أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ۞

ترجمہ:

اور ہم آپ کے لیے سہولت کردیں گے۔

الاعلیٰ : ٨ میں فرمایا : اور ہم آپ کے لیے سہولت کردیں گے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام امت کے لیے دین کا آسان ہونا

سہولت سے مراد ہے : وہ نیک اعمال جو سہولت مہیا کرتے ہیں، اس آیت کے مفسرین نے حسب ذیل محامل بیان کیے ہیں :

(١) ہم آپ کو قرآن مجید کے حفظ کرنے کے آسان اور سہل طریقہ کی توفیق دیں گے۔

(٢) ہم آپ کو ایسے نیک اعمال کی توفیق دیں گے، جس سے آپ کے لیے جنت کا راستہ آسان اور سہل ہوجائے گا۔

(٣) ہم آپ پر نزول وحی کو آسان کردیں گے تاکہ آپ سہولت سے وحی کو حفظ کرسکیں، جان سکیں اور اس پر عمل کرسکیں۔

(٤) ہم آپ پر ایسے شرعی احکام نازل کریں گے، جن پر عمل کرنا آسان ہوگا اور لوگوں کے لیے شرعی احکام پر عمل کرنا مشکل اور دشوار نہیں ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَج ٍط (الحج : ٧٨) اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔

کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ فَـلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنْذِرَ بِہٖ (الاعراف : ٢)

یہ ایک کتاب ہے جو آپ پر اس لیے نازل کی گئی ہے کہ آپ اس سے لوگوں کو عذاب سے ڈرائیں سو آپ کے سینہ میں اسے سے تنگی نہ ہو۔

اور احادیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دین آسان ہے۔ الحدیث

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٩، سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٠٤٩، مسند احمد ج ٥ ص ١٩)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں پر آسان احکام بیان کرو اور مشکل احکام نہ بیان کرو اور لوگوں کو خوش خبری سنائو اور لوگوں کو بددل اور متنفر نہ کرو۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٣٤، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٨٥٩٠)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور اس نے مسجد میں پیشاب کردیا، لوگ اس کی طرف جھپٹے، تو ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو ، اور اس جگہ کے اوپر ایک یا دو ڈول پانی بہا دو ، کیونکہ تم آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو اور مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں بھیجے گئے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٥، مسند احمد ج ٢ ص ٢٨٢)

امام رازی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سہولت اور آسانی کے اس قدر دروازے کھولے ہیں کہ کسی اور پر اس قدر دروازے نہیں کھولے، آپ کو جاہلیت کے معاشرہ میں پیدا کیا، والدہ (رح) پہلے فوت ہوچکے تھے، پھر والد رحمہا اللہ بھی فوت ہوگئیں اور چند سال بعد دادا کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا، کسی مکتب میں پڑھنے کے لیے نہیں گئے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کے اقوال اور افعال کو تمام جہانوں کے لیے نمونہ بنادیا اور آپ کو تمام مخلوق کا ھاوی بنادیا، حضرت سعدی فرماتے ہیں۔

یتیمے کہ ناکردہ قرآن درست کتب خانہ چند ملت بشصت

وہ یتیم شخص جو پڑھنے کے لیے مکتب میں داخل نہیں ہوا، اس کی تعلیمات نے کتنی ہی لائبریریوں کی پہلی کتابوں کو بھلا دیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 8