برطانیہ میں “توہین رسالت قانون” کا خاتمہ: پاکستان میں بھی وہی مرحلہ وار منصوبہ؟

توہینِ رسالت ﷺ کا قانون پاکستان میں محض آئینی دفعہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے دینی جذبات اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا آئینہ دار ہے۔ یہی وہ قانون ہے جس پر عوام کے دل دھڑکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اگر کوئی حکومت یا ادارہ اس قانون کے خاتمے کی کوشش کرے تو عوامی ردِعمل ایک طوفان کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے: کیا دشمنانِ دین اس قانون سے مایوس ہو کر خاموش بیٹھے ہیں؟ ہرگز نہیں!

یہ عناصر تاریخ سے سیکھ چکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کسی “حساس قانون” کو براہِ راست ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا، بلکہ اس کو غیر مؤثر بنانے کا طریقہ زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔ یعنی:

1. عوام کے شعور سے اس قانون کی اہمیت ختم کر دی جائے۔

2. عدالتی تشریحات کے ذریعے اس کی طاقت کو ختم کر دیا جائے۔

3. اور آخرکار اسے کاغذی طور پر ختم کر دیا جائے۔

یہی حکمت عملی برطانیہ میں اختیار کی گئی تھی، اور اب اسی ماڈل کو پاکستان میں لاگو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔



🔹 برطانیہ میں توہین رسالت قانون کی تاریخ

برطانیہ میں “Blasphemy Law” (مسیحی عقائد کی توہین پر مبنی) صدیوں سے موجود رہا۔ کئی افراد کو اس قانون کے تحت سزائیں دی گئیں، جن میں مشہور نام Thomas Aikenhead (1697) شامل ہے، جسے یسوع مسیح کے متعلق “کفر آمیز الفاظ” کہنے پر سزائے موت دی گئی۔
🔹 حوالہ: Andrew Sneddon, “Aikenhead the Atheist: The Trial and Execution of an Edinburgh Student, 1696–7,” The Scottish Historical Review, Vol. 83, No. 2 (2004), pp. 194–207.

بعد ازاں عدالتوں نے آہستہ آہستہ ان قوانین کی تشریح کو محدود کرنا شروع کیا۔
1817 میں “William Hone Case” میں جسٹس ایلن پارک نے کہا کہ ہر طنز یا نکتہ چینی گستاخی نہیں سمجھی جائے گی، بلکہ بدنیتی کو معیار بنایا جائے گا۔

1883 میں “Foote Case” میں Chief Justice Coleridge نے واضح کیا:

> “Every criticism is not blasphemy; the intention to maliciously ridicule is essential.”
🔹 حوالہ: Foote’s Trial for Blasphemy (1883), Old Bailey Proceedings Online.

1921 میں John William Gott کو آخری بار اس قانون کے تحت سزا ہوئی۔ اس کے بعد اس قانون کا استعمال تقریباً بند ہو گیا، اور 2008 میں پارلیمنٹ نے مکمل طور پر اسے منسوخ کر دیا۔
🔹 حوالہ: Criminal Justice and Immigration Act 2008 (UK), Section 79.



🔹 پاکستان میں وہی ماڈل دہرایا جا رہا ہے

پاکستان میں توہینِ رسالت ﷺ کا قانون دفعہ 295 (B, C) کے تحت موجود ہے۔ لیکن اب “نیت” یعنی intent کو بطور دفاع سامنے لا کر اس قانون کی بنیادیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں میں “بدنیتی کے ثبوت” کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔
اس عدالتی رجحان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر بدنیتی ثابت نہ ہو تو “توہین” تسلیم ہی نہیں کی جائے گی۔

یہی وہ نکتہ ہے جس سے برطانیہ میں قانون کو غیر مؤثر کیا گیا، اور یہی اسٹیج اب پاکستان میں ترتیب دی جا رہی ہے:

مقدمات کے اندراج میں مشکلات

گرفتاری کے لیے سخت شرائط

پراسیکیوشن میں غیر فطری رکاوٹیں

عدالتی تحفظات اور “بدنیتی” کا دفاع

یہ تمام عناصر ایک واضح منصوبے کا حصہ محسوس ہوتے ہیں: قانون کو کاغذ پر زندہ رکھنا مگر عملی سطح پر ختم کر دینا۔



🔹 عوامی شعور کو مفلوج کرنے کی سازش

جب عدالتیں مقدمات کو خارج کرنے لگتی ہیں، جب پراسیکیوشن ناکام ہوتی ہے، جب “نیت” اور “محرک” کے نام پر دفاع مضبوط ہو جاتا ہے—تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ قانون صرف ایک دفعہ بن کر رہ جاتا ہے۔ عوام اسے سنجیدہ لینا چھوڑ دیتے ہیں، اور پھر جب اسے رسمی طور پر ختم کیا جاتا ہے تو کوئی مزاحمت باقی نہیں رہتی۔

برطانیہ میں یہی ہوا، اور اب پاکستان کو بھی اسی راہ پر چلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔



🔸 نتیجہ: خبردار ہو جائیے!

یہ وہ وقت ہے جب قانون ختم نہیں کیا جا رہا، بلکہ اسے کھوکھلا کرنے کا عمل جاری ہے۔
اگر ہم نے اس وقت چپ سادھ لی، تو کل جب یہ قانون رسمی طور پر ختم کیا جائے گا تو ہم فقط ماضی کو یاد کرنے کے قابل رہ جائیں گے۔

یہ ایک “خاموش انقلاب” ہے، جو قانونی الفاظ، عدالتی فیصلوں اور علمی اصطلاحات میں لپٹا ہوا ہے، لیکن اس کا نتیجہ دین اور شعور کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔



📌 حوالہ جات برائے مزید مطالعہ:

1. Sneddon, Andrew. “Blasphemy and the Law in Britain.” The Journal of Ecclesiastical History, Cambridge University Press.

2. Levy, Leonard W. Blasphemy: Verbal Offense Against the Sacred, from Moses to Salman Rushdie.

3. Criminal Justice and Immigration Act 2008, UK Government Legislation.

4. Old Bailey Proceedings: Trials for Blasphemy (Foote, Gott, Hone Cases).