كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَۙ – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 17
sulemansubhani نے Thursday، 31 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَۙ ۞
ترجمہ:
یہی بات نہیں ہے، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے ہو
الفجر : ٢٠۔ ١٧ میں فرمایا : یہ بات نہیں ہے، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے ہو۔ اور تم ایک دوسرے کو یتیم کے کھلانے پر راغب نہیں کرتے ہو۔ اور تم وراثت کا پورا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اور تم مال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو۔
” کلا “ کا معنی
الفجر : ١٧ میں ” کلا “ کا لفظ ان کے گمان کو مسترد کرنے کے لیے ہے، پس کسی شخص کا خوش حال اور مال دار ہونا اس کی فضیلت کی وجہ سے نہیں ہے اور نہ تنگ دست ہونا اس کی ذلت کی وجہ سے، سو بندے کو تنگی ہو یا کشادگی ہو حال میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرنی چاہیے۔
اس کے بعد فرمایا : بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے ہو۔
یتیم کی تکریم کی وجوہ
امام ابو منصور ماتریری متوفی ٣٣٣ ھ نے یتیم کی تکریم کے حسب ذیل محامل بیان کیے ہیں :
(١) یتیم کے مال کی حفاظت کرے تاکہ وہ ضائع نہ ہو اور اس کی عمدہ ترتیب کرے اور اس کو نیک اخلاق اور آداب سکھائے اور اس کو بری صحبتوں اور بری عادتوں سے بچائے تاکہ وہ لوگوں کی نگاہوں میں معزز اور مکرم ہو۔
(٢) اس کو احکام شرعیہ کی تعلیم دے، اس سے نماز پڑھو ائے، روزے رکھوائے اور دیگر مستحب کاموں کی تلقین کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی معزز اور مکرم ہو۔
(٣) اس کے مال کو اپنی ضروریات بہ قدر حاجت خرچ کرے اور اس کے مال کو نفع بخش تجارت یا کسی عمدہ صنعت پر لگائے تاکہ اس کا مال ختم ہونے یا ضائع ہونے سے بچے، یہ اس کے مال کی تکریم ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 17