فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 11
sulemansubhani نے Saturday، 2 August 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ ۞
ترجمہ:
پس وہ دشوار گھاٹی سے نہیں گزارا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس وہ دشوار گھاٹی سے نہیں گزرا۔ اور آپ کیا سمجھے کہ وہ دشوار گھاٹی کیا ہے۔ ( قرض یا غلامی سے) گردن چھڑانا۔ یا بھوک کے دن کھانا کھلانا۔ ایسے یتیم کو جو رشتہ دار بھی ہو۔ یا خاک نشین مسکین کو۔ ( البلد : ١٦۔ ١١)
” افتحم “ اور ” العقبۃ “ کا معنی اور دشوار گھاٹی کا مصداق
البلد : ١١ میں ” اقتحم “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : چڑھا، گھس پڑا، اس کا مصدر ’ ’ اقتحام “ ہے اس کا معنی ہے : بغیر دیکھے بھالے اپنے آپ کو کسی چیز میں جھونک دینا۔ ( القاموس المحیط ص ١١٤٦، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٤ ھ)
اور اس آیت میں ” المعقبۃ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : گھاٹی، پہاڑ میں چڑھائی کا جو دشوار گزار راستہ ہوتا ہے، اس کو ” عقبہ “ کہتے ہیں۔ ( القاموس المحیط ص ١١٦، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٤ ھ)
” عقبہ “ سے مراد یہاں آخرت ہے، عطاء نے کہا :” عقبہ “ سے مراد یہاں جہنم کی گھاٹی ہے، الکلبی نے کہا : یہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک گھاٹی ہے، حضرت ابن عمر نے کہا : یہ جہنم میں ایک پہاڑ ہے، علامہ واحدی نے کہا : اس تفسیر پر یہ اعتراض ہے کہ کوئی انسان جہنم کے پہاڑ پر نہیں چڑھا اور نہ اس سے گزرا، نیز البلد : ١٣ میں ” عقبۃ “ کی تفسیر مقروض کی گردن چھڑانے اور اس کو کھانا کھلانے کے ساتھ کی گئی ہے۔
حسن اور مقاتل نے کہا ہے کہ دشوار گزاری گھاٹی پر چڑھنے کے ذکر میں یہ مثال دی ہے کہ انسان نے اپنے نفس کی ناجائز خواہشوں کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی اور غلط نفسانی تقاضوں کو پورا کرنے سے اجتناب کیوں نہیں کیا اور نیکی کرنے میں شیطان کے بہکانے سے جہاد کیوں نہیں کیا، الحسن نے کہا : اللہ کی گھاٹی بہت شدید ہے، اور یہ انسان کا اپنی ناجائز خواہشوں سے اور شیاطین انس اور جن سے جہاد کرنا ہے۔
امام رازی نے فرمایا : یہی تفسیر برحق ہے کیونکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ محسوسات کے عالم سے نکل کر انوار الٰہیہ کے عالم میں پہنچ جائے اور اس مادی عالم اور عالم قدس کے درمیان بیشمار دشوار گزار گھاٹیاں اور پر خطرہ وادیاں ہیں جن کو عبور کرنا ہے بعد مشکل اور دشوار ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 11
[…] تفسیر […]