يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ – سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 15
sulemansubhani نے Saturday، 2 August 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ ۞
ترجمہ:
ایسے یتیم کو جو رشتہ دار بھی ہو
البلد : ١٥ میں فرمایا : ایسے یتیم کو جو رشتہ دار بھی ہو۔
یتیم کا معنی
انسانوں میں یتیم اس شخص کو کہتے ہیں جس کا بچپن میں باپ فوت ہوگیا ہو اور حیوانات میں یتیم اس کو کہتے ہیں جس کی بچپن میں ماں فوت ہوگئی ہو اور بعض اہل لغت یتیم اس شخص کو کہتے ہیں جس کے ماں باپ دونوں فوت ہوگئے ہوں۔
جو یتیم رشتہ دار ہو اس پر بھی صدقہ کرنے میں فضلیت ہے لیکن جو یتیم رشتہ دار بھی ہو، اس پر صدقہ کرنے میں زیادہ فضلیت ہے، جس طرح جس یتیم کے کفالت کرنے والے ہوں، اس پر صدقہ کرنے میں بھی فضیلت ہے لیکن جس یتیم کا کوئی کفیل نہ ہو، اس پر صدقہ کرنے میں بہت فضیلت ہے۔
یتیموں کو صدقہ دینے کی فضیلت میں احادیث
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو رکھا اور اس کو اپنے کھانے پینے میں شامل کیا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا، سو اس کے اس کا کا کوئی ایسا گناہ ہو جس کی مغفرت نہ ہو سکے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩١٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٦٩ )
حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ایک ساتھ ہوں گے، آپ نے انگشت ِ شہات اور درمیانی انگلی کے ساتھ ارشاہ فرمایا۔
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩١٨، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٠٥، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥١٥٠، مسند احمد ج ٥ ص ٣٣٣)
حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہاتھ پھیرا تو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے، اس کی اتنی نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور جس شخص کے پاس کوئی یتیم لڑکی یا یتیم لڑکا ہو اور وہ اس کے ساتھ نیک سلوک کرے تو وہ میرے ساتھ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوگا اور آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگل کو ملایا۔
(مسند احمد ج ٥ ص ٢٥٠ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٦ ص ٤٨٤، رقم الحدیث : ٢٢١٥٣، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢١ ھ، حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٧٨، شرح السنۃ رقم الحدیث : ٣٤٥٦، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٢٨١، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٣١٩٠)
رشتہ داروں کو صدقہ دینے کی فضلیت میں احادیث
حضرت حکیم بن حزام (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ کس کو صدقہ دینا سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس قرابت دار کو جو پہلو تہی کرتا ہو۔
(سنن دارمی رقم الحدیث : ١٦٧٩، مسند احمد رقم الحدیث : ١٤٨٩٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت)
حضرت ام المؤمنین نے اپنی کتاب باندی کو آزادی کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم یہ باندی اپنے کسی کاموں کو دیتے دیتیں تو تم کو زیادہ اجر ملتا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٩٠، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٦٢٨٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت)
سلیمان بن عامرالضبی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور قرابت دار پر صدقہ کرنا دو صدقے ہیں، ایک صدقہ ہے اور ایک صلہ رحم ہے۔
(سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٨٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٤٤، مسند احمد رقم الحدیث : ٥٧٩٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت)
حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کی بیوی حضرت زینب (رض) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کے لیے یہ صدقہ کافی ہوگا کہ وہ اپنے خاوند اور اپنی گود کے بچوں کو صدقہ دے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! تمہیں دو اجر ملیں گے، ایک اجر صدقہ کا ہوگا اور ایک اجر قرابت داری کا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٦٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٠٠، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٨٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٣٤، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٦٥٠٨، داراحیاء التراث العربی، بیروت)
القرآن – سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 15