وَالَّذِىۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Saturday، 19 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّذِىۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى ۞
ترجمہ:
اور جس نے چراگاہ بنائی
” المرعیٰ “ کا معنی :
الاعلیٰ : ٤ میں فرمایا : اور جس نے چراگاہ بنائی۔
اس آیت میں ” المرغی “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : چراگاہ، جانوروں اور انسانوں کی خوراک، یعنی قدرتی گھاس، سبزہ، غلہ اور پھل وغیرہ یہ لفظ اصل میں ” رعی “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے : جاندار کی حفاظت کرنا اور اس کو باقی رکھنا، حفاظت کی تین صورتیں ہیں : (١) خوراک مہیا کرنا (٢) جان داروں کو دشمنوں سے محفوظ رکھنا اور ان کو بچانا، ان کی بیماریوں کا حسب مقدور علاج کرنا (٣) زیر کفالت افراد کا مناسب انتظام کرنا اور ان کو دنیا اور آخرت کے ضرر سے بچانے کی تلقین اور تگ ود کرنا اور ان کی اصلاح کرنا اور پھر اس کی تین قسمیں ہیں، اگر ایک فرد کو برائی سے بچانا اور نیکی سے متصف کرنا ہو تو اس کو تہذیب نفس کہتے ہیں اور اگر ایک گھر اور ایک خاندان کو برائیوں سے دور رکھنا اور نیکیوں سے متصف کرنا ہو تو اس کو تدبیر منزل کہتے ہیں اور اگر ایک شیر اور ایک ملک کی اصلاح کرنی ہو تو اس کو سیاست مدنیہ کہتے ہیں یعنی ایک شہر یا ملک کی اندرونی خرابیوں مثلاً چوری کی وارداتوں، ڈاکوں، بھتوں، لسانی اور مذہبی فسادات، سمگلنگ، چوری بازاری، نقلی اور ملاوت والی اشیاء، نشہ آور چیزوں اور مخرب اخلاق کاموں کو روکنا اور شہر یا ملک کی خوش حالی، روزگاری کے مواقع اور عام ضروری اشیاء کو فراہم کرنا اسی طرح ملک کے خارجی اور بیرونی معاملات کو صحیح طور پر چلانا، تجارت اور دفاع کے شعبوں کو مضبوط اور منظم کرنا یہ سیاست مدنیہ ہے، ” راعی “ چرواہے اور محافظ کو بھی کہتے ہیں اور حاکم کو بھی کہتے ہیں، حدیث میں ہے :
حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحت افراد کے متعلق سوال ہوگا، سربراہ ملک نگران ہے اور اس سے اس کے ماتحت لوگوں کے متعلق سوال ہوگا اور ایک شخص اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے گھر کے لوگوں کے متعلق سوال ہوگا، عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے اور اس سے گھر کے متعلق سوال ہوگا، خادم اپنے مالک کے مالک کا نگران ہے اور اس سے اس کے مال کے متعلق سوال ہوگا اور ایک شخص اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کے مال کے متعلق سوال ہوگا اور تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اس سے اس کے ماتحت لوگوں کے متعلق سوال ہوگا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٩٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٧٠٥، مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ٢٠٦٤٩، مسند احمد ج ٢ ص ٥)
القرآن – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 4