اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Thursday، 24 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ ۞
ترجمہ:
وہ ارم کے لوگ تھے، ستونوں جیسے لمبے قد والے
الفجر : ٧ میں فرمایا : وہ ارم کے لوگ تھے، ستونوں جیسے لمبے قدوالے۔
علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ان میں سے لمبے قد کا آدمی پانچ سو ذراع کا ہوتا تھا ( ایک ذراع ڈیڑھ فٹ کا ہے) اور ان میں سے چھوٹے قد کا آدمی تین سو ذراع کا ہوتا تھا، حضرت ابن عباس (رض) سے دوسری روایت یہ ہے کہ ان کا قدستر (٧٠) ذراع کا ہوتا تھا، علامہ ابن العربی نے کہا : یہ روایت صحیح نہیں ہے، کیونکہ حدیث صحیح میں ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کا طول ہوا میں ساٹھ ذراع تھا، پھر اب تک مخلوق کا قد تدریج کم ہوتا رہا ہے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٢٢٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤١ )
قتادہ نے کہا : ان میں سے ایک آدمی کا طول بارہ ذراع کا ہوتا تھا۔
یہ لوگ ستون کھڑے کر کے ان کے اوپر مکان بناتے تھے، اس لیے ان کو ستون والے فرمایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے لمبے قد کی وجہ سے ان کو ستون والے فرمایا۔ ضحاک نے کہا کہ ستون والے سے مراد ہے : وہ بہت زیادہ قوت والے تھے، اس کی دلیل یہ آیت ہے :
وقالوا من اشد منا قوۃ ( حم السجدہ : ١٥) انہوں نے کہا : ہم سے زیادہ طاقت والا کون ہے ؟
القرآن – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 7