أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَيَذَّكَّرُ مَنۡ يَّخۡشٰىۙ ۞

ترجمہ:

عنقریب وہی شخص نصیحت قبول کرے گا جو اللہ سے ڈرتا ہے

الاعلیٰ : ١٠ میں فرمایا : عنقریب وہ شخص نصیحت قبول کرے گا جو اللہ سے ڈرتا ہے۔

اللہ سے ڈرنے والے کا مصداق

وہی شخص آپ کی نصیحت کو قبول کرے گا، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے یا روز آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ عزوجل کی توحید پر، آپ کی رسالت پر اور قرآن کے کتاب ہدایت ہونے پر ایمان لاتے ہیں، برے کاموں سے بچتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور یہ ایمان ہی ان کو آپ کی نصیحت کے قبول کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ کبھی اس شخص کو بھی نصیحت کی جاتی ہے جو آخرت کی امید رکھتا ہے، مگر آخرت سے ڈرنے والے کے لیے نصیحت زیادہ مفید ہے، قشیری نے کہا : ان آیتوں کا معنی یہ ہے کہ آپ بالعموم نصیحت کیجئے، اگرچہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے نصیحت زیادہ مفید ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف دلوں میں ہوتا ہے اور دلوں کے حال پر صرف اللہ تعالیٰ مطلع ہوتا ہے، اس لیے آپ کے لیے افضل یہ ہے کہ آپ ہر شخص کو نصیحت کرتے رہیں، کیونکہ کوئی شخص نصیحت کو قبول کرے یا نہ کرے، آپ کو تو بہر حال نصیحت کرنے سے اجر وثواب ملے گا۔

امام رازی نے کہا ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان بن عفان (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت ابن ام مکتوم کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 10