٤٧ – بَابُ الْوُضُوءِ بِالْمُدِ

ایک لیٹر پانی سے وضوء کرنا

مد ایک پیمانہ ہے جس میں تقریباً ایک لیٹر پانی آتا ہے علامہ عینی نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ اور فقہاء عراق کے نزدیک ایک مد دو رطل کا ہوتا ہے ( رطل بھی ایک پیمانہ ہے جو تقریباً نصف لیٹر کے برابر ہوتا ہے ) امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد یعنی دو رطل سے وضوء کرتے تھے اور ایک صاع ( چار لیٹر پانی) سے غسل کرتے تھے یعنی آٹھ رطل سے (سنن دار قطنی : ۳۰۹- ج ۱ ص ۲۳۸ دار المعرفه، سنن بیہقی ج 4 ص ۱۷۲) ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۳۹)

۲۰۱- حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ قَالَ حدَّثَنِي ابْنُ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ اَنَسًا يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ اَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ ، وَيَتَوَضَّأُ بِالمد۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابونعیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں مسعر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے ابن جبر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے پانچ مد ( چار لیٹر سے پانچ لیٹر ) تک پانی سے غسل کرتے تھے اور ایک مد ( ایک لیٹر ) پانی سے وضو کرتے تھے۔

(صحیح مسلم : 325،  الرقم المسلسل : ۷۲۲ سنن ابوداؤد : ۹۵ سنن ترمذی:609،  سنن نسائی: ۳۴۵-۲۲۶- ۷۳ سنن بیہقی ج ا ص ۸۹ مسند ابو یعلی :4309، سنن دارمی: ۶۸۹ ، صحیح ابن خزیمہ: ۱۱۶ مسند ابوعوانہ ج ۱ ص 232،  صحیح ابن حبان : ۱۲۰۴- ۱۲۰۳ شرح السنته : ۲۷۷ سنن دار قطنی ج ۱ ص ۹۴ – ج۲ ص ۱۵۳، المعجم الاوسط:۹۲۶ مسند احمد ج ۶ ص ۲۲۱، مسند احمد ج ۳ ص112،  طبع قدیم مسند احمد : ۱۲۱۰۵ – ج ۱۹ ص۱۵۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) ابونعیم بن دکین ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۲) مسعر بن کدام ،ابو نعیم نے کہا: مسعر اپنی حدیث میں بہت شک کرنے والے تھے شعبہ نے کہا : ہم مسعر کو ان کے صدق کی وجہ سے مصحف کہتے تھے ابراہیم بن سعد نے کہا: جب شعبہ اور سفیان کسی چیز میں شک کرتے تو وہ کہتے : چلو میزان کی طرف یعنی مسعر کی طرف، یہ ۱۵۵ ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۳) ابن جبر، اس سے مراد جبر کے پوتے ہیں کیونکہ ابن جبر جو ابن سعد ہیں، ان کی اس کتاب میں حضرت انس سے کوئی روایت نہیں ہے ابن جبر کو جابر بن عتیک کہا جاتا ہے۔

(۴) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۴۰)

وضوء اور غسل میں پانی کی مقدار کا معین نہ ہونا اور فرق اور مکوک کے معنی

اس حدیث میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے پانچ مد ( چار لیٹر سے پانچ لیٹر ) تک پانی سے غسل کرتے تھے، بعض اوقات آپ چار لیٹر پانی سے غسل کرتے اور بعض اوقات پانی زیادہ لیتے اور پانچ لیٹر پانی سے غسل کرتے، اس سے معلوم ہوا کہ غسل میں پانی کی مقدار معین نہیں ہے، بلکہ اس میں قلیل اور کثیر پانی کافی ہے، جب اس سے پورے بدن کا غسل ہوجائے اور مستحب یہ ہے کہ غسل اور وضوء میں پانی کی جو مقدار ذکر کی گئی ہے اس سے کم پانی نہ لیا جائے اور جس آدمی کی جسامت اوسط جسامت سے کم ہو وہ اس سے کم مقدار سے بھی غسل کر سکتا ہے اور جس کی جسامت اوسط جسامت سے زیادہ ہو وہ اس سے زیادہ مقدار پانی کو بھی استعمال کر سکتا ہے۔

بعض احادیث میں فرق اور بعض میں فرق ” کا لفظ ہے ابن الاثیر نے کہا کہ فرق ۱۶ رطل ہے یعنی آٹھ کلو گرام یا آٹھ لیٹر کا پیمانہ اور فرق ۱۲۰ رطل ہے یعنی ۶۰ کلوگرام یا ۶۰ لیٹر کا پیمانہ اور بعض احادیث میں ” مكوك ” کا لفظ ہے ” مكوك اور مد کا ایک معنی ہے یعنی ایک کلو گرام اور ایک لیٹر کا پیمانہ ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص 142)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ اتنی مقدار پانی کے ساتھ وضوء اور غسل کرنا جمہور فقہاء کے نزدیک مستحب ہے۔)فتح الباری ج 1 ص 737)

یہ حدیث شرح صحیح مسلم : 645 – ج ۱ ص ۱۰۱۸ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی