فَكُّ رَقَبَةٍ – سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 13
sulemansubhani نے Saturday، 2 August 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَكُّ رَقَبَةٍ ۞
ترجمہ:
(قرض یا غلامی سے) گردن چھڑانا
(البلد : ١٣ میں فرمایا : ( قرض یا غلامی سے) گردن چھڑانا۔
غلام کو آزاد کرنے کی فضلیت میں احادیث
” الفک “ کا معنی ہے : طوق اور بیڑیوں کو کاٹ دینا اور یہاں اس سے مراد ہے : کسی انسان کے گلے سے غلامی یا قرض کا طوق اتار دینا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی غلام کو آزاد کیا، اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں اس کے عضو کو دوزخ سے آزاد کر دے گا، حتیٰ کہ اس کا شرم گاہ کو اس کی شرم گاہ کے بدلہ میں۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥١٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٠٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٥٤١ )
حضرت ابو امامہ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دیگر اصحاب بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو وہ اس کا دوزخ سے چھڑانا ہوگا، اس کے ہر عضو کا اس کے عضو سے بدلہ ہوگا اور جس مسلمان عورت سے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو وہ اس کا دوزخ سے چھڑانا ہوگا اور اس کے ہر عضو کا اس کے عضو سے بدلہ ہوگا۔
( سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٥٤٧، السنن الکبریٰ ، للبیہقی ج ١٠ ص ٢٧١، المعجم الکبیر ج ١ ص ٩٥)
غلام کو آزاد کرنا اور صدقہ کرنا دونوں افضل عمل ہیں، امام ابوحنیفہ کے نزدیک غلام کو آزاد کرنا صدقہ کرنے سے افضل ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک صدقہ کرنا، غلام آزاد کرنے سے افضل ہے، اور اس آیت میں امام ابوحنیفہ کے مؤقف پر دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غلام کو آزاد کرنے کا ذکر صدقہ دینے سے پہلے کیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے غلام کی گردن چھڑائی، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلہ میں اس کا عضو دوزخ سے آزاد کر دے گا۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣١٦٦ )
القرآن – سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 13