أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالشَّمۡسِ وَضُحٰٮهَا ۞

ترجمہ:

سورج کی قسم ! اور اس کی روشنی کی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سورج کی قسم ! اور اس کی روشنی کی۔ اور چاند کی قسم ! جب وہ اس کے پیچھے آئے۔ اور دن کی قسم ! جب وہ سورج کو نمایاں کرے۔ اور رات کی قسم ! جب وہ اس کو چھپائے۔ اور آسمان کی قسم ! اور جس نے اس کو بنایا۔ اور زمین کی قسم ! اور جس نے اس کو پھیلایا۔ اور نفس کی قسم ! اور جس نے اس کو دوست بنایا۔ پھر اس کو اس کے برے کام اور ان سے بچنے کا طریقہ سمجھا دیا۔ جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے آلودہ کرلیا وہ ناکام ہوگیا۔ ( الشمس : ١٠۔ ١)

قسم اور جواب قسم

اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے سات چیزوں کی قسم کھائی ہے : (١) سورج (٢) چاند (٣) دن (٤) رات (٥) آسمان (٦) زمین (٧) نفس انسان، اور ان سات چیزوں کی قسم کھا کر یہ فرمایا : جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے آلودہ کرلیا وہ ناکام ہوگیا، سو یہ اس سورت کی قسم اور جواب قسم کی تفصیل ہے، اب ہم جن چیزوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ان میں سے ہر ایک کی وضاحت کریں گے۔

سورج کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں، برکتیں اور نشانیاں

الشمس : ١ میں فرمایا : سورج کی قسم ! اور اس کی روشنی کی۔

اس آیت میں ” ضحی “ کا لفظ ہے، مفسرین نے کہا ہے : اس سے مراد سورج کی روشنی اور اس کی حرارت ہے، اللہ تعالیٰ نے سورج میں ایسے اثرات رکھے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی لطیف حکمتوں اور اس کی تدبیر کی باریکیوں اور برکتوں اور اس کی قدرت کی نشانیوں پر دلالت کرتے ہیں۔

(١) سورج میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ سورج کا نور سائے کو ختم کردیتا ہے اور چاند کے نور سے چھپ جاتا ہے اور ستارے نظر نہیں آتے اور ہوا میں سورج کے نور کے چمکیلے ذرات غبار کی صورت میں نظر آتے ہیں۔

(٢) پھر سورج کی حرارت سے کھیتوں میں سبزیاں، اور دانے پکتے ہیں اور باغوں میں پھل تیارے ہوتے ہیں اور پھول کھلتے ہیں، اور انسانوں اور حیوانوں کے لیے صالح غذا تیار ہوتی ہے۔

(٣) پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکیمانہ تدبیر سے سورج کو زمین سے مناسب فاصلہ پر رکھا ہے، اگر یہ فاصلہ کم ہوتا تو تمام کھیت اور باغات جل جاتے ہیں اور اس کی حرارت کی شدت سے تمام انسان اور حیوان جل کر راکھ ہوجاتے۔

(٤) پھر سورج میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانی یہ ہے کہ سورج کئی ہزار میل کی مسافت قطع کرتا ہے اور پوری زمین کے گرد ایک چکر لگاتا ہے، پھر سورج سے اللہ تعالیٰ اپنے جود و کرم کا اظہار فرماتا ہے کیونکہ اس کی روشنی اور حرارت ہر ذی روح کو پہنچ رہی ہے، خواہ وہ اللہ کو ماننے والا ہو یا اس کا منکر ہو، اس کا شکر گزار ہو یا نا شکرا ہو، اس کا دوست ہو یا اس کا دشمن ہو۔

(٥) سورج کے وجود میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلیل ہے کیونکہ سورج کا ایک مخصوص جسم ہے، اور وہ ایک خاص جگہ سے اور خاص وقت میں طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے اور اس کے اس نظام میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، پس ضروری ہوا کہ سورج کو اس مخصوص جسامت میں رکھنے کے لیے اور اس مخصوص نظام کا پابند کرنے کے لیے کوئی خالق ہو اور وہ خالق واجب اور قدیم ہو، ورنہ پھر اس کا بھی کوئی خالق ہوگا اور یہ سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوگا اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خالق واحد ہو، ورنہ اس کے طلوع اور غروب اور اس کی مخصوص حرکت کے نظام میں یکسانیت نہیں ہوگی اور اس کے نظام کی وحدت، اس پر دلیل ہے کہ اس کا ناظم بھی واحد ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 91 الشمس آیت نمبر 1