کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 50 حدیث 207
٥- بَابُ مَنْ لَّمْ يَتَوَضًا مِنْ لَحْمِ الشَّاةِ وَالسَّوِيقِ
جس شخص نے بکری کا گوشت اور ستو کھا کر وضو نہیں کیا
اس عنوان میں بکری کا ذکر قید احترازی نہیں ہے، کسی بھی حلال جانور کا پکا ہوا گوشت کھانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا اسی طرح ستو ہو یا آگ پر پکی ہوئی کوئی اور چیز ہو، اس کے کھانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا۔ اس باب کی سابقہ ابواب کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ یہ تمام ابواب احکام وضوء پر مشتمل ہیں ۔
واكل أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَتَوَضَّؤُوا۔
اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم نے کھایا پھر وضوء نہیں کیا۔
امام بخاری نے یہ مکمل حدیث کا ایک قطعہ ذکر کیا ہے مکمل حدیث امام طبرانی متوفی ۳۶۰ھ نے ” مسند الشامین “ میں ذکر کی ہے۔
سلیمان بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان کو دیکھا، انہوں نے آگ کی پکی ہوئی چیز کو کھایا اور وضو نہیں کیا۔ ( بہ حوالہ عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۵۴)
نیز اس حدیث کی امام ابن ابی شیبہ متوفی ۲۳۵ھ نے بھی روایت کی ہے:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا انہوں نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ (مصنف ابن ابی شیبه : 521، دار الکتب العلمیہ بیروت)
۲۰۷ – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاس أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَيْفَ شَّاةٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّاً.
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از زید بن اسلم از عطاء بن یسار از عبداللہ بن عباس که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ (کندھا) کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا۔
اطراف الحدیث: ۵۴۰۴ – ۵۴۰۵]
( صحیح مسلم : 354، الرقم المسلسل :۷۷۲، سنن ابوداؤد : ۱۸۷ سنن ابن ماجه: ۴۹۰، المنتقی : ۲۲، صحیح ابن خزیمہ: 39،40 سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۵۳ صحیح ابن حبان : ۱۱۳۳ المعجم الكبير :۱۰۷۸۹ مسند احمد ج اص ۲۲۷ طبع قدیم مسند احمد : ۲۰۰۲ ج ۳ ص 455 مؤسسة الرسالة بيروت )
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا کندھا کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
اس حدیث کے تمام رجال کا پہلے تعارف کیا جاچکا ہے۔
آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضوء نہ کرنے کے متعلق احادیث
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے انہوں نے آپ کے لیے کندھے کا گوشت پکایا تھا آپ نے اس سے کھایا، پھر گھر سے نکلے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
(سنن ترمذی: ۱۸۲۹ سنن نسائی: ۱۸۲ سنن ابن ماجہ: ۴۹۱ مسند احمد ج ۶ ص 307، شرح معانی الآثار : 265
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت نے ہماری دعوت کی اُس نے ہمارے لیے ایک بکری کو ذبح کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب روٹی اور گوشت رکھا، آپ نے اس سے کھایا، پھر پانی منگا کر وضوء کیا، پھر ظہر کی نماز پڑھائی پھر بقیہ طعام منگایا پھر آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔
(شرح معانی الآثار: 370، سنن ابوداؤد : 191، سنن ترمذی: ۸۰ سنن ابن ماجه 489، مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۴۷ سنن بیہقی ج ا ص 56
ام حکیم بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے کندھے کا گوشت کھایا، پھر حضرت بلال نے اذان دی آپ نے نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا۔ (مسند احمد ج ۲ ص 416، المعجم الکبیر ج ۲۵ ص ۸۴ شرح معانی الآثار :۳۷۳)
عبید اللہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری کا پیٹ پکایا’ آپ نے اس سے کھایا پھر عشاء کی نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ (المعجم الکبیر ج ۲۵ ص ۸۵ – ۸۴ شرح معانی الآثار : ۳۷۴)
علامہ بدرالدین عینی حنفی نے اس کی مثل ایک حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ بکری کے پیٹ سے مراد ہے : جس پر اس کا پیٹ مشتمل ہو یعنی انتڑیاں ۔ (نخب الافکار فی تنقیح مبانی الاخبار ج ا ص 388 قدیمی کتب خانہ کراچی)
ام عامر بنت یزید ایک خاتون ہیں، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گوشت والی ہڈی لے کر آئیں آپ نے اس سے گوشت کھایا پھر آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا۔
المعجم الكبير ج ۲۵ ص 149 – 148 شرح معانی الآثار: ۳۸۲)
امام ترندی نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر اصحاب کا اس پر عمل ہے اور تابعین کا اور ان کے بعد کے فقہاء کا جیسے سفیان ثوری، ابن المبارک، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق انہوں نے گمان کیا کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے کھانے کے بعد وضوء واجب نہیں ہوتا اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو کاموں میں سے آخری کام ہے اور سنن ترمذی: ۸۰ اس سے پہلی حدیث کے لیے ناسخ ہے جس میں آگ سے پکی ہوئی چیز کو کھانے کے بعد وضوء کرنے کا حکم دیا تھا۔ (سن ترمذی ص 50،51 ، دار المعرفه پیروت 1423ھ)
آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضوء کرنے کا حکم اور اس کا منسوخ ہونا
جن احادیث میں آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضوء کرنے کا ذکر یا حکم ہے وہ حسب ذیل ہیں:
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر کا ایک ٹکڑا کھایا، پھر اس سے وضوء کیا۔
المعجم الکبیر ج ۵ ص ۱۰۵ شرح معانی الآثار : ۳۳۹)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کو آگ نے متغیر کر دیا ہو، اس سے وضوء کرو۔ ( صحیح مسلم : 352، الرقم المسلسل : ۷۷۱ سنن نسائی : ۱۷۱ شرح معانی الآثار: ۳۴۰)
سعید بن ابی سفیان بن المغیرہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے ان کے لیے ستو منگائے، انہوں نے پی لیے پھر حضرت ام حبیبہ نے کہا: اے بھتیجے ! وضوء کرو، انہوں نے کہا: میں نے تو وضو نہیں توڑا حضرت ام حبیبہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس چیز کو آگ نے چھوا ہوا اس سے وضوء کرو ۔
( سنن ابوداؤد : ۱۹۵ سنن نسائی : ۱۸۱ – ۱۸۰ شرح معانی الآثار : ۳۴۴)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس چیز کو آگ نے متغیر کر دیا ہو اس سے وضوء کرو خواہ پنیر کے ٹکڑے سے۔ (سنن ترمذی: ۷۹ سنن ابوداؤد : ۱۹۴ صحیح مسلم : 352، سنن نسائی: ۱۷۵ – ۱۷۴ – ۱۷۳ ۱۷۲ سنن ابن ماجه: ۴۸۵ مصنف عبدالرزاق : ۶۶۱ مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۵۰ مسند احمد ج ۲ ص ۴۷۹-۴۷۸-۴۷۰ شرح معانی الآثار : 347، سنن بیہقی ج اص 155
یہ احادیث ان احادیث سے منسوخ ہو چکی ہیں، جن میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ سے پکی ہوئی چیز کو کھانے کے بعد وضو نہیں کیا اور نماز پڑھی یا نماز پڑھائی اور جیسا کہ امام ترمذی نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کام یہی تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جن احادیث میں آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضوء کرنے کا ذکر ہے اس سے مراد وضوء لغوی ہو یعنی صرف ہاتھ دھونا اور کلی کرنا۔۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم 696، – ج ا ص 1040، پر مذکور ہے اسکی شرح میں بتایا ہے کہ جن احادیث میں آگ سےنپکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضوء کرنے کا حکم ہے وہ منسوخ ہیں یا اس وضوء سے مراد لغوی وضوء ہے۔