کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 50 حدیث 208
۲۰۸- حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی جَعْفَرُ بن عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَای رَسُولَ اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَز مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَدْعِی إلَى الصَّلوةِ ، فَالْقَى السِّكِينَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّا.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: مجھے یحیی بن بکیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از عقیل از ابن شہاب انہوں نے کہا: مجھے جعفر بن عمرو بن امیہ نے خبر دی بے شک ان کو ان کے والد نے خبر دی کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے کندھے کا گوشت چھری سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے پھر نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ نے چھری ایک طرف رکھ دی، پس نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا۔
اطراف الحدیث : 676 – ۲۹۲۳ – ۵۴۰۸ – ۵۴۲۲ – ۵۴۶۲)
( صحیح مسلم : ۳۵۵- ۷۷۴ سنن ابن ماجہ : 490، مسند ابو داؤد الطیالسی: 1255، مسند ابو یعلی : 6878، صحیح ابن حبان : ۱۱۵۰ مصنف ابن ابی شیبه ج ا ص ۴۸ سنن بیہقی ج ۱ ص ۵۳ الا حاد والمثانی: ۹۶۹ ، مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۹ طبع قدیم، مسند احمد :۱۷۲۴۹ – ج ۲۸ ص ۴۸۶)
چھری سے گوشت کاٹ کر کھانے پر ایک فنی اعتراض کا جواب
اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھری سے گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے اس پر یہ اعتراض ہے کہ ” سنن ابوداؤد میں اس کے خلاف حدیث ہے وہ یہ ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم گوشت کو چھری سے کاٹ کر نہ کھایا کرو کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، تم گوشت کو دانتوں سے کاٹ کر کھایا کرو کیونکہ یہ زیادہ خوش ذائقہ اور زیادہ لذیذ ہے۔ (سنن ابوداؤد : ۳۷۷۸)
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام ابو داؤد نے لکھ دیا ہے کہ یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
اس حدیث میں نماز کے لیے بلانے والے کا ذکر نہیں ہے اور وہ حضرت بلال تھے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ مؤذن کے لیے امام کو بلانا جائز ہے۔
اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۹۹ – ج ا ص ۱۰۴۰ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔