أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ارۡجِعِىۡۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً‌ ۞

ترجمہ:

تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ جا کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے نفس مطمئنہ !۔ تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ جا کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پھر تو میرے نیک بندوں میں داخل ہوجا۔ اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ ( الفجر : ٣٠۔ ٢٧ )

نفس مطمئنہ کے اپنے رب کی طرف لوٹنے اور جنت میں داخل ہونے کی تفسیر امام ابو منصور ماتریدی سے

الفجر : ٣٠۔ ٢٨ میں فرمایا : تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ جا کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پھر تو میرے نیک بندوں میں داخل ہوجا۔ اور میری جنت میں داخل ہوجا۔

امام ابو منصور محمد بن ماتری حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

نفس مطمئنہ وہ نفس ہے جو پر سکون ہو اور شک میں نہ ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے وعد، وعید، امر، نہی اور اس کی توحید پر مطمئن ہو، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے دنیا میں یہ کہا جائے گا کہ جہاں تجھے تیرے رب نے حکم دیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے وعد اور وعید پر مطمئن ہو کر وہاں لوٹ جا، پھر اس نفس سے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے جس انعام کا وعدہ کیا ہے، وہ اس کو عطاء فرمائے گا تو وہ اس سے راضی ہوجائے گا اور چونکہ اس نے دنیا میں نیکی کے کاموں میں بہت کوشش کی ہوگی، اس لیے وہ اپنے رب کے نزدیک بھی مرضیہ اور پسندیدہ ہوگا، اس سے کہا جائے گا : تو میرے نیک بندوں میں داخل ہوجا اور تو ان میں داخل ہوجا، جو جنت کے مستحق ہیں۔

اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نفس مطمئنہ سے آخرت میں یہ کہا جائے کہ اے نفس ! تو دنیا میں اللہ کے وعد اور اس کی وعید پر مطمئن تھا اور تو نے دنیا میں اس کی اطاعت اور عبادت کی، اب تو میرے نیک بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔

ایک قول یہ ہے کہ اس سے کہا جائے گا : اے نفس ! تو دنیا میں مطمئن تھا، اب تو آخرت کی طلب میں جا اور ان چیزوں کی طرف جا، جن کو اللہ نے اپنے اولیاء کے لیے تیار رکھا ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ اس سے کہا جائے گا : اے نفس مطمئنہ ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹ جا، جب تو ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوجائے گا اور تو بھی اللہ تعالیٰ کی عطاء اور ثواب سے راضی ہوجائے گا۔

( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٤٥٦، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

نفس مطمئنہ کے اپنے رب کی طرف لوٹنے اور جنت میں داخل ہونے کی تفسیر امام رازی سے

امام فخر الدین محمد بن رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

” راضیۃ مرضیۃ۔ “ ( الفجر : ٢٨) کا معنی ہے : تو ثواب سے راضی ہے اور تو نے دنیا میں جو نیک اعمال کیے ہیں، ان کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرضیہ اور پسندیدہ ہے اور ” فاد خلی فی عبدی۔ “ (الفجر : ٢٩) کا معنی ہے : تو میرے مقرب بندوں میں شامل ہوجا اور یہ بہت معزز حالت ہے کیونکہ ارواح ِ شریفہ قدسہ شفاف آئینوں کی طرح ہیں اور جب بعض مقربین کی روحیں ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں تو جس طرح شفاف آئینوں میں ایک دوسرے کے عکوس منعکس ہوتے ہیں تو ہر ایک کی سعادت کے آثار سب میں ظاہر ہوں گے اور ان کی روحانیت کے درجات بہت عظیم ہوں گے اور ” وادخلی جنتی۔ “ ( الفجر : ٣٠) کا معنی ہے کہ نیک روحوں کو روحانی جنت تو موت کے وقت ہی حاصل ہوجاتی ہے، اب آخرت میں جسمانی جنت بھی ان کو حاصل ہوجائے گی اور جب کہ جسمانی جنت کی سعادت قیامت کے بعد ہی حاصل ہوگی، اس لیے ” وادخلی جنتی۔ “ کو وائو کے ساتھ فرمایا ہے، فاء کے ساتھ نہیں فرمایا کیونکہ نفس مطمئنہ کو جسمانی جنت موت کے فوراً بعد حاصل نہیں ہوگی اور ” فادخلی فی عبدی “ کو فاء کے ساتھ فرمایا ہے کیونکہ نفس مطمئنہ موت کے فوراً بعد دیگر مقربین کی ارواح میں شامل ہوجائے گی۔

( تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٦٣۔ ١٦٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

نفس مطمئنہ کے اپنے رب کی طرف لوٹنے اور جنت میں داخل ہونے کی تفسیر علامہ آلوسی سے

علامہ سید محمد آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ ” ارجعی الی ربک “ ( الفجر : ٢٨) سے مراد یہ ہے کہ اپنے رب کی کرامت کی طرف رجوع کر اور میرے نیک بندوں میں اور دار ثواب میں داخل ہوجا، اس سے مراد یہ ہے کہ یہ قول موت کے وقت کہا جائے یا محشر میں حساب سے پہلے اور دخول میں مراد جنت میں دخول ہے، لیکن دائمی قیام کے لیے نہیں بلکہ جنت کی نعمتوں سے ایک قسم کا تمتع حاصل کرنے کے لیے حتیٰ کہ قیامت قائم ہوجائے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ مؤمنین کی روحیں جنت میں پرندوں کے پوٹوں میں ہوں گی اور بعض آثار میں ہے کہ جب مومن مرجاتا ہے تو اس کو نصف جنت عطاء کی جاتی ہے، یعنی اس جنت کا نصف جس کا اس سے قیامت کے دن دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

امام بن جریر، امام ابن المنذر اور امام ابن ابی حاتم نے ابو صالح سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے، یہ موت کا عنوان ہے اور دنیا سے نکل کر اپنے رب کی طرف رجوع کا ذکر ہے اور جب قیامت کا دن ہوگا تو اس سے کہا جائے گا : میرے نیک بندوں میں اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ موت کے بعد اور قیامت سے پہلے نفس مطمئنہ سے یہ کہا جائے گا اور اپنے رب کی طرف رجوع کرنے سے مراد یہ ہے کہ اپنے جسم کی طرف لوٹ جاتا کہ منکر نکیر کے سوالوں کا جواب دے سکے، امام ابن منذر نے اس آیت کی تفسیر میں محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا ہے کہ جب مومن مرجاتا ہے تو اس کو جنت میں اس کا مقام دکھایا جاتا ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : اے نفس مطمئنہ ! اپنے اس جسم کی طرف لوٹ جا، جس سے تو راضی ہو کر نکلی تھی کیونکہ تو نے میرے پسندیدہ اور مرضیہ ثواب کو دیکھ لیا تھا حتیٰ کہ تجھ سے منکر اور نکیر سوال کریں۔

امام ابن المنذر اور امام ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ نفس مطمئنہ کو موت کے وقت، قبر سے نکلنے کے وقت اور میدانِ محشر میں جنت کی بشارت دی جائے گی۔

اس آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کافر کے نفس کے متعلق بتایا تھا، وہ کہے گا : کاش ! میں نے زندگی میں کوئی نیکی آگے کے لیے بھیجی ہوتی۔ سو اس دن اس کے عذاب کی طرح کوئی عذاب نہ دے گا۔ اور نہ کوئی اس کے جکڑنے کی طرح جکڑے گا۔

(الفجر : ٢٦۔ ٢٤ )

اور ان آیتوں میں مومن کے نفس کے لیے یہ بشارت دی ہے کہ اس سے کہا جائے گا : اے نفس مطمئنہ ! تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ جا کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پھر تو میرے نیک بندوں میں داخل ہوجا۔ اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ ( الفجر : ٣٠۔ ٢٧ )

صوفیاء نے کہا ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کے نفس کے تین مراتب ہیں : مطمئنہ، راضیہ اور مرضیہ۔

امام طبرانی اور امام ابن عساکر نے حضرت ابو امام (رض) سے روایت کیا ہے کہ آپ نے ایک شخص سے فرمایا : ( یہ دعا کرو کہ) اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے نفس مطمئنہ کا سوال کرتا ہوں جو تیری ملاقات پر یقین رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو اور تیری عطاء پر قائع ہو۔ ( المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٤٩٠، مسند الشامیین رقم الحدیث : ١٥٩٨)

( روح المعانی جز ٣٠ ص ٣٣٨۔ ٢٣٦، ملخصاً ، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

سورۃ الفجر کی تکمیل

الحمد للہ رب العٰلمین ! آج ٧ رمضان ١٤٢٦ ھ/١٢ اکتوبر ٢٠٠٥ ء کو سورة الفجر کی تفسیر مکمل ہوگئی، رب العٰلمین ! باقی سورتوں کی تفسیر مکمل فرما دیں، اور میری، میرے والدین، اس کتاب کے معاونین اور قارئین کی مغفرت فرما دیں اور مخالفین کے شر سے محفوظ رکھیں۔ ( آمین)

و صلی اللہ تعالیٰ علیہ حبیبہ سیدنا خاتم النبیین اکرم الاولین والاخرین وعلیٰ آلہ و اصحابہ وازواجہ و ذریتہ وامتہ اجمعین۔

القرآن – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 28