أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى  ۞

ترجمہ:

ابراہیم اور موسیٰ کے صحائف میں  ؏

الاعلیٰ : ١٩ میں فرمایا : ابراہیم اور موسیٰ کے صحائف میں۔

اس آیت میں الاعلیٰ : ١٨ کا بیان ہے، الاعلیٰ : ١٨ میں فرمایا تھا : بیشک یہ ( نصیحت) پہلے صحائف میں بھی ( مذکور) ہے اور الاعلیٰ : ١٩ میں ان صحائف کا بیان ہے کہ ان صحائف سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کے صحائف ہیں۔

انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے صحائف کے متعلق تفصیل حسب ذیل حدیث میں ہے :

نبیوں، رسولوں، کتابوں اور صحیفوں کی تعداد کی تحقیق

امام ابو نعیم اصبہانی نے اپنی سند کے ساتھ ایک بہت طویل حدیث روایت کی ہے، اس موضوع سے متعلق اس روایت کا درمیانی حصہ ہم پیش کر رہے ہیں۔

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! انبیاء کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ایک لکھ چوبیس ہزار، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! رسول کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تین سو تیرہ جم غفیر ہیں، میں نے کہا : بہت اچھے ہیں، میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پہلا نبی کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدم، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا وہ نبی مرسل ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور ان میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی، پھر ان کو اپنے سامنے بنایا، پھر آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! جار نبی سریانی ہیں : آدم، شیث اور خنوخ، یہ ادریس ہیں جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے خط کھینچا اور نوح اور چار نبی عرب ہیں : ھود، صالح، شعیب اور تمہارے نبی، اے بوذر ! میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل کیں ؟ آپ نے فرمایا : سو صحیفے اور چار کتابیں، شیث پر پچاس صحیفے نازل کیے گئے، خنوخ پر تیس صحیفے نازل کیے گئے، ابراہیم پر دس صحیفے نازل کیے گئے اور موسیٰ پر تورات سے پہلے دس صحیفے نازل کیے گئے اور تورات، انجیل، زبور اور فرقان کو نازل کیا گیا :

( حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ١٦٧، مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

اس حدیث کو امام ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں حضرت ابو ذر (رض) سے روایت کیا ہے۔

(موارد انظمآن ص ٥٤۔ ٥٢، مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ، بیروت)

امام احمد نے بھی دو سندوں سے اس حدیث کو حضرت ابوذر سے روایت کیا ہے مگر اس میں تین سو پندرہ رسولوں کا ذکر ہے۔ ( مسند احمد ج ٥ ص ٢٦٦۔ ١٧٩، مطبوعہ مکتبہ اسلامی، بیروت، ١٣٩٨ ھ)

امام ابن عساکر نے بھی اس حدیث کو حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے۔

(تہذیب تاریخ دمشق ج ٦ ص ٣٥٧۔ ٣٥٦، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

حافظ المہیثمی نے بھی امام احمد اور امام طبرانی کے حوالوں سے تین سو پندرہ رسولوں کا ذکر کیا ہے اور اس حیث کو ضعیف لکھا ہے۔ ( مجمع الزوائد ج ١ ص ١٥٩ مطبوعہ درالکتاب العربی، بیروت، ١٤٠٢ ھ)

سورۃ الاعلیٰ کی تفسیر کا اختتام

الحمد للہ رب العٰلمین ! آج ٢٧ شعبان ١٤٢٦ ھ /١٢ کتوبر ٢٠٠٥ ء کو سورة الاعلیٰ کی تفسیر مکمل ہوگئی، رب العٰلمین ! جس طرح آپ نے اس سورت کی تفسیر مکمل کرا دی ہے، قرآن مجید کی باقی سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں، میں جن امراض میں مبتلا ہوں مجھے ان سے شفاء عطاء فرمائیں، مجھے مزید توانائی عطاء فرمائیں، صاحب زادہ حبیب الرحمان ( بریڈ فورڈ) ، مولانا عبد المجید (برسٹل) ، ثمینہ بہن ( برسٹل) مولانا اسماعیل نورانی ( کراچی) شیخ نجب الدین ( کراچ) شفیق بھائی، شمیم بھائی، سید عمیر ( کراچی) اور مفتی منیب الرحمان ( کراچی) ، سعید محسن اعجاز ( لاہور) اور فوزیہ بہن ( لاہور) اور میرے تمام محسنین اور احباب کو اور مجھ کو دنیا اور آخرت کی مشکلات اور آفات و بلیات سے محفوظ اور مامون رکھیں اور آخرت کی دائمی نعمتیں اور جنت الفردوس عطاء فرمائیں، میری والدہ ماجدہ، میرے والد گرامی اور میرے تمام اساتذہ کی اور تمام تلامذہ اور جملہ قارئین کی مغفرت فرمائیں اور میری تصانیف کو تا قیام قیامت باقی، مرغوب اور فیض آفرین رکھیں۔ آمین یا رب العٰلمین۔

و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ حبیبہ سیدنا محمد خاتم النبیین افضل المرسلین وعلیٰ آلہ و اصحابہ وازواجہ وذریاتہ وامتہ اجمعین

القرآن – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 19