أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجِاىْٓءَ يَوۡمَئِذٍۢ بِجَهَنَّمَ ۙ‌ يَوۡمَئِذٍ يَّتَذَكَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَاَنّٰى لَـهُ الذِّكۡرٰىؕ ۞

ترجمہ:

اور اس دن دوزخ کو لایا جائے گا، اس دن انسان یاد کرے گا اور اب کہاں یاد کرنے کا وقت ہے.

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جب زمین پاش پاش کر کے ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے صف بہ صف حاضر ہوں گے۔ اور اس دن دوزخ کو لایا جائے گا، اس دن انسان یاد کرے گا اور اب کہاں یاد کرنے کا وقت ہے۔ وہ کہے گا : کاش ! میں نے زندگی میں کوئی نیکی آگے کے لیے بھیجی ہوتی۔ سو اس دن اس کے عذاب کی طرح کوئی عذاب نہ دے گا۔ اور نہ کوئی اس کے جکڑنے کی طرح جکڑے گا۔ ( الفجر : ٢٦۔ ٢١ )

الفجر : ٢٣ میں فرمایا : اور اس دن دوزخ کو لایا جائے گا، اس دن انسان یاد کرے گا اور اب کہاں یاد کرنے کا وقت ہے۔

دوزخ کو لانے والے

حضرت ابن مسعود (رض) اور مقاتل نے کہا : ستر ہزار اور فرشتے جہنم کو ہانکتے ہوئے لائیں گے اور ان فرشتوں کے ہاتھوں میں اس کی لگام ہوگی اور دوزخ غیظ و غضب سے چنگھاڑ رہی ہوگی اور اس کو لا کر عرش کی بائیں جانب گاڑدیا جائے گا۔

امام مسلم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دن جہنم کو لایا جائے گا، اس کی ستر ہزار لگا میں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اس کو گھسیٹ رہے ہوں گے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤٢ )

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٢٧ ھ اور امام ابو الحسن علی ابن احمد الواحدی المتوفی ٤٦٨ ھ روایت کرتے ہیں۔

حصرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا، حتیٰ کہ آپ کے اصحاب پر یہ اثربہت شاق گزرا، پھر آپ نے فرمایا : ابھی ابھی مجھے حضرت جبریل نے یہ آیات پڑھائی ہیں :” کَلَّآ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکاًّ دَکاًّ ۔ وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا۔ وَجِا یْٓئَ یَوْمَئِذٍم بِجَہَنَّمَ (الفجر : ٢٣۔ ٢١ )

حصرت علی (رض) بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جہنم کو کس طرح لایا جائے گا ؟ فرمایا : اس کو ستر ہزار لگاموں کے ساتھ کھینچا جائے گا، ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے کھینچ رہے ہوں گے، وہ اس طرح بدک رہی ہوگی کہ اگر اس کو چھوڑ دیا جائے تو وہ تمام اہل محشر کو جلا ڈالے، پس وہ کہے گی : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو مجھ سے کیا خطرہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گوشت کو مجھ پر حرام کردیا ہے ؟ اس وقت ہر شخص نفسی نفسی ( مھجے اپنی جان کی فکر ہے) کہہ رہا ہوگا سوائے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے، آپ کہہ رہے ہوں گے : اے میرے رب ! میری امت ! اے میر رب ! میری امت !

(الکشف والبیان ج ١٠ ص ٢٠٢۔ ٢٠١، الوسیط ج ٤ ص ٤٨٥، بیروت، الجامع الاحکام القرآن جز ٢٠ ص ١٤٩ )

پھر فرمایا : اس دن انسان یاد کرے گا اور اب کہاں یاد کرنے کا وقت ہے۔

آخرت میں ندامت اور توبہ کام نہیں دے گی

اس دن کافر اپنے شرک اور کفر پر نادم ہوگا اور توبہ کرے گا اور اس سے کہا جائے گا : اب کہاں یاد کرنے کا وقت ہے ! وہ دنیا میں نصیحت قبول نہیں کرتا تھا اور اپنے کفر اور شرک سے رجوع نہیں کرتا تھا، اب دوزخ کو اپنے سامنے دیکھ کر کفر اور شرک سے رجوع کرے گا اور توبہ کرے گا، مگر اب تو یہ کہاں قبول ہوگی، آخرت کے عذاب کو دیکھنے اور غیب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ قبول ہوتی ہے نہ ایمان قبول ہوتا ہے۔ کافر کے نادم ہونے کا ذکر اس آیت میں بھی ہے :

وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِ فَقَالُوْا یٰـلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَنَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الانعام : ٢٧ )

اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب یہ دوزخ کے پاس کھڑے کیے جائیں گے، پھر کہیں گے : ہائے ہائے ! کاش ! ہمیں ( دنیا میں) لوٹا دیا جائے، پھر ہم اپنے رب کی آیات کو نہیں جھٹلائیں گے اور ہم مؤمنین میں سے ہوجائیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 23