كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الۡاَرۡضُ دَكًّا دَكًّا سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 21
sulemansubhani نے Thursday، 31 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الۡاَرۡضُ دَكًّا دَكًّا ۞
ترجمہ:
بیشک جب زمین پاش پاش کر کے ریزہ ریزہ کردی جائے گی
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جب زمین پاش پاش کر کے ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے صف بہ صف حاضر ہوں گے۔ اور اس دن دوزخ کو لایا جائے گا، اس دن انسان یاد کرے گا اور اب کہاں یاد کرنے کا وقت ہے۔ وہ کہے گا : کاش ! میں نے زندگی میں کوئی نیکی آگے کے لیے بھیجی ہوتی۔ سو اس دن اس کے عذاب کی طرح کوئی عذاب نہ دے گا۔ اور نہ کوئی اس کے جکڑنے کی طرح جکڑے گا۔ ( الفجر : ٢٦۔ ٢١ )
قیامت کے دن کفار اور فساق فجار کا کف افسوس ملنا
الفجر : ٢١ میں بھی پہلے ” کلا “ کا لفظ ہے اور یہ لفظ کافروں کے گمان اور ان کے زعم کو مسترد کرنے کے لیے ہے کہ کافر دنیا کی حرص کر رہے ہیں اور یتیم کا مال ہڑپ کر رہے ہیں اور اس کے حقوق کا تحفظ نہیں کر رہے اور اس کی تادیب، تربیت اور تکریم نہیں کر رہے ہیں اور اپنے ان کاموں کو اچھا سمجھ کر ان کاموں پر خوش ہو رہے ہیں، سو ان کا یہ سمجھنا غلط اور باطل ہے، ان کو ان کاموں سے باز آنا چاہیے، وہ ہر طرح کا مال جمع کر رہے ہیں، خواہ وہ حلال ہو یا حرام ہو اور ان کا یہ وہم ہے کہ آگے چل کر آخرت میں اس کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور ان کے برے اعمال پر کوئی گرفت نہیں ہوگی، سو ایسا نہیں ہوگا، جن لوگوں کا یہ حال ہے وہ قیامت کے دن نادم ہوں گے اور وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ! انہوں نے اپنی ساری عمر نیک کاموں میں صرف کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا ہوتا اور یتیموں، غریبوں اور ناداروں کی ضروریات پر اپنے مال کو خرچ کیا ہوتا اور لوٹ مار، ڈاکہ زنی، چھین جھپٹ، بھتہ خوری اور دیگر حرام ذرائع سے مال جمع نہ کیا ہوتا، نقلی دوائیں نہ بنائی ہوتیں، کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ نہ کی ہوتی، ذخیرہ اندوزی نہ کی ہوتی، منشیات کا دھندا نہ کیا ہوتا، سود نہ لیا ہوتا، رشوت نہ لی ہوتی اور دیگر حرام کام نہ کیے ہوتے، لیکن اس دن ان کاموں پر ندامت کسی کام نہ آئے گی اور ایسا انسان صرف کف افسوس ملتارہ جائے گا۔
” دکا دکا “ کا معنی
اور اس آیت میں ” دکا دکا “ کے الفاظ ہیں، ” دکا “ کا معنی ہے : ریزہ ریزہ کرنا، کسی چیزہ کا ڈھا کر برابر کرنا، کوٹ کر ہم وار کرتا، ” دک “ نرم اور ہم وار زمین کو کہتے ہیں اور چونکہ نرم اور ہم وار زمین ریزہ ریزہ ہوتی ہے، اس لیے اس مناسبت سے اس کے مصدر کا معنی ہے : ریزہ ریزہ کرنا اور اس آیت میں ” دکت “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : وہ توڑی گئی، وہ ریزہ ریزہ کی گئی۔
خلیل نے کہا : ” دک “ کا معنی ہے : دیوار یا پہاڑ کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردینا یعنی جب روئے زمین کی ہر چیز ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گی خواہ وہ پہاڑ ہوں یا درخت اور جب زمین پر زلزلہ آئے گا تو اس پر کوئی چیز صحیح اور سالم نہیں رہے گی۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 21