أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ ۞

ترجمہ:

ان کا کھانا صرف حاردار خشک زہریلے درخت سے ہوگا

الغاشیہ : ٦ میں فرمایا : ان کا کھانا صرف خار دار خشک زہریلے درخت سے ہوگا۔

اس آیت میں ” ضریع “ کا لفظ ہے، ” ضریع “ کا معنی ہے : خار دار جھاڑی، حدیث میں ہے :

” الضریع “ ایک گھاس ہے، جس کو شبرق کہا جاتا ہے، اہل حجاز ” الضریع “ سوکھی ہوئی گھاس کو کہتے ہیں اور یہ زہریلی گھاس ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری تفسیر سورة الغاشیہ، باب : ٨٨)

علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

عذاب کی متعدد اقسام ہیں، اسی طرح معذبین کے بھی کئی طبقات ہیں، بعض معذبین تھوہر کے درخت کو کھائیں گے، اور بعض ” غسلین “ کو کھائیں گے اور بعض ” الضریع “ کو کھائیں گے، حضرت ابن عباس نے فرمایا :” الضریع “ آگ کا درخت ہے اور خلیل نے کہا : وہ سبز رنگ کی بد بودار گھاس ہے۔ ( عمدۃ القاری ج ١٩ ص ٤١٦، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 88 الغاشية آیت نمبر 6