أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ ۞

ترجمہ:

اور ( انسان کے) والد کی قسم اور اس کی اولاد کی.

البلد : ٣ میں فرمایا : اور ( انسان کے) والد کی قسم اور اس کی اولاد کی۔

والد اور اولاد کے مصداق میں اقوال مفسرین

مجاہد اور قتادہ اور حسن اور ابو صالح نے کہا : والد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور اس کی اولاد سے مراد ان کی نسل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم اس لیے کھائی ہے کہ وہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی سب سے عمدہ مخلوق ہیں، اس میں انبیاء (علیہم السلام) بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف دیگر دعوت دینے والے بھی ہیں، ایک قول یہ ہے کہ یہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد میں سے نیک لوگوں کی قسم ہے اور جو کفار اور فساق اور فجار ہیں وہ گویا کہ حیوانات ہیں، ایک قول یہ ہے کہ والد سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور اولاد سے مراد ان کی ذریت ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد ان کی تمام ذریت ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو ان کی ذریت میں سے مسلمان ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مرادعام والد اور اس کی اولاد ہے۔ الماوردی نے کہا : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ والد سے مرادہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں کیونکہ اس سے پہلی آیتوں میں آپ کا ذکر ہے اور اولاد سے مراد آپ کی امت ہے، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں، تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤ سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٠) (النکت والعیون للماوردی ج ٦ ص ٢٧٥، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

القرآن – سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 3