وَاَنۡتَ حِلٌّ ۢ بِهٰذَا الۡبَلَدِۙ – سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 2
sulemansubhani نے Saturday، 2 August 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاَنۡتَ حِلٌّ ۢ بِهٰذَا الۡبَلَدِۙ ۞
ترجمہ:
اس حال میں کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں
البلد : ٢ میں فرمایا : اس حال میں کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں۔
” وانت حل بھٰذا البلد “ کی تفسیر علامہ قرطبی سے
علامہ ابوعبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
اس پر اجماع ہے کہ اس شہر سے مراد مکہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس حرمت والے شہر کی اس لیے قسم کھائی ہے کہ آپ اس شہر میں ہیں اور یہ اس سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ مکرم ہیں اور اللہ کو آپ سے بہت محبت ہے، علامہ واسطی نے کہا : گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم اس شہر کی قسم اس لیے کھاتے ہیں کہ آپ کے اس شہر میں رہنے کی وجہ سے جب تک آپ حیات ہوں، یہ شہر مکرم ہے اور جب آپ کی وفات ہو تو یہ شہرت برکت والا ہے، یعنی مدینہ منورہ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ سورت بالا تفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔
اس آیت میں فرمایا ہے :” وانت حل “ یعنی اس شہر میں آپ جو کام بھی کریں وہ آپ کے لیے حلال ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جس دن آپ مکہ میں داخل ہوئے آپ کے لیے حلال کردیا گیا کہ آپ جس کافر کو چاہیں قتل کردیں، سو آپ نے ابن خطل، مقیس بن صبابہ وغیرہما کو قتل کردیا اور آپ کے بعد اور کسی شخص کے لیے مکہ میں کسی کو قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ ابو صالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ آپ کے لیی دن کی ایک ساعت میں مکہ میں قتال کرنا حلال ہوا تھا اور یہ فتح مکہ کا دن تھا، پھر اس کے بعد قیامت تک کے لیے اس کی حرمت لوٹ آئی، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : بیشک اللہ نے جب آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، اس وقت اس نے مکہ کو حرم بنادیا تھا پس وہ قیامت تک کے لیے حرام ہے، نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا اور میرے لیے صرف دن کی ایک ساعت میں حلال ہوا تھا۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٥٣ )
” وانت حل “ کا دوسرا یہ معنی کیا گیا ہے کہ آپ اس میں مقیم ہیں اور یہ آپ کا محل ہے اور ایک قول یہ ہے کہ آپ اس میں محسن ہیں یعنی آپ اس شہر میں نیک کام کرنے والے ہیں اور میں اس شہر میں آپ سے راضی ہوں۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ آپ اس میں حلال ہیں یعنی آپ اس میں گناہ گار نہیں ہیں۔ اہل لغت نے ذکر کیا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص حل ہے اور حلال ہے اور محل ہے، اس کا معنی گرہ کھولنا، حلال ہونا اور نازل ہونا، اترنا اور ٹھہرنا ہے یعنی آپ مکہ میں نازل ہونے والے اور ٹھہرنے والے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف اور تحسین ہے یعنی آپ اس شہر میں کوئی ایسا کام کرنے والے نہیں ہیں، جس کا ارتکاب آپ پر حرام ہو، کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ بیت اللہ کے کیا حقوق ہیں، نہ کہ ان مشرکین کی طرح جو اس شہر میں کفر اور معصیت کے کام کرتے تھے اور ان آیتوں کا معنی اس طرح ہے کہ میں اس بیت معظم کی قسم کھاتا ہوں جس کی عزت اور حرمت کو آپ جانتے ہیں، سو آپ اس بیت کی تعظیم کرتے ہوئے اس میں مقیم ہیں اور اس شہر میں کوئی ایسا کام نہیں کرتے جو آپ پر حرام ہو۔ شرجیل بن سعد نے کہا : آپ اس شہر میں حلال ہیں اور کفار مکہ میں قتل کرنے کو اور شکار کرنے کو اور اس کے درختوں کو کاٹنے کو حرام قرار دیتے ہیں، اس کے باوجود وہ مکہ سے آپ کے نکالنے کو اور آپ کے قتل کو حلال قرار دیتے ہیں۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٥٥، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
” وانت حل بھذا البلد “ کی تفسیر امام رازی سے
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
” وانت حل بھذا البلد۔ “ (البلد : ٢) سے مراد حسب ذیل امور ہیں :
(١) آپ اس شہر میں مقیم ہیں اور ٹھہرے ہوئے ہیں گویا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو اس وجہ سے مکرم قرار دیا ہے کہ آپ اس میں مقیم ہیں۔
(٢) کفار اس شہر کے احترام میں اس شہر میں قتل کرنے کو، یہاں شکار کرنے کو اور یہاں کے درختوں کے کاٹنے کو حرام قرار دیتے ہیں، اس کے باوجود ان کے نزدیک اس شہر میں آپ کو قتل کرنا حلال ہے، وہ آپ کو قتل کرنے کے لیے گھات لگا کر بیٹھے تھے لیکن آپ ان کے درمیان سے سورة یٰسین پڑھتے ہوئے نکل گئے اور ان کو پتہ نہیں چلا، اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی مہم میں ثابت قدم رکھنا ہے اور کفار کی عداوت پر تعجب کا اظہار ہے۔
(٣) قتادہ نے کہا :” وانت حل “ کا معنی یہ ہے کہ آپ گناہ گار نہیں ہیں اور آپ کے لیے حلال ہے کہ آپ مکہ میں جس کافر کو چاہیں قتل کردیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مکہ کو فتح کردیا اور اس کو آپ کے لیے حلال کردیا، پھر آپ نے جس چیز کو چاہا حلال کردیا اور جس چیز کو چاہا حرام کر یا اور جو چاہا آپ نے کیا : آپ نے عبد اللہ بن خطل کو قتل کردیا، جس وقت و کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا تھا اور مقیس بن صبابۃ کو اور ان کے سوا کو بھی اور ابوسفیان کے گھر کو حرم قرار دیا، اور وقت وہ کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا تھا اور مقیس بن صبابۃ کو اور ان کے سوا کو بھی اور ابو سفیان کے گھر کو حرم قرار دیا، اور آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جب سے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے کسی کے لیے مکہ میں قتال کو حلال نہیں کیا، صرف میرے لیے ایک ساعت کے لیے اس میں قتال کو حلال کیا تھا، پھر قیامت تک کیل یے اس کو حرم بنادیا، نہ اس کے درختوں کو کاٹا جائے گا، نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے گا۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ سورت تو مکی ہے اور تم نے جو حدیثیں بیان کی ہیں، یہ مدینہ میں ہجرت کے بعد اخیر کی ہیں تو ان میں تطبیق کیسے ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کبھی ایک لفظ حال کے لیے ہوتا ہے اور اس کا معنی مستقبل کے لیے ہوتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
انک میت (الزمر : ٣٠) بیشک آپ وفات پانے والے ہیں۔
اسی طرح اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ کے لیے مکہ میں سب امور حلال ہونے والے ہے۔
(١) اس کا معنی یہ ہے کہ آپ مکہ میں حلال کام کرنے والے ہیں، مشرکین کے بر خلاف جو مکہ میں اللہ کی توحید کا اور آپ کی رسالت کا کفر کر کے حرام کام کرتے ہیں۔
(٥) اللہ تعالیٰ نے شہر مکہ کی قسم کھا کر اس کی انتہائی فضلیت بیان فرمائی اور اس شہر کے رہنے والے آپ کے نسب کو اور آپ کے خاندان کی عظمت، شرافت اور طہارت کو پہچانتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ اپنی عمر کے اس طویل حصہ میں ہر قسم کے برے افعال سے پاک اور صاف رہے ہیں، جیسا کہ ان آیات سے بھی ظاہر ہے :
ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ (الجمعہ : ٢)
( اللہ) وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں ان ہی کی نوع سے ایک عظیم رسول بھیجا۔
لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ (التوبہ : ١٢٨) بیشک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول آگیا۔
فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ ط (یونس : ١٦) پس بیشک میں تم میں سے اس سے پہلے ایک طویل عمر گزار چکا ہوں۔
لہٰذا اس آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں، اس سے غرض رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عظیم منصب کو واضح کرنا ہے۔
” وانت حل بھذا البلد “ کی تفسیر مصنف سے
البلد : ٢ میں ” وانس حل بھذا البلد “ حل ہے اور ” لا اقسم بھدا البلد “ ( البلد : ١) ذوالحال ہے اور حال، ذوالحال کی قید ہوتا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شہر مکہ کی قسم کھانا اس حال کے ساتھ مقید ہے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں مقیم ہوں گویا مکہ اسی وقت معظم اور مکرم ہے جب آپ شہر مکہ میں مقیم ہوں، معلوم ہوا کہ کسی بھی چیز کی تعظیم اور تکریم کا مدار اس پر ہے جب وہ چیز آپ کے ساتھ اور مقدرن ہو، سو جب آپ مکہ میں تھے تو مکہ مکرم تھا اور جب آپ مدینہ میں آگئے تو مدینہ مکرم ہوگیا، جیسے دس کروڑ کا کوئی قیمتی ہیرا، اگر تجوری میں رکھا ہو تو وہ تجوری دس کروڑ کی ہے، اگر وہ ہیرا کسی انگوٹھی میں جڑا ہو تو وہ انگوٹھی دس کروڑ کی ہے اور اگر وہ ہیرا کسی ہار میں لگا ہو تو وہ ہار دس کروڑ کا ہے، سو اس کائنات میں سب سے افضل مخلوق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے، جیسا کہ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) نے کہا :
قلیت الارض مشارقھا ومغاربھا فلم اجد رجلا افضل من محمد۔
میں نے زمین کے تمام مشارق اور مغارب کو کھنگال ڈالا، پس میں نے ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل کسی شخص کو نہیں پایا۔
( المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦٢٨١، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ١ ص ١٧٦)
سو جب آپ آسمانوں پر تھے تو آسمان سب سے افضل تھے اور جب آپ زمین پر آئے تو زمین سب سے افضل تھی، مکہ میں تھے تو مکہ سب سے افضل تھا، مدینہ میں آئے تو مدینہ سب سے افضل تھا، وادی ٔ بدر میں تھے تو وہ سب سے افضل تھی، جبل احد پر آئے تو وہ سب سے افضل تھا، جب غار حرا میں تھے تو وہ افضل تھا اور جب غار ثور میں گئے تو وہ افضل تھا، شب ہجرت جب حضرت ابوبکر کے کندھوں پر تھے تو حضرت ابوبکر سب سے افضل تھے اور جب حضرت عائشہ (رض) کے زانو پر سر اقدس تھا تو وہ سب سے افضل تھیں، جب عرش پر پہنچے تو وہ سب سے افضل تھا تو وہ سب سے افضل تھا اور اب جب کہ قبر انور کے فرش پر محو آرام ہیں تو وہ فرش سب سے افضل ہے، غرض عرش سے لے کر فرش تک ہر چیز کی تعظیم اور تکریم کا مدار آپ کی ذات ہے اور ہر چیز کی فضلیت آپ کے دامن سے وابستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
فلا وربک ( النسائ : ٦٥) آپ کے رب کی قسم !
اللہ تعالیٰ کعبہ کا بھی رب ہے، بیت المعمور کا بھی رب ہے، عرش عظیم کا بھی رب ہے، لیکن یوں قسم نہیں کھائی کہ رب کعبہ کی قسم ! یا رس بیت المعمور کی قسم ! یا عرش عظیم کے رب کی قسم ! بلکہ یوں قسم کھائی : آپ کے رب کی قسم !
اس میں یہ اشارہ ہے : سونے کا تو میں کعبہ کا بھی رب ہوں، بیت المعمور کا بھی رب ہوں، عرش عظیم کا بھی رب ہوں، مگر مجھے نہ کعبہ کے رب ہونے پر ناز ہے، نہ بیت العمور کے رب ہونے پر ناز ہے، نہ مجھے عرش کے رب ہونے پر ناز ہے، اگر مجھے ناز ہے تو اے محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے تمہارے رب ہونے پر ناز ہے۔
حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے یونہی تو نہیں فرمایا : میں خدائے عزوجل کی صرف اس وجہ سے پرستش کرتا ہوں کہ وہ رب محمد ہے۔ ( مبدأ و معاذ فارسی ص ٦٣۔ اردو ص ١٧٩، ادارہ مجددیہ، کراچی)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ ۔ “ (الفیل : ١) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ ” الم ترالی ربک “ ( الفرقان : ٤٥) کیا آپ نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا ؟ ، اللہ تعالیٰ نے جب اپنا ذکر فرمایا تو آپ کی طرف اپنی نسبت کی اور جب آپ کا ذکر فرمایا تو اپنی طرف آپ کی نسبت کی۔
سبحن الذی اسری بعبدہ ( بنی اسرائیل : ١) سبحان ہے وہ ذات جو راتوں رات اپنے عبد مقدس کو لے گئی۔
تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ ( الفرقان : ١) بابرکت ہے وہ ذات جس نے الفرقان کو اپنے عبد مکرم پر نازل فرمایا۔
یعنی اللہ اپنی نسبت آپ کی طرف کرتا ہے اور آپ کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے گویا تم ہمارے ہو اور ہم تمہارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ولکل وجھۃ ھو مولیھا ( البقرہ : ١٤٨) ہر ایک کے لیے ایک جہت ( قبلہ) ہے جس کی طرف کر رہا ہے۔
علامہ آلوسی نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر ایک کا اپنا اپنا قبلہ ہے، مقربین کا قبلہ عرش ہے، روحانیین کا قبلہ کرسی ہے اور کروبیین کا قبلہ بیت المعمور ہے اور انبیاء سابقین کا قبلہ بت المقدس اور آپ کا قبلہ کعبہ ہے اور وہ آپ کے جسم کا قبلہ ہے اور رہا آپ کی روح کا قبلہ تو وہ میری ذات ہے اور میرا قبلہ آپ کی ذات ہے، جیسا کہ اس حدیث میں اشارہ ہے کہ میں ان لوگوں کے پاس ہوتا ہوں جن کے دل میرے خوف کی وجہ سے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ ( اتحاف ج ٦ ص ٩٠)
(روح المعانی جز ٢٠ ص ٢٣، دارلفکر، بیروت)
اور سب سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ کا خوف ہے، آپ نے فرمایا :
ان اتقاکم واعلمکم باللہ انا۔ بیشک تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھنے والا ہوں۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٢١٦)
امام واللہ انی لا تقاکم للہ واخشاکم لہ۔ سنو ! بیشک میں ضرور تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور خوف کرنے والا ہوں۔
( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٠٨)
اللہ تعالیٰ ان کے پاس ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور سب سے زیادہ آپ اللہ سے ڈرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ اللہ آپ کے پاس ہے، اور یہی اس قول کا معنی ہے کہ اللہ کا قبلہ آپ کی ذات ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ کی روح کا قبلہ اللہ کی ذات ہے یہ تو صحیح ہے لیکن یہ کیسے صحیح ہوگا کہ اللہ کا قبلہ آپ کی ذات ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قبلہ کا معنی عبادت کی سمت نہیں ہے بلکہ قبلہ کا معنی توجہ اور التفات کی سمت ہے، سو آپ کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی توجہ آپ کی طرف رہتی ہے، آپ آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوں تو وہ فرماتا ہے :
قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآئِ ج (البقرہ : ١٤٤) ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
اور جب آپ نماز کے قیام اور سجدہ میں ہوں تو وہ آپ کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔
الَّذِیْ یَرٰکَ حِیْنَ تَقُوْمُ ۔ وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ ۔ (الشعرائ : ٢١٨۔ ٢١٩)
وہ آپ کو دیکھتا رہتا ہے جب آپ قیام کرتے ہیں۔ اور جب آپ سجدہ کرنے والوں میں مڑتے ہیں۔
سو جب اللہ تعالیٰ کا مرکز التفات اور محور توجہ آپ کی ذات ہے تو وہ آپ کی عظمتوں کو بھی ظاہر فرماتا ہے اور آپ کی نسبتوں کی عظمتوں کو بھی واضح فرماتا ہے، آپ مکہ اور مسجد حرام میں ہوں تو اس کی قسم کھاتا ہے اور مسجد اقصیٰ میں ہوں تو اس کا ذکر فرماتا ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 2