وَالَّذِىۡ قَدَّرَ فَهَدٰى – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 3
sulemansubhani نے Saturday، 19 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّذِىۡ قَدَّرَ فَهَدٰى ۞
ترجمہ:
اور جس نے ( صحیح) اندازہ کیا پھر ہدایت دی
تقدیر کے متعلق قرآن مجید کی آیات اور احادیث
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جس نے ( صحیح) اندازہ کیا پھر ہدایت دی۔
اللہ تعالیٰ نے تمام آسمانوں اور ستاروں اور عناصر، اور معاون اور نباتات اور حیوانات اور انسانوں کی جسامت مخصوصہ اور ان کی صورتوں کا اور ان کی صلاحیتوں کا اور ان کی کارکردگی کا اور مدت ِ معلومہ تک ان کی بقاء کا اور ان کی صفات میں سے ان کے رنگوں، ان کی خوشبوئوں، ان کے حسن اور قبح، ان کی سعادت اور ان کی شقاوت، اور ان کی ہدایت اور ان کی گمراہی کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کیا اور اس کے مطابق ان کو پیدا کیا۔
وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا۔ (الفرقان : ٢) اور اس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اس کا مناسب انداز قرار دیا۔
وَکَانَ اَمْرُ اللہ ِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا۔ (الاحزاب : ٣٨) اور اللہ کے تمام کام تقدیر ( صحیح اندازے) پر مبنی ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمر بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر آئے اور آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں، آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کیسی دو کتابیں ہیں ؟ ہم نے عرض کیا : نہیں یا رسول اللہ ! ماسوا اس کے کہ آپ ہمیں بتائیں، آپ نے اس کتاب کے موافق فرمایا جو آپ کے دائیں ہاتھ میں تھی، یہ رب العٰلمین کی طرف سے کتاب ہے، اس میں اہل جنت کے اور ان کے آباء اور ان کے قبائل کے اسماء ہیں، پھر ان کے آخر میں میزان کردیا گیا ہے، پس اس میں کوئی اضافہ کیا جائے گا، رواں میں کوئی کمی کی جائے گی، کبھی بھی، پھر اس کتاب کے متعلق فرمایا جو آپ کے بائیں ہاتھ میں تھی، یہ رب العٰلمین کی طرف کتاب ہے اس میں اہل دوزخ کے اور ان کے آباء کے اور ان کے قبائل کے اسماء ہیں، پھر ان کے آخر میں میزان کردیا گیا ہے، پس اس میں کوئی اضافہ کیا جائے گا نہ اس میں کوئی کمی کی جائے گی، کبھی بھی، آپ کے اصحاب نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پھر اگر تمام کاموں سے فراغت ہوچکی ہے تو پھر عمل کس لیے کیا جائے ؟ آپ نے فرمایا : تم ٹھیک ٹھیک اور صحیح کام کرتے رہو، کیونکہ جنتی شخص کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر کیا جائے گا، خواہ اس نے کوئی عمل کیا ہو، اور دوزخی شخص کا خاتمہ اہل دوزخ کے عمل پر کیا جائے گا، خواہ اس نے کوئی عمل کیا ہو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ جھاڑ دیئے، پھر فرمایا : تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا ہے، ایک فریق جنت میں ہے اور ایک فریق دوزخ میں ہے۔
( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٤١، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٧ )
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ کسی بندے کے ساتھ نیکی کا اردہ فرماتا ہے تو اس کو نیکی میں استعمال فرماتا ہے، آپ سے کہا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ اس کو کیسے استعمال فرماتا ہے ؟ فرمایا : وہ اس کو موت سے پہلے نیک عمل کی توفیق دیتا ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٤٢، مسند احمد ج ٣ ص ١٠٦)
حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت تک کوئی بندہ مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس پر ایمان نہ لائے کہ ہر خیر اور شر تقدیر سے وابستہ ہے، اور اس پر جو مصیبت آئی ہے وہ اس سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جو مصیبت اس سے ٹل گئی ہے وہ اس پر آ نہیں سکتی تھی۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٤٤ )
ابن ابی خزامہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ بتایئے کہ ہم جو دم کراتے ہیں یا دوا دارو کرتے ہیں اور جس ڈھال کے ذریعہ حملے سے بچتے ہیں کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر کو ٹال سکتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ چیزیں بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٤٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٦٥ )
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھ آدمیوں پر میں نے لعنت کی ہے اور اللہ نے لعنت کی ہے اور ہر نبی نے لعنت کی ہے، ( بعض روایات میں ہے : اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے) (١) کتاب اللہ میں زیادتی کرنے والا (٢) اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا (٣) طاقت اور جبر سے اقتدار حاصل کرنے والا تاکہ عزت والوں کو ذلیل کرے اور ذلت والوں کو عزت دے ( ٤) اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے والا (٥) میری اولاد میں جن چیزوں کو اللہ نے حرام کیا ہے ان کو حلال کرنے والا (٦) میری سنت کو (اہانۃً ) ترک کرنے والا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٥٤ )
الولید بن عبادۃ بن الصامت بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے یہ وصیت کی : اے میرے بیٹے ! اللہ سے ڈرتے رہو اور تم ہرگز تقویٰ حاصل نہیں کرسکو گے، جب تک اللہ پر ایمان نہ لائو اور اس پر ایمان نہ لائو کہ ہر خیر ہو شر اللہ کی تقدیر سے وابستہ ہے، اگر تم اس کے علاوہ کسی اور عقیدہ پر مرو گے تو دوزخ میں داخل ہو گے، اور بیشک میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ نے جس چیز کو سب سے پہلے پیدا کیا وہ قلم ہے، پھر ( اس سے) فرمایا : لکھ، اس نے کہا : میں نے کیا لکھوں ؟ فرمایا : تقدیر کو لکھو، اور جو کچھ ہوچکا ہے اور ابد تک جو ہونے والا ہے، وہ لکھو۔
( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٥ ٢١، مسند احمد ج ٥ ص ٣١٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٣١٩)
اللہ تعالیٰ کے ہدایت دینے کے متعدد معانی اور محامل
اور اس آیت میں فرمایا : پھر اللہ نے ہدایت دی۔
ہر مزاج مخصوص قوت کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہر قوت میں مخصوص فعل کی صلاحیت ہے اور مخلوق کو درست بنانے کا معنی یہ ہے کہ انسان کے اجزاء جسمانیہ کو مخصوص طریقہ سے بنانا اور ان میں مخصوص قوت کی صلاحیت رکھنا اور یہی تقدیر ہے اور انسان کو ہدایت دینے کا یہ معنی ہے کہ انسان کے اعضاء میں ایسی قوتوں کو تخلیق کرنا کہ ہر قوت افعال مخصوصہ کا مبدأ مصدر اور مصاں سکے اور اس کے مجموعہ سے مکمل مصلحت حاصل ہوجائے، پھر مفسرین نے اس ہدایت کی مختلف تفسیریں کی ہیں۔
مقاتل نے کہا : مذکر کو ہدایت دی کہ وہ مؤنث سے کس طرح اپنی خواہش پوری کرے، یہ فطری ہدایت ہے جو ہر میں ہے۔
بعض علماء نے کہا : ہر جاندار کو اور ہر انسان کو اس کی غذا حاصل کرنے کا طریقہ سکھایا، خواہ وہ چرنے، چگنے سے ہو دوسرے جانوروں کو شکار کر کے اور ان کو چیرنے، پھاڑنے سے ہو یا سبزیاں اور گوشت کھانے سے ہو، یہ بھی فطری ہدایت ہے۔
بعض علماء نے کہا : انسان کو اچھا اور برا اور نیک اور بدر استہ سمجھایا، کیونکہ انسان کو حساس اور عقل سے کام لینے والا بنایا ہے۔ اور اس کو اس پر قادر بنایا ہے کہ وہ مفید چیزوں کو حاصل کرے اور نقصان دہ چیزوں سے دور رہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَنَفْسٍِ وَّمَا سَوّٰہَا۔ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰہَا۔ وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰہَا۔ (الشمس : ٧۔ ١٠)
نفس ( انسان) کی اور اس کو درست بنانے کی قسم۔ اس نے اس کو برے کاموں اور ان سے بچنے کی سمجھ عطاء کردی۔ جس نے اپنے باطن کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور جس نے اپنے نفس کو برے کاموں سے آلودہ کرلیا وہ ناکام ہوگیا۔
وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ ۔ (البلد : ١٠) اور ہم نے اس کو ( خیر اور شر کے) دونوں راستے دکھا دیتے۔
بعض علماء نے کہا : ہدایت دینے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے افعال سے اپنی الوہیت پر اپنی ذات پر صفات پر، اپنی توحید اور اپنی قدرت پر مطلع فرمایا کیونکہ ہر عقل والا دیکھتا ہے کہ اس جہان میں ایسی چیزیں ہیں، جو از خود وجود میں نہیں آسکتیں اور یہ چیزیں ایسی مربوط، منظم اور دائمی ہیں کہ ان کو اتفاقی حادثہ نہیں قرار دیا جاسکتا اور یہ تمام چیزیں اس جہاں میں نظام واحد کے ساتھ منسلک ہیں، کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ سورج یا چاند ایک دن ایک جانب سے طلوع ہوں اور دوسرے دن دوسری جانب سے، اسی طرح ہر چیز میں یکسانیت، نظم اور تسلسل ہے، اس لیے اس نظام کو بنانے اور چلانے والے متعدد نہیں ہوسکتے، اس لیے نظام کا خالق ضرور واحد اور صرف واحد ہے۔
قتادہ نے کہا : ہدایت دینے کا یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بندہ سے زبردستی اور جبراً گناہ نہیں کرایا اور نہ کسی کو جبراً گم راہ کیا اور نہ کسی کو گناہ کرنے اور گم راہی کا حکم دیا لیکن وہ اپنے بندوں کی اطاعت اور عبادت سے راضی ہے اور اس نے اپنے بندوں کو اطاعت اور عبادت کرنے کا حکم دیا ہے، اور ان کو کفر اور معصیت سے منع فرمایا ہے۔
ہر چند کو ہدات دینے کے متعدد معانی اور محامل ہیں، لیکن ان سب کا مآل دو معنی کی طرف ہے، ایک دنیاوی امور کی فطری ہدایت کہ کس طرح کوئی جاندار اپنی خوراک حاصل کرے اور کس طرح اپنی نسل بڑھائے، اور کس طرح اپنا سر چھپائے اور بسیرا کرے اور اپنے آپ کو گرمی، سردی اور برسات سے بچائے اور دوسرا معنی ہے : دینی امور کی ہدایت کہ کس طرح اپنے پیدا کرنے والے کو پہنچانے اور مانے اور اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کن کاموں کو کرے اور کن کاموں سے باز رہے، اس ہدایت کا داعیہ، باعثہ اور محرک انسان کی فطرت اور اس کے خمیر میں رکھا گیا ہے، لیکن یہ ہدایت عقل سے، رسولوں سے، آسمانی کتابوں سے اور دینی رہنمائوں سے حاصل ہوتی ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 3