۲۲۳ – حَدَّثَنَا عَبْدُ للَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِاللهِ بنِ عبدِاللهِ بنِ عُتْبَةَ ، عَنْ امَ قَيْسٍ بِنتِ مِحْصَن أَنَّهَا أَتَتْ بِابْن لَهَا صَغِيرٍ ، لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ ، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَجْلَسَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ . [ طرف الحديث : ۵۶۹۳]

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابن شهاب از عبدالله بن عبداللہ بن عقبہ ازام قیس بنت محصن بے شک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے چھوٹے بچے کو لے کر آئیں جس نے ابھی طعام کھانا نہیں شروع کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنی گود میں بٹھا لیا اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیا، آپ نے پانی منگا کر اس کپڑے پر بہایا ( یا اس کو دھویا) اور اس کو ( زیادہ رگڑ کر نہیں دھویا۔

(صحیح مسلم: ۲۸۷ الرقم المسلسل : ۶۵۳ سنن ابوداؤد: ۳۷۴ سنن ترمذی: 71 ، سنن نسائی: 302،  سنن ابن ماجه: ۵۲۴ مسند الحمیدی: 343 مصنف ابن ابي شيبه ج ا ص ۱۲۰ الاحاد والمثانی: 3253،  المنتقی : ۱۳۹، صحیح ابن خزیمہ: ۲۸۵ مسند ابوعوانہ ج ۱ ص ۲۰۲ شرح معانی الآثار : ۵۷۰، صحیح ابن حبان: ۱۳۷۳ المعجم الکبیر ج ۲۵ ص ۴۳۶ سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۱۴ شرح السنته : 294،  موطاً امام مالک : ۱۱۰ مسند احمد ج ۲ ص ۳۵۵ طبع قدیم مسند احمد:26996، ج ۴۴ ص ۷ ۵۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: آپ نے پانی منگا کر ( پیشاب آلودہ ) کپڑے پر بہایا اور اس کو ( زیادہ رگڑ کر ) نہیں دھویا۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

حدیث کے معنی کی وضاحت

اس حدیث میں ” نضحہ “ کا لفظ ہے اور ہم حدیث : ۲۲۲ میں تفصیل سے تحقیق کرچکے ہیں کہ اس کا معنی یہاں پر پانی بہانا اور دھونا ہے اور حدیث میں جو مذکور ہے: اور اس کو نہیں دھویا اس کا معنی ہے: اس کو بہت رگڑ کر اور مل مل کر نہیں دھویا کیونکہ شیر خوار لڑکے کے پیشاب آلودہ کپڑے پر پانی بہانا بہ کثرت احادیث سے ثابت ہے جس کو ہم حدیث : ۲۲۲ کی شرح میں تفصیل سے باحوالہ بیان کرچکے ہیں ۔

حافظ ابن حجر کے حدیث مذکور سے استنباط کردہ مسائل اور ان پر حافظ عینی کا تعاقب

(1) اس حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں پر شفقت کا پتا چلتا ہے کہ بچوں کو آپ کی گود میں بٹھادیا جاتا وہ آپ کے کپڑوں پر پیشاب کردیتے اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری اور ناراضگی کے آثار ظاہر نہیں ہوتے تھے۔

(۲) اس حدیث میں حسن معاشرت اور تواضع کا بیان ہے اور اہل فضل کی برکت حاصل کرنے کے لیے بچوں کو ان کے پاس لے جانا ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ بچوں کو حالت ولادت میں اور اس کے بعد اٹھا کر لے جانا ہے۔ (فتح الباری ج ا ص ۷۵۵ دار المعرفہ ) علامہ بدرالدین عینی نے اس کا رد کرتے ہوئے یہ لکھا ہے: یہ عبارت انہوں نے بغیر غور وفکر کے لکھی ہے ورنہ بچوں کو حالت ولادت میں کب اٹھا کر لایا جا سکتا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 3 ص ۱۹۹) نیز حافظ عسقلانی نے اس حدیث کے فوائد میں یہ بھی لکھا ہے: مولود کو گھٹی دینا، علامہ عینی نے اس کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے : اس حدیث میں گھٹی دینے کا ذکر نہیں ہے اگرچہ دوسری احادیث میں نو مولود کو گھٹی دینے کا بھی ذکر ہے ( جیسا کہ صحیح مسلم :۲۸۶ میں مذکور ہے ) اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام قیس اپنے بچہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حصول برکت اور طلب دعا کے لیے لائی تھیں، کیونکہ جس کے لیے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرما دیں،  وہ دنیا اور آخرت میں مسعود ہوجاتا ہے اگر چہ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ بچہ کوگھٹی دلوانے کے لیے لائی ہوں، مگر اس کا حدیث میں ذکر نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۹۹)

حافظ ابن حجر کے فقہاء احناف کے مذہب پر اعتراضات

حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ شیر خوار لڑکے اور لڑکی کے پیشاب آلودہ کپڑوں کے متعلق تین مذہب ہیں:

(۱) شافعیہ کا مذہب یہ ہے کہ لڑکے کے پیشاب میں پانی چھڑکنا کافی ہے لڑکی کے پیشاب میں کافی نہیں ہے

(۲) دونوں کے پیشاب میں پانی چھڑکنا کافی ہے یہ اوزاعی کا مذہب ہے اور امام شافعی کا بھی ایک قول ہے اور امام مالک سے بھی مروی ہے

(۳) فقہاء احناف اور امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ دونوں کے پیشاب آلودہ کپڑوں کو دھونا واجب ہے۔ ابن دقیق العید نے کہا ہے: انہوں نے قیاس کی پیروی کی ہے اور حدیث میں جو مذکور ہے: آپ نے اس کپڑے کو نہیں دھویا انہوں نے اس کی جو تاویل کی ہے وہ خلاف ظاہر ہے اور دوسری احادیث سے بعید ہے اور لڑکے اور لڑکی کے پیشاب کے حکم میں فرق اس لیے ہے تاکہ مشقت کم ہو۔

فتح الباری ج ا ص ۷۵۵ دار المعرفة بیروت)

مصنف کی طرف سے حافظ ابن حجر کے جوابات

میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر کا یہ لکھنا کہ فقہاء احناف نے اپنے مذہب میں قیاس کی پیروی کی ہے قطعا باطل اور مردود ہے ہم حدیث : ۲۲۲ کی شرح میں ان احادیث کا تفصیل سے باحوالہ ذکر کر چکے ہیں، جن کی پیروی میں فقہاء احناف نے کہا ہے کہ شیر خوار لڑکے کے پیشاب آلودہ کپڑوں کو بھی دھونا واجب ہے اور اس حدیث میں جو مذکور ہے: آپ نے اس کپڑے کو نہیں دھویا اس کی تاویل یہ کی ہے کہ اس کو زیادہ مل مل کر نہیں دھویا یہ تاویل اس لیے کی ہے کہ دوسری احادیث میں اس کپڑے کو دھونے کا ذکر ہے جن کو ہم حدیث: ۲۲۲ کی شرح میں بیان کرچکے ہیں، اگر یہ تاویل نہ کی جائے تو احادیث میں تعارض اور تضاد لازم آئے گا سو یہ تاویل خلاف ظاہر نہیں بلکہ احادیث میں توافق اور تطبیق پیدا کرنے کے لیے ہے نیز حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ شیر خوار لڑکے اور شیر خوارلڑکی کے پیشاب آلودہ کپڑوں میں فرق اس لیے کیا ہے تاکہ دھونے کی مشقت کم ہو حافظ ابن حجر کی اس عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فقہاء شافعیہ اپنے اس مذہب میں قیاس کی پیروی کر رہے ہیں اور ان کا یہ قیاس صریح اور صحیح احادیث کے خلاف ہے اس لیے باطل اور مردود ہے نیز اسلام تو طہارت اور صفائی کی تعلیم دیتا ہے اور شیر خوار بچے کے پیشاب کو طاہر قرار دینا اسلام کے اس اصول کے کلیۂ خلاف ہے۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۷۵ – ج ۱ ص ۹۶۶ پر ہے وہاں اس کی شرح کا عنوان ہے:

شیر خوار بچے کے پیشاب آلود کپڑے کے دھونے کے حکم میں مذاہب فقہاء اور دیگر مسائل۔