وَتَاۡكُلُوۡنَ التُّرَاثَ اَكۡلًا لَّـمًّا ۙ – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 19
sulemansubhani نے Thursday، 31 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَتَاۡكُلُوۡنَ التُّرَاثَ اَكۡلًا لَّـمًّا ۙ ۞
ترجمہ:
اور تم وراثت کا پورا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو
الفجر : ٢٠۔ ١٧ میں فرمایا : یہ بات نہیں ہے، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے ہو۔ اور تم ایک دوسرے کو یتیم کے کھلانے پر راغب نہیں کرتے ہو۔ اور تم وراثت کا پورا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اور تم مال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو۔
الفجر : ١٩ میں فرمایا : اور تم وراثت کا پورا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔
اس آیت میں ” تراث “ کا لفظ ہے، یہ اصل میں ” وراث ‘ تھا، وائو کو تاء سے تبدیل کردیا، جیسے ” وجاہ “ کو ” نجاہ “ کردیا۔
اور اس آیت میں ” لما “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : بہت زیادہ جمع کرنا یعنی تم وراثت کا بہت زیادہ مال کھا جاتے ہو، اس کے حسب ذیل محامل ہیں :
(١) زجاج نے کہا : اس آیت کا معنی ہے : وہ یتیم کے بڑے ہوجانے کے ڈر سے اس کے مال کو جلدی جلدی فضول کاموں میں خرچ کر کے ختم کردیتے تھے۔
(٢) حسن بصری نے کہا : وہ یتیم کا مال بھی کھا جاتے اور اس کے ساتھی کا مال بھی کھا جاتے تھے۔
(٣) میت کے مال میں سے بعض مال حلال ہوتا تھا، بعض مال مشتبہ ہوتا تھا اور بعض مال حرام ہوتا تھا، وہ بغیر تمیز کے سارا مال کھا جاتے تھے۔
القرآن – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 19