حادث ہیں یا محدود ہیں یا ناقص ہیں، اور اس کے افعال کے متعلق یہ نہ کہا جائے کہ اس کا فلاں کام ظلم ہے یا درست نہیں ہے بلکہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ وہ مالک علی الاطلاق ہے، جو چاہے کرے اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے، ہر کام اس کی قدرت اور اس کے چاہنے اور اس کی تخلیق سے ہوتا ہے لیکن وہ ہر کام پر راضی نہیں ہوتا اور اس کے احکام کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اس نے ہمیں جس کام کا بھی حکم دیا ہے، اس میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ اس کے ماننے اور اس پر عمل کرنے میں ہمارا فائدہ ہے بلکہ اس نے ہم کو اس لیے احکام دیئے ہیں کہ وہ ہمارا خالق اور مالک ہے، ہم اس کی مخلوق اور اس کے مملوک ہیں اور مالک جو چاہے اپنے مملوک کو حکم دے سکتا ہے۔
” سبحان ربی الاعلیٰ ‘’ کے متعلق احادیث
حضرت عقبہ بن عامر جہنی بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :” فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ ۔ “ تو آپ نے فرمایا : اس کو تم سجدہ میں پڑھا کرو۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٦٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٨٧)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آیت پڑھے ” سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی۔ “ ( الاعلی : ١) تو آپ پڑھتے :” سبحان ربی الاعلیٰ “۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٨٣، کنز العمال رقم الحدیث : ٤١٣١)
حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص رکوع کرے تو سین مرتبہ کہے :” سبحان ربی العظیم “ اور یہ کم سے کم تین مرتبہ ہے اور جب سجدہ کرے تو تین مرتبہ پڑھے ” سبحان ربی الاعلیٰ “ اور یہ کم سے کم تین مرتبہ ہے۔
(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٨٦، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٩٠)
اللہ تعالیٰ کی صفت ” الاعلیٰ “ ذکر کرنے کی وجوہ
اس آیت میں رب کی صفت ” الاعلیٰ “ بیان فرمائی ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر حمد وثناء کرنے والے کی حمد وثناء سے اعلیٰ ، اجل اور اعظم ہے اور ہر ذکر کرنے والے کے ذکر سے بلند وبالا ہے، اس کا جلال اور اس کی کبریائی ہمارے ادراک اور ہمارے تصور اور ہمارے علوم اور معارف سے بہت بلند ہے اور اس کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہماری حمد اور شکر سے بہت بلند اور برتر ہیں اور اس کے حقوق جلدی اطاعت اور عبادات اور ہمارے تمام نیک اعمال سے بہت زیادہ ہیں۔
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر کے آخر میں یہ دعا کرتے : اے اللہ ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ ! میں تیری ایسی حمد وثناء نہیں کرسکا، جیسی حمد وثناء خود تو نے اپنی کی ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٤٢٧، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٦٦، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٣٠٦، مسند احمد ج ١ ص ٩٦ طبع قدیم، مسند احمد ج ٢ ص ١١٤٧، رقم الحدیث : ٧٥١، اس حدیث کی سند قوی ہے)
اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ تو نے اپنی ذات کی ایسی حمد وثناء کی جو تیری ذات کے لائق ہے، سو تیری ایسی حمد وثناء کون کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے رب کی صفت ” الاعلیٰ “ ذکر کی ہے، اس میں تنبیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا مستحق ہے کہ ہر نقص اور عیب سے اس کا بری ہونابیان کیا جائے، یعنی وہ اپنے ملک، اپنی سلطنت اور اپنی قدرت کی وجہ سے ہر چیز سے اعلیٰ اور بلند ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 1