کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 53 حدیث 212
٥٣- بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ
نیند سے وضوء کرنا
وَمَنْ لَمْ يَرَ مِنَ النَّعْسَةِ وَالنَّعْسَتَيْنِ أَوِ الْخَفْقَةِ وضوءا.
اور جس کے نزدیک ایک مرتبہ اونگھنے سے اور دو مرتبہ اونگھنے سے یا نیند کا جھونکا لینے سے وضوء نہیں ٹوٹتا۔
اونگھ، نیند کے جھونکے اور نیند میں فرق
اونگھ کا معنی یہ ہے کہ انسان کے حواس برقرار ہوں اور وہ اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص کی بات سن رہا ہو لیکن اس کا معنی نہ سمجھ رہا ہو اس کو عربی میں ” النعسة “ کہتے ہیں اور اگر اس کے ساتھ سر بھی نیچے کی طرف ہل رہا ہو اورٹھوڑی سینے میں لگ رہی ہوتو وہ نیند کا جھونکا ہے اس کو عربی میں ” الْخَفْقَةِ ” کہتے ہیں اور اگر اس کے حواس برقرار نہ رہیں اور اس کو اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کی آواز سنائی نہ دے تو پھر وہ نیند ہے نیند کی علامت خواب دیکھنا ہے خواہ خواب طویل ہو یا قصیر ہو۔
نیند سے وضوء ٹوٹنے میں مذاہب
علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں: نیند سے وضوء ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے متعلق حسب ذیل اقوال ہیں:
(۱) حضرت ابو موسیٰ اشعری اور سعید بن المسیب نے کہا: نیند سے کسی حال میں وضو نہیں ٹوٹتا۔
(۲) الحسن البصری اور المزنی نے کہا: نیند سے ہر حال میں وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(۳) الز ہری، الاوزاعی ،امام مالک اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کے نزدیک کثیر نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور قلیل نیند سے کسی حال میں بھی وضو نہیں ٹوٹتا۔
(۴) امام ابوحنیفہ ،داؤد اور امام شافعی کا ایک قول ہے: جب کوئی شخص نماز کی کسی حالت میں سو جائے، مثلاً رکوع، سجدہ، قیام اور قعود میں تو اس سے وضوء نہیں ٹوٹتا ، خواہ وہ نماز میں ہو یا نہ ہو اور اگر وہ کروٹ کے بل یا چت لیٹ کر سو جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(۵) امام احمد کا ایک قول یہ ہے کہ صرف رکوع کی حالت میں سونے سے وضوء ٹوٹتا ہے۔
(6) امام احمد کا دوسرا قول یہ ہے کہ صرف سجدہ کی حالت میں سونے سے وضو ٹوٹتا ہے۔
(۷) امام شافعی کا قول یہ ہے کہ نماز میں نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا اور خارج نماز میں نیند سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔
(۸) امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ جب کوئی شخص زمین پر جم کر بیٹھ کر سو جائے تو اس سے وضوء نہیں ٹوٹتا، خواہ وہ نماز میں ہو یا غیر نماز میں اور خواہ وہ تھوڑی دیر سوئے خواہ زیادہ دیر۔
(۹) ابن المبارک کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مصلی پر سجدہ میں سو جائے اس کا وضو نہیں ٹوٹتا اور اگر غیر نماز میں سجدہ میں سو جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اگر عمدا نماز میں سوجائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(۱۰) علامہ ابوبکر بن العربی نے کہا: احادیث سے ثابت ہے کہ گیارہ حالتوں میں ہمارے سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے: (۱) چلتے ہوئے (۲) کھڑے ہوئے (۳) ٹیک لگا کر (۴) رکوع میں (۵) قیام میں (۲) چار زانو بیٹھے ( 2 ) اکڑوں بیٹھے ہو، گھٹنوں کو ہاتھوں کے حلقہ میں لے کر (۸) سجدے میں (۹) سواری کی حالت میں (۱۰) کروٹ کے بل لیٹ کر (۱۱) چت لیٹ کر اور سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کہ کسی حالت میں سونے سے آپ کا وضوء نہیں ٹو تھا۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۶۳ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
۲۱۲- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَعَسَ اَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلَّى فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فیسب نفْسَه .
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ہشام از والد خود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو نماز کی حالت میں اونگھ آجائے تو وہ سوجائے، حتی کہ اس کی نیند چلی جائے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص اونگھنے کی حالت میں نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو پتا نہیں چلتا، شاید کہ وہ (اپنے نزدیک ) دعاء استغفار کرے اور وہ (حقیقت میں ) خود کو بُرا کہہ رہا ہو۔
(صحیح مسلم:۷۸۶ الرقم المسلسل : ۱۸۰۴ سنن ابوداؤد: ۱۳۱۰، سنن ترندی: 355، سنن نسائی: ۱۶۴ سنن ابن ماجہ: ۱۳۷۰ مسند ابوعوانہ ج۲ ص 297، مشکل الآثار : 3435، صحیح ابن حبان : ۲۵۸۳ سنن بیہقی ج ۳ ص ۱۶ معرفة السنن والآثار : 5429، شرح السنته : ۱۹۴۰ مسند الحمیدی: ۱۸۵ مسند اسحاق بن راھویہ : ۶۱۷ المعجم الاوسط : ۸۱۳۴ مسند احمد ج ۶ ص ۵۶ طبع قدیم مسند احمد : ۲۴۲۸۷- ج ۴۰ ص ۳۳۱ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مناسبت اس حیثیت سے ہے کہ جب نماز میں اس پر نیند مستغرق ہو اور وہ بجائے مغفرت طلب کرنے کے یہ کہے کہ میری مغفرت نہ کر تو پھر وہ نماز منقطع کر کے سو جائے اور جب اس سے کم نیند ہو اور اونگھ ہو یا ایک دو مرتبہ نیند کا جھونکالے تو پھر وہ معاف ہے اور اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔
نماز میں غلبہ نیند کے وقت دوبارہ نماز پڑھنے کے فوائد اور اگر نیند کا غلبہ نہ ہوتو وضوء کا نہ ٹوٹنا
(1) اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب نماز میں نیند غالب ہو تو انسان نماز کو منقطع کر دے اور اس وقت اس کا وضوء بھی ٹوٹ جائے گا۔
(۲) جب نماز میں نیند غالب نہ ہو ،صرف اونگھ ہو یا نیند کا جھونکا ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔
(۳) نماز میں دعا مانگنی چاہیے اور اس میں کوئی تعین نہیں ہے تا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت ابوبکر کونماز میں حسب ذیل دعا مانگنے کے لیے فرمایا ہے: ” اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْماً كَثِيرًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةٌ مِنْ عِنْدِكَ وارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمِ” (صحیح البخاری : 834، صحیح مسلم : ۲۷۰۵ سنن ترمذی: 3531، سنن نسائی : ۱۲۹۸ سنن ابن ماجه: ٬۳۸۳۵ مسند احمد ج ۱ ص ۳ طبع قدیم مسند احمد : ۸ مؤسسة الرسالة بیروت)
(۴) عبادات میں احتیاط پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہو سکتا تھا کہ انسان نیند کے غلبہ میں اپنے لیے دعا کے بجائے بددعا کرے، اس لیے آپ نے فرمایا کہ وہ ایسی حالت میں نماز منقطع کر دے اور سو جائے اور جب نیند دور ہو جائے تو پھر نماز پڑھے۔
(۵) نماز میں حضور قلب اور خضوع اور خشوع کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ نیند کے غلبہ میں ذہن حاضر نہیں رہتا، اس لیے خضوع اور خشوع نہیں ہو سکتا۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۷۳۲ – ج ۲ ص 564، پر ہے وہاں اس کی شرح میں صرف دو سطر میں لکھی گئی ہیں ۔
[…] حدیث کے مسائل صحیح البخاری : ۲۱۲ کے مسائل کی مثل […]