أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا لَاغِيَةً ۞

ترجمہ:

جس میں کوئی شخص بےہودہ بات نہیں سنے گا

الغاشیہ : ١١ میں فرمایا : جس میں کوئی شخص بےہودہ بات نہیں سنے گا۔

لغوبات سے مراد ہے : فضول، عبث اور بےکار بات، قرآن مجید میں ہے :

لا یسمعون فیھا لغوا (مریم : ٦٢) وہ جنت میں فضول بات نہیں سنیں گے۔

جنت میں لغو بات نہ سننے کی وجوہ

جنت میں لغوت بات نہ سننے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) جنت لغو باتوں سے پاک ہے کیونکہ جنتی گویا کہ اللہ تعالیٰ کے پڑوسی ہیں اور انہوں نے جنت کو نیکی اور حق سے حاصل کیا ہے نہ کہ لغو اور باطل سے، اسی طرح دنیا کی ہر وہ مجلس جو شریف اور معزز ہو، وہ لغو باتوں سے پاک ہوتی ہے اور جس مجلس میں لغو باتیں نہ ہوں اور وقار جس قدر زیادہ ہو، اس کی عزت اور جلالت اس قدر زیادہ ہوتی ہے۔

(٢) زجاج نے کہا : اہل جنت صرف حکمت کی باتیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ نے جو ان کو نعمتیں عطاء فرمائی ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کریں گے۔

(٣) مقاتل نے کہا : جس طرح دنیا میں لوگ شراب پیتے وقت ہلڑ مچاتے ہیں، جنت میں شراب پیتے وقت ایسا نہیں ہوگا۔

(٤) جنت میں لوگ ایسی باتیں نہیں کریں گے، جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو یا ان کو ایذاء پہنچے۔

القرآن – سورۃ نمبر 88 الغاشية آیت نمبر 11