بلوچستان میں قتل کیے جانے والے جوڑے کی بحث کہ جس نے دو دن تک سارے سوشل میڈیا کو اپنی جکڑ میں لیا ہوا تھا اس کے بارے میں کچھ سوچتے ہیں شاید کہ حقائق معلوم ہوں یا کچھ اشارہ ملے اور فقہ حنفی کا دو فتوے بھی اپ اس میں پڑھیں گے تو ائیے مل کر پڑھتے ہیں سوچتے ہیں…!!*
۔
الحدیث*
فَلَا تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَوَّلِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فیصلہ اس وقت کرو کہ جب تم ایک فریق سے جس طرح جانچ پڑتال کر چکے اسی طرح دوسرے فریق کی بھی جانچ پڑتال کر لو اور دونوں کی باتیں و دلائل سنو
(ابو داؤد حدیث3582)
۔
جیسے ہی ویڈیو کے ساتھ یہ بات وائرل کی گئی کہ شیتل اور زرک نے محبت کی شادی کی اور وہ کسی اور جگہ بھاگ گئے ہوئے تھے لیکن انہیں دعوت کے بہانے بلایا گیا اور پھر قتل کیا گیا۔۔۔اور شیتل کے ہاتھ میں قران تھا اور شیتل بہادری سے کہتی رہی کہ میں نے زنا نہیں کیا نکاح کیا
۔
ہم نے فورا کچھ لکھنے سے پہلے مذکورہ بالا حدیث پر عمل کرتے ہوئے انتظار کیا کہ شاید فریقین کا کوئی بیان ائے کچھ معلومات واضح ہوں تب جا کر ہی لکھا جائے
۔
مگر اب تک معاملہ واضح نہیں ہو پایا اور درج ذیل باتیں ہمیں مزید الجھن میں ڈالتی رہی ہیں، اور درج ذیل معلومات ہم اپ تک پہنچانا چاہتے ہیں۔۔۔جس معلومات کا تعلق شریعت سے ہے اس کی ہم مکمل ذمہ داری لیتے ہیں اس کے دلائل اور حوالہ جات ہم پیش کریں گے
لیکن اس کے علاوہ جو معلومات ہے انفارمیشن ہے اس کی ہم تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے پاس اس کی تصدیق یا تردید کے سورس ہی نہیں ہیں
لیکن ہم سوچ تو سکتے ہیں کہ کہیں فلاں بات تو نہیں یا فلاں چال تو نہیں یا واقعی جاہلیت تو نہیں یا یہ درست عمل تو نہیں ہوا۔۔۔؟؟
۔
1۔۔لفظ شیتل سنتے ہی ہمیں پہلا شک ہوا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے کیونکہ یہ اسلامی نام کے طور پر نہیں رکھا جاتا بلکہ یہ دو ہندوانہ نام ہے
۔
2۔۔بھاگ کر محبت کی شادی کرنے والے نوجوان جوڑے۔۔۔ایسے الفاظ استعمال کیے جا رہے تھے جبکہ ویڈیو اور تصویر میں عورت بالکل ایجڈ بڑی عمر کی لگ رہی تھی جس نے مزید ہمیں الجھا دیا
۔
3۔۔اتنے بہادر تھے تو ایک سال کیوں چھپے رہے۔۔۔؟؟
۔
4۔۔اتنے بہادر تھے اور نکاح یقینی تھا تو پھر شیتل کے ہاتھ میں اخری وقت تک قران مجید کیوں تھا۔۔۔۔؟؟
۔
5۔۔ویڈیو کو ہم نے بار بار غور سے سنا لیکن کہیں بھی ہمیں شیتل کے یہ اخری الفاظ سننے کو نہیں ملے کہ میں نے نکاح کیا ہے زنا نہیں کیا۔۔۔جس نے ہمیں مزید الجھن میں ڈال دیا
۔
6۔۔مزید معلومات اتی گئی کہ یہ عید سے پہلے کا واقعہ ہے تو پھر مزید الجھن پیدا ہوئی کہ اخر یہ معاملہ دبایا کیسے گیا۔۔۔کم از کم مرد کے خاندان والے تو اواز اٹھاتے۔۔۔؟؟ کوئی اواز نہ اٹھائی گئی اور اچانک سے ایک بھونچال اگیا۔۔۔؟؟
۔
7۔۔عورت کو نو گولیاں اور مرد کو 18 گولیاں مارنے کی لاجک بھی کوئی سمجھ میں نہیں ائی جس نے مزید الجھا دیا کہ کہیں فسانہ نگاری تو نہیں ہو رہی۔۔۔۔؟؟
۔
8۔۔مزید معلوم ہوا کہ اس واقعے کا سرغنہ پاک فوج کا حمایت یافتہ ہے، جس سے لگا کہ دشمنان پاک فوج نے کوئی چال چلی ہے۔۔۔۔؟؟
۔
9۔۔بلاول بھٹو زرداری نے بیان دیا کہ وزیراعلی بلوچستان اس کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لے۔۔۔اور وزیراعلی بلوچستان صاحب نے بھی کہا کہ میں اس کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لے رہا ہوں،کیا یہ ایک وزیراعلی کی شایان شان ہے۔۔۔؟؟ وزیراعلی بلوچستان صاحب کو کہنا چاہیے تھا کہ ہم ہر اہم معاملے کے کیس کو ٹیسٹ کیس سے بھی زیادہ اہمیت سے دیکھتے ہیں، کوئی ہم پر دباؤ نہ ڈالے۔۔۔لیکن یہ ہمارے لیڈروں کی کم عقلی ہے یا وہ کٹ پتلی بے اختیار ہیں۔۔۔؟؟
۔
10۔۔وزیراعلی بلوچستان صاحب نے کہا کہ میں واضح کر دوں کہ دونوں مقتول اپس میں شادی شدہ نہ تھے۔۔۔کیا یہ بات ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کی جا سکتی ہے۔۔۔؟؟ کیا وزیراعلی صاحب نے ایک طرح سے اپنے جیسے وڈیرے سردار وغیرہ کو دبے لفظوں میں بچانے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے غلط نہیں کیا بلکہ غلط تو مقتول تھے کی شادی کے بغیر ہی ساتھ رہ رہے تھے۔۔۔۔؟؟
۔
11۔۔فقہ کا اصول ہے ہے کہ جہاں ریاست عادلہ نہ ہو وہاں علاقے کا سب سے بڑا عالم شرعی طور پر قاضی کے منصب پر فائز ہو جاتا ہے اگرچہ وہ اپنے اپ کو قاضی نہ کہے۔۔۔۔تو اس صورت میں اگر جرگے نے عالم صاحب سے فتوی لیا ہو کہ بغیر نکاح کے یہ زنا ہو رہا ہے یہ معاشرے میں گندگی بے حیائی پھیلائی جا رہی ہے تو فقہ میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ ایسے فسادی کو معتبر عالم کے فتوے کے بعد گو/لی ماری جا سکتی ہے۔۔۔کہیں یہ کیس اس قسم کا تو نہیں تھا۔۔۔۔؟؟
۔
12۔۔محبت کی شادی ، تعلیمی حقوق، وغیرہ نعرہ تو اچھا ہے لیکن اس نعرے نے جتنی زیادہ بے حیائی ، فحاشی، بے شرمی ، ہٹ دھرمی، والدین سرپرست اکابر قوم قبیلے کی نافرمانی و بدنامی کو فروغ دیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔۔۔اور حکومت مجبورا یا چاہتے ہوئے اس کو فروغ دے تو پھر اس فساد کو چند کیسز کے ذریعے سے عبرت کا نشان بنایا جائے تو ایسا فتوی معتبر عالم دین متبحر دے سکتا ہے
۔
13۔۔جہاں فقہ حنفی میں یہ فتوی موجود ہے کہ عورت کو مجبور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عورت اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے تو اس کے لیے یہ بھی فقہ حنفی میں فتوی موجود ہے کہ عورت کفو یعنی ہم پلہ سے نکاح کرے گی تو چلے گا اگر وہ ایسے شخص سے نکاح کرے کہ جو کفو ہم پلہ نہ ہو بلکہ بدنامی کا باعث ہو تو پھر اس عورت کے ولی وارث کو حق ہے کہ وہ نکاح کو تڑوا دے اور یہ نکاح تڑوانا علاقے کا بہت بڑا عالم متبحر باشعور کروا سکتا ہے اور جو اس کی نہ سنی جائے تو پھر ایسے فسادی کو عبرت ناک سزا دی جا سکتی ہے
۔
14۔۔یہ سزا چونکہ فتنہ فساد کی وجہ سے تھی اس لیے
گو/لی ماری جا سکتی ہے مگر رجم کرنا ضروری نہیں کیونکہ یہ رجم والا جرم تھا ہی نہیں
۔
15۔۔یہ محبت کی شادی ہوئی کیسے مطلب لڑکا لڑکی کی اپس میں جان پہچان اور عشق بازی کیسے شروع ہوئی کیا شریعت کی حدود میں رہ کر ایک دوسرے کو پسند کیا گیا یا پھر شریعت کی حدود کو توڑتے ہوئے ہمسائے کے حقوق کو توڑتے ہوئے یا موبائل فون کے شرعی اصولوں کو توڑتے ہوئے،یہ محبت یعنی فساد برپا ہوا۔۔۔۔؟؟
۔
16۔۔کیا ایسا تو نہیں تھا کہ وہ علاقہ پسماندہ ہونے کی وجہ سے علم سے دور تھا اور ملکی قوانین سے ناواقف تھا۔۔تو ایسے میں جو ان کو معاشرے کے لیے اچھا لگا وہی کیا ہو تو ہمیں انہیں سزا دینی چاہیے یا انہیں علم و شعور دینا چاہیے۔۔۔۔۔؟؟
۔
17۔۔ایسے واقعات کو بنیاد بنا کر “حقوق ، ازادی ، تعلیم” جیسے مروجہ نعرے کہ جو اپنی اصلیت کے مطابق ہیں تو اچھے لیکن معاشرے میں ان نعروں نے تباہی مچا رکھی ہے، یعنی ازادی سے مراد اہستہ اہستہ انگریزوں عیاشوں والی ازادی،حقوق سے مراد انگریزوں والے عیاشوں والے حقوق،تعلیم سے مراد مغرب زدہ ماحول و تعلیم  مراد ہوتی ہے
تو ہمیں ایسے واقعات میں ہمیشہ احتیاط رکھنی چاہیے کہ اس میں اسلام کا دخل ضرور دینا چاہیے مثلا یوں کہنا چاہیے کہ
اسلامی حقوق، اسلامی ازادی و ذمہ داری، اسلامی پابندی،  اسلامی نظام و نصاب والی تعلیم
چاہتے ہیں ہم۔۔۔حقوق ازادی تعلیم کے نام پر فحاشی بے حیائی نافرمانی بدنامی مغربیت وغیرہ کو ٹھکراتے ہیں ہم اور
حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حقوق ازادی تعلیم سب کچھ کو اسلام کے موافق و مطابق کیا جائے۔۔۔ہاں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نعرہ لگانا چاہیے کہ وہ قبائلیت جاہلیت سرداری طاقت و جبر بھی ہمیں منظور نہیں جو اسلام کے موافق نہ ہو
*#ہر چیز کو علماء برحق کی مشاورت سے اسلام موافق کیا جائے*
اس قسم کے نعرے لگانے چاہیے ، مطالبے کرنے چاہیے، اپنے جذبات میں اس طرح اسلام کو لا کر الفاظوں میں بیان کرنا چاہیے تاکہ کوئی بھی چیز وائرل ہو تو اس میں یہ بات وائرل ہو کہ اسلام کو ترجیح دی جائے، جو حکم اسلام دے گا وہی لاگو کیا جائے
۔
واللہ تعالی اعلم  ورسولہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلم بالصواب
۔
https://tahriratehaseer.blogspot.com/?m=1
۔
https://www.facebook.com/share/15dH3sCxWC/
۔
https://www.facebook.com/share/199Wb9nCxw/
۔
میرے واٹسپ چینل کو بھی فالو ضرور فرما لیں۔۔۔کیونکہ واٹسپ نمبر بار بار بلاک ہوتا ہے، اگر ہمیشہ کے لیے بلاک ہو گیا تو نیا نمبر سے واٹسپ چینل پر آ کر اپ سے رابطہ ہو پائے گا۔۔۔واٹس ایپ چینل کا لنک یہ ہے
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5jkhv3bbV8xUTNZI1E
۔
تحریرات سوالات اعتراضات کے جوابات، اہلسنت کے دفاع، معاشرے کی اصلاح و معلومات و تحقیق و تشریح و تصدیق یا تردید وغیرہ کے لیے مجھے وٹسپ کر سکتے ہیں
naya wtsp nmbr
03062524574
میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،،،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔نیز کافی ساری تحقیقات تحریرات معلومات اوپر دیے گئے تین لنکس میں موجود ہے وہاں سرچ کر کے بھی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔۔!!
۔
*#نوٹ*
تحریرات ایک دم یا پھر تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھیے اور ہو سکے تو پھیلائیے اور اپ کو اجازت ہے کہ اپ میری تحریر میں سے لنکس وغیرہ ہٹا دیں حتی کہ میرا نمبر بھی مٹا سکتے ہیں حتی کہ میرا نام مٹا کر فقط کاپی پیسٹ یا کاپی یا کاپڈ لکھ کر پھیلا سکتے ہیں یا ناشر لکھ کر اس کے بعد اپنا نام لکھ کر پھیلا سکتے ہیں۔۔۔ ہمارا مقصود ہے کہ تحقیق علمی تحریر اور حق زیادہ سے زیادہ پھیلے اور ہم بھلائی اچھائی کا سبب بنیں، کسی کی ہدایت کا سبب بنیں، کسی کے ایمان مضبوط ہونے کا سبب بنیں۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر میں نام نمبر اور لنکس اس لیے ڈالتا ہوں تاکہ اگر کسی کو میری تحریر پسند ا جائے تو وہ میری مزید تحریرات پڑھ سکے، اور اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو وہ ڈائریکٹ مجھ سے رابطہ کر سکے، پھیلانے والے شخص کو کوئی تنگ نہ کرے
۔
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New  whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574