أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ۞

ترجمہ:

کام کرنے والے، مشقت برداشت کرنے والے

الغاشیہ : ٣ میں فرمایا : کام کرنے والے، مشقت بردشت کرنے والے۔

کفار پر شدت ِ عذاب

آخرت کے دن کفار کے چہروں پر مشقت ہوگی، کیونکہ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے تکبر کرتے تھے، وہ دوزخ میں مشقت والے عمل کریں گے، وہ زنجیروں اور بھاری اور وزنی طوق گلے میں ڈالے ہوئے گھسیٹ رہے ہوں گے، قرآن مجید میں ہے :

خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ ۔ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ ۔ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوْہُ ۔ (الحاقہ : ٣٠۔ ٣٣)

اس کو پکڑو، پھر اس کو طرق پہنا دو ۔ پھر اس کو دوزخ میں جھونک دو ۔ پھر اس کو ایسی زنجیر میں جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔

ان کی مشقت والا عمل یہ ہوگا کہ وہ زنجیروں اور طوق میں جکڑے ہوئے دوزخ کے شعلوں کی لپیٹ سے کبھی اوپر اٹھیں گے اور کبھی نیچے جائیں گے، نیز دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے وہ میدان محشر میں ایک ہزار سال کے دن میں ننگے، بھوکے پیاسے کھڑے ہوں گے اور یہ ان کا بہت مشقت والا عمل ہوگا۔

حسن بصری نے کہا : ان کو یہ ذلت اور مشقت دنیا میں حاصل ہوگی اور یہ لوگ یہود، نصاریٰ ، بت پرست اور مجوس ہیں، انہوں نے اپنے ذہنوں اور دماغوں میں اللہ تعالیٰ کا جو تصور بنا رکھا تھا، یہ اس کے مطابق دنیا میں عبادت کی مشقت برداشت کرتے رہے، روزے رکھتے اور مشقت والی ریاضتیں کرتے، لیکن ان کی یہ ریاضتیں آخرت میں کسی کام نہ آئیں، اس لیے یہ ذلیل و خوار ہوں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 88 الغاشية آیت نمبر 3