پسند کی شادی

حضرت ام سائب رضی اللہ عنھا کے والد نے ان کا نکاح اپنی مرضی کے ایک شخص سے  کیا ، تو انھوں نے اس کے ہاں جانے سے انکار کر دیا ، اور کہا:

” میں نے حضرت ابو لُبَابَہ سے شادی کرنی ہے ۔ “

ان کے والد بضد تھے کہ جہاں میں نے نکاح کردیا ہے وہیں جاؤ ، لیکن وہ نہیں مانتی تھیں ۔
جب یہ معاملہ سید عالم ﷺ کے حضور پیش ہوا تو عادل و حکیم رسول ﷺ نے فیصلہ سنایاکہ:

” یہ عورت اپنےمعاملے کی زیادہ حق دار ہے ، جہاں یہ چاہتی ہے وہیں اس کی شادی کی جائے ۔ “

اس فرمان عالی کے بعد ان کی شادی سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ سے کر دی گئی ۔

( ملخصاً: مسند احمد بن حنبل ، ر6898 )

¹ جب کسی معاملے میں اللہ و رسول کا حکم آجائے تو مسلمان کو فوراً سرِتسلیم خم کردینا چاہیے ۔

² ہماری بیٹیوں کو اللہ کے رسول نے جو حق دے دیا ہے ، وہ ہم ان سے کسی صورت نہیں چھین سکتے ، چھینیں گے تو ظالم کہلائیں گے ۔
نکاح کے معاملے میں وہ اپنی پسند ، ناپسند کا اختیار رکھتی ہیں اور اس کا اظہار کرنے میں ہم  سے زیادہ حق دار ہیں ۔

اللہ کرے یہ بات ہمارے ذہن میں ہمیشہ کے لیے بیٹھ جائے ، اور ہم جو جھوٹی پارسائیاں ، رکھ رکھاؤ ، اور منحوس رسم و رواج لیے بیٹھے ہیں ان سے ہماری جان چھوٹ جائے ۔

خاک راہ حجاز
لقمان شاہد
21.7.2025 م