اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد و علی سیدنا و عولانا محمد فمعزز
ناظرین کرام اس وقت انجینئر مرزا محمد علی کے حوالے سے جو ایک ملک میں بہت بڑا ایشو کریٹ ہوا ہے اس کے حوالے سے کچھ اہم سوالات اور کچھ اہم نکات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہے ان نکات پر انشاءاللہ  تعالی گفتگو کرتے ہیں لیکن سب سے پہلے آپ یہ دو جو ویڈیوز ہیں مرزا صاحب کی آپ تھوڑا سا ان کو سماعت فرما دیں
( دیکھیں اگر ایک شخص کرسچن ہے تو وہ میرے نبی کو دجال سمجھ رہے ہیں لیکن مجھے قرآن اجازت دے رہے ہیں کہ میں اس کی عورت کے ساتھ شادی کرسکتا ہوں اگر وہ کسی کرسچن کی بیٹی ہے سورة المائدہ کی آیت نمبر 5 کس عورت کے ساتھ جو میرے نبی کو دجال سمجھتی ہے آج معصوم سی شکلیں بنا کے مولوی میرے بغض میں کہہ رہے ہیں کہ جی کرسچن جو ہیں وہ ہمارے نبی کو مانتے ہیں تو پھر تو خوشخبری ہے مسلمان ایک رات میں مولویوں نے چار ارب کر دیئے ہیں دو ارب ہم تھے دو ارب کرسمس ہمارے نبی کو مانتے ہوتے تو مسلمان نہ ہوجاتے وہ تو حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں یا اللہ ہی مانتے ہیں یا جو کوئی اکا دکا مواحد بچے ہیں جو ان کو پیغمبر مانتے ہیں تو وہ بھی آخری پیغمبر مانتے ہیں رہی ذہن میں رکھے گا اور انجیل میں جو وہ آیت ہے نا کہ قیامت تک دجال پیدا ہوں گے جو جھوٹے دعوے نبوت کریں گے نعوذ باللہ دجال کا ورڈ موجود ہے انجیل کے اندر ان کے ذرا مناظرے اٹھا کے دیکھیں وہ ٹاپ آف دی لسٹ رسول اللہ کا نام لیتے ہیں وہ کہتے ہیں ہمارے تو حضرت عیسیٰ پہلے ہی بتا کے گئے تھے ایک تو وہ بڑا دجال آنا ہے نا کانا اس کو چھوڑ دیں وہ کہتے ہیں حضرت عیسیٰ نے کہا تھا میرے بعد کئی ایک جھوٹے دعوے نبوت کرنے والے پیدا ہوں گے اب یہ الگ بات ہے کہ عیسیٰ ابن مریم کو بھی یہ نبی نہیں مانتے انہیں خدا کا بیٹا یا خدا کہتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے پیغمبر کے بارے میں یہ بکواس کرتے ہیں اور آج جو ہے وہ یہود و نصاری سے محبت کی پینگے انجینئر کے بغض میں چلے اتحاد امت کیا اب تو ہم نے دونوں امتوں کا اتحاد کروا دیا یعنی امت دعوت کا بھی امت اجابت کا بھی ڈاکٹر اسرار صاحب ہمارے استاد رحیمہ اللہ نے بیان القرآن میں وہ ساری گالیاں نکالی ہیں باقاعدہ لیکن انہوں نے ان کی منجی ٹھوکی دی ورنہ ڈاکٹر اسرار کو انہوں نے ٹانگ دینا تھا کہ یہ کیا آپ کر رہے ہیں جو جو یہودی کہتے ہیں نا وہ انہوں نے یہودیوں کے ریفرنس سے خود نہیں نکال لی ہے نا سمجھئے گا لیکن مولویوں کے ساتھ سے انہوں نے نکال لی ہے)
ناظرین آپ نے یہ سنا کہ مرزا صاحب جو پہلی ویڈیو ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی عیسائی کا یہ عقیدہ ہے اگر کسی عیسائی کا یہ عقیدہ ہے تو میں اگلا جملہ تو ظاہر ہے آپ سب لوگ جانتے ہیں میں صرف اس ایک پوائنٹ پر پہلا سوال جو ہے وہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ عقیدہ کا لفظ جب ہم استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ کسی کی رائے ہے کوئی ایک آدھ شخص کہتا ہے کوئی انڈویجل کوئی ایسی بات کرتا ہے بلکہ جب عقیدہ کا لفظ ایک خاص مذہب کے تناظر میں استعمال کیا جائے تو اس وقت اس مذہب کی جو بنیاد لٹریچر ہے وہ اس کے پس منظر میں ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس مذہب کی جو بنیادی شخصیات ہیں جن کے اوپر پورے اس مذہب کی جمہور جو رائے ہوتی ہے وہ قائم ہوتی ہے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی آراز ہے جن کے کہنے سے جن کے الفاظ سے عقیدہ کسی بھی مذہب کا وہ اخذ کیا جاتا ہے جب آپ لفظ عقیدہ استعمال کرتے ہیں اب مثال کے طور پر اسلام کا اگر یہ عقیدہ ہے کہ آخرت بھی قائم ہوگی اور قیامت بھی آئے گی تو یہ عقیدہ ہم اسلام کی بنیادی جو نصوص ہیں ان سے ثابت کرتے ہیں بعینہ ہی اگر آپ ایک عیسائی مذہب کے بارے میں کی اس کی طرف کوئی عقیدہ منسوب کرتے ہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلا جو ماخذ ہے مصدر ہے اس کی طرف جانا ہوگا اور وہ بائبل ہے اور بائبل میں تو ظاہر ہے کوئی ایسا لفظ موجود نہیں ہے جس سے مرزا صاحب کے اس موقف کی تائید ہوتی ہو کہ عیسائی ہمارے پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں اس کے بعد آجاتے ہیں بعد کے ادوار میں کہ جی بعد کے عیسائیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو عیسائی موجود تھے سب سے پہلے تو ہم نے ان کو دیکھنا ہے کیا ان میں سے کسی نے یہ لفظ استعمال کیا بلکل نہیں کیا اس کے بعد اگر کیا ہے تو اس کی کوئی دلیل کیونکہ لفظ جب استعمال ہوا ہی نہیں ہے تو اس کی دلیل کیسے پیش کی جا سکتی ہے کہ دیکھیں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا کہیں بھی وہ لفظ نہ تو ہمارے اپنے سیرت کے لٹریچر میں آتا ہے نہ ہمارے جو بائبل کی تشریحات بعد میں آتی ہیں ان میں بھی کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عیسائی مذہب کی طرف سے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہو پھر اس کے بعد دوسری طرف آتے ہیں کہ جو مرزا صاحب نے اپنے وضاحتی کلپ میں کہا کہ بہت سے مناظرین نے یہ لفظ استعمال کیا دیکھیں یہاں پر میں ساتھ اس کے دوسرا سوال بھی اٹیج کرنا چاہوں گا لفظ دجال جب آپ لفظ دجال استعمال کرتے ہیں بطور اصطلاح استعمال کرتے ہیں ایک عیسائیت کی خاص اصطلاح ہے اسلام کی بھی یہ خاص اصطلاح ہے عیسائیت کی بھی یہ خاص اصطلاح ہے اور اس کو بائبل کے اندر انٹی کرائسٹ یا انٹی کرسٹ بھی جو ہے نا وہ اس کو آپ پرناؤنس کر سکتے ہیں یہ پڑھا گیا ہے لکھا گیا ہے تو کیا انٹی کرائسٹ اور اسلام کا جو تصور دجال ہے وہ ایک ہے یا نہیں ہے انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے اندر اسلام کے تصور دجال ہے جو بائبل کا انٹی کرائسٹ کا تصور ہے دونوں کو سیم قرار دیا گیا ہے تو اب اس سے آپ اندازہ کریں دونوں کو یہ لے کے چلیں کہ اس میں کہیں بھی ایسا نہیں آیا انسائیکروپیڈیا بریٹانکا دیکھ لیں بائبل دیکھ لیں کہیں بھی ایسا نہیں ہے کہ یہاں پر جو نبوت کا دعویٰ کرنے والا کوئی شخص ہو اس کے لیے انٹی کرائسٹ کا استعمال کیا گیا ہو بائبل کے اندر تو یہ نہیں ہے انسیکلوپیڈیا بریٹانیکا کو اٹھا کے دیکھ لیں وہاں جہاں دجال کی وضاعت لکھی ہے اور اسی طرح انٹی کرائسٹ کے جو تصور ہے اس کو بیان کیا گیا ہے وہاں پر کچھ ایسا موجود نہیں ہے پھر اس کے بعد اس پوائنٹ کو آپ ذرا ایک حاضر دماغی کے ساتھ اس کو لیں کہ لفظ دجال ایسا نہیں ہے کہ پھکڑ پن میں بول دیا جائے لفظ دجال ایک مذہب کی طرف منسوب کرکے بطور ٹرم اس کو بیان کیا جا رہا ہے بطور ٹرم کبھی بھی کسی عیسائی مناظر نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں بطور ٹرم یہ لفظ استعمال کیا ہی نہیں ہے اور لفظ سرے سے استعمال ہی نہیں ہوا اب جو مرزا صاحب کہ وضاحتی کلپ کے اندر ہم جاتے ہیں تو وہاں یہ دیکھتے ہیں کہ وہ لفظ دجال کی تائید جو ہے وہ لے رہے ہیں اسلامی لٹریچر سے اسلام کے جو تصور ہے کہ جھوٹے نبی آئیں گے اور وہ جو نبوت کا دعویٰ کریں گے تو وہ ان کو اسلام میں احادیث میں دجال قرار دیا گیا کہ دجالونا کذابونا سلاسونا دجالونا قذابونا کہا گیا دیکھیں آپ نے لفظ دجال عیسائیت کی طرف منسوب کیا ہے تو اسی کے ہی لٹریچر سے آپ کو دلیل دینا ہوگی کہ انہوں نے عیسائیت نے بائبل کے اندر لفظ دجال کو کسی نبوت کے دعوے دار کی طرف منسوب کیا گیا عیسائیوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہ ماننا یہ ایک الگ پہلو ہے مرزا صاحب اپنے وضاعتی کلپ میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ دیکھیں جی انہوں نے تو جو مولوی ہیں انہوں نے بیٹھے بٹھائے یہ کہہ دیا کہ عیسائی ہمارے پیغمبر کو مانتے ہیں تو عیسائی ہمارے پیغمبر کو نہیں مانتے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مانتے ہیں جو آپ نے لفظ استعمال کیا ہے نہ ماننا ایک اور چیز ہے لیکن کیا وہ یہ لفظ استعمال کرتے ہیں کیونکہ لفظ دجال بطور ٹرم یوز ہورہا ہے اس چیز پہ خاص میں مرزا صاحب کے جو حامی ہیں اور جو مخالفین ہیں میں یہ ان پوائنٹس کی طرف ان کی توجہ دلانا چاہوں گا کہ ذرا ٹھنڈے دل سے اور تعصب کو ایک طرف رکھ کے آپ ان پوائنٹس پر غور کریں کہ لفظ دجال کو بائبل کے اندر کس کانٹیکسٹ میں استعمال کیا گیا اسلام نے کس تناظر میں استعمال کیا ہے اسلام کے اندر اصطلاح ایک استعمال کی گئی اور آپ اس کو کھینج کے لے جائیں عیسائیت کی طرف یہ ایک بہت بڑی بدیانتی ہے یا تو یہ لاعلمی ہے یا بدیانتی ہے دونوں ہی چیزیں ہو سکتی ہیں اور میرے خیال میں یہاں دونوں کا اجتماع پایا جارہا ہے یہ ایسا ایک ہے کہ ایسا ایک محل ہے ایسا ایک موقع ہے جہاں اجتماع زدین پایا جا رہا ہے بدیانتی بھی اپنے عروج پر ہے اور لاعلمی بھی اپنے عروج پر ہے اب آتے ہیں اس کے بعد اس میں تیسرا ایک پوائنٹ میں عرض کرنا چاہوں گا کہ جن عیسائی مناظرین کے حوالے سے مرزا صاحب نے ڈاکٹر اسرار کی طرف بھی بات منسوب کی کہ انہوں نے بھی باتیں کی ہیں اور انہوں نے بھی لکھا ہے ان میں سے کسی ایک عیسائی مناظر نے کیا کبھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے انکار کا جو مناظرہ کیا ہے اس میں یہ لفظ یوز کیا ہے جو آپ نے یوز کیا ہے کوئی مرزا صاحب جو لفظ استعمال کر رہے ہیں کسی عیسائی مناظر نے یہ لفظ استعمال کیا ہے کبھی اپنے مناظرے کے اندر اگر ہے کوئی تو وہ پیش کیا جائے ورنہ یہ تو ایک عیسائیت پر بھی ایک بہتان ہوگا لیکن اس چیز کا خیاص خیال رکھیں کہ کسی بھی عیسائی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر نہ ماننا یہ لازم نہیں آتا اس سے کہ وہ پیغمبر علیہ السلام کے بارے میں اس تصور کا حامی ہے جو تصور مرزا صاحب ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں لفظ انٹی کرائسٹ یا دجال عیسائیت کی اصطلاح میں ایک خاص پس منظر رکھتا ہے ایک خاص اصطلاح ہے اور وہ ایک خاص شخصیت کے بارے میں بولی گئی ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی پیغمبر آئے اور اس کے چاہے وہ بائبل کی مطابق فالز پروفٹ جو ہے وہ اس کے زمرے میں آتا ہو لیکن اس کے لیے لفظ انٹی کرائسٹ استعمال کرنا یہ بائبل میں بھی نہیں ہے عیسائی مناظرین نے ابھی اس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے استعمال نہیں کیا اور میں بار بار یہ پوائنٹ تھوڑا سا اس کو ریویجن کر رہا ہوں کہ اس کو میں دہرا دیتا ہوں کہ کسی بھی عیسائی کا اللہ کے رسول کو پیغمبر نہ ماننا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مانتا ہے جو مرزا صاحب کہہ رہے ہیں اور جب مسلمان یہ کہتے ہیں کہ عیسائی ہمارے پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ جو لفظ مرزا صاحب نے استعمال کیا ہے یہ لفظ وہ استعمال نہیں کرتے اس کا مطلب یہ کہاں لکھا ہے کہ ہمارے پیغمبر کو مانتے ہیں یہ دونوں چیزوں کو مکس اپ کیا جا رہا ہے اور بجا وہی ہے یا تو بد دیانتی ہے یا پھر لا علمی ہے اور پھر اس کے بعد جو مرزا صاحب نے یہاں پر ایک چیز بیان کی ہے لفظ عقیدہ جس طرح میں نے شروع میں عرض کیا لفظ عقیدہ عقیدہ ثابت کیسے ہوتا ہوا کرتا ہے اس چیز کو بہرحال اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے یہ چند نقات ہیں یہ چند پوائنٹس ہیں ان کو ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے مرزا صاحب کے اس کیس کے حوالے سے بحث کرتے ہوئے بھی اور اس کیس کے اوپر جب دلائل تلاش کیے جا رہے ہوں تو پھر ان چیزوں کو بہرحال ملحوظ ضرور رکھنا چاہیے اب اس پوائنٹ کی طرف آتے ہیں کہ اگر عیسائیت نے یہ لفظ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں استعمال نہیں کیا تو اب مرزا صاحب کے بارے میں کیا حکم ہوگا یہ انشاءاللہ تبارک و تعالی ایک پوری سیریز ہم اس حوالے سے ان سوالات کی اور ان سوالات پر جوابات کی چلائیں گے یہ آج میں نے کچھ سوالات اور کچھ نکات اٹھائے تھے اور انشاءاللہ تبارک و تعالی اگلے کسی لمحے کے اندر اگلے کسی دن میں انشاءاللہ تبارک و تعالی ان سوالات کے حوالے سے مزید کچھ دلائل اسلامی شریعہ کی طرف سے بھی اور جو بائبل کے حوالے سے کچھ دلائل ہیں کچھ جو ان کی عبارات ہیں انشاء اللہ تبارک وطالعہ وہ آپ کے سامنے رکھیں گے تو اللہ تبارک وطالعہ ہمیں افراد و تفریط سے بچائے اور اللہ رب العزت ہمیں اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کرنے کی عزت کو ملحوظ رکھنے کی توفیق اطاف فرمائے ایک ایک چیز اس حوالے سے یہ بھی آپ لوگوں کے ذہن میں میں کہتا ہوں کہ وہ ملہوز رہنی چاہیے کہ جو ڈاکٹر اسرار صاحب کی طرف مرزا صاحب نے منصوب کیا کہ انہوں نے یہ چیزیں بیان کی ہیں بیان کی ہوگی لیکن کیا ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں گستاخانہ جملے کہے ہیں کیا وہ عیسائیت کے نمائندے کہلائے جاسکتے ہیں وہ تو مستشرکین عموماً ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس طرح کے باتیں کی ہوئی ہیں اور مستشرکین عیسائیت کے نمائندے تو نہیں ہیں یہ لٹریچر اٹھا کے دیکھ لیجئے خود کرسیل لٹریچر اٹھا کے دیکھ لیجئے ان لوگوں کو مستشرکین کو عیسائیت کا نمائندہ نہیں کہا جاسکتا ان میں یہودی بھی کئی شامل ہیں جن لوگوں کی طرف یہ بات منسوب کر رہے ہیں ان لوگوں نے باقی جو بھی الفاظ استعمال کیے ہوں شاید لفظ جو مرزا صاحب نے استعمال کیا وہ انہوں نے بھی استعمال نہ کیا ہو لیکن سوال یہی ہے کہ جن لوگوں کی طرف مرزا صاحب کھینچ کے بات کو لے جانا چاہتے ہیں کیا وہ عیسائیت کے مذہب کے نمائندہ شخصیات ہیں کیا وہ ایسے لوگ ہیں کہ عیسائیت کے عقائد کی بنیاد ان لوگوں کی باتوں پر ہوا کرتی ہے یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے اور انشاءاللہ تبارک و تعالی ان پوائنٹس کے جواب کے ساتھ آپ کی خدمت میں پھر حاضر ہوں گے


اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
معزز ناظرین اکرام جیسا کہ پچھلی ویڈیو کے اندر ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا اور یہ میں نے گزارش کی تھی کہ انشاءاللہ تبارک وطالعہ ہم بطور کچھ ثبوت کچھ چیزیں انشاءاللہ تبارک وطالعہ اگلی ویڈیو کے اندر آپ کے سامنے رکھیں گے ناظرین بائبل کے اندر لفظ دجال یہ ذکر کو ہوا ہے انٹی کرائس کے لفظ کے ساتھ بائبل میں اس دجال کا تذکرہ ملتا ہے لیکن وہاں لفظ دجال کا مذکور ہونا یہ مرزا صاحب کی جو کہا گیا جملہ ہے اس جملے کی سپورٹ میں نہیں جاتا مثلا آپ کے سامنے ہم یہ ساری جو بائبل کی آیات ہیں چار ایک مقام میرے خیال میں ہیں جہاں انٹی کرائس کا لفظ ذکر ہوا ہے اور اس میں ان مقامات کے اوپر آپ دیکھیں جو انٹی کرائس کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جو اس کے حوالے سے باتیں بیان کی گئی ہیں کہ کچھ آچکے ہیں کچھ آئیں گے اور سب سے زیادہ یہ ہے کہ جو انٹی کرائس کا جو تذکرہ کیا گیا ہے اس میں کہیں فالس پرافیٹس کا کوئی ذکر نہیں ہے جو جھوٹے نبی جن کے حوالے سے کہا جاتا ہے ان کا کوئی تذکرہ نہیں ہے انٹی کرائسٹ کو ایک الگ تشخص اس کا بیان کیا گیا ہے کہ وہ مسیحیوں کو ڈی ٹریک کرنے والا شخص ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ماننے والا نہیں ہوگا تو انٹی کرائسٹ اس کو کہا گیا ہے اور پھر آپ یہ کہہ لیں کہ گویا کہ انٹی کرائسٹ کا جو تصور ہے وہ جس طرح پچھلی ویڈیو میں میں نے عرض کیا تھا یہ وہی تصور بنتا ہے جو اسلام میں لفظ دجال کے حوالے سے پایا جاتا ہے بلکل تقریباً ملتی جلتی باتیں اس میں بیان کی گئی ہیں صرف ایک فرق ہے کہ بائبل کے اندر ایک جگہ پر یہ ذکر کیا گیا ہے کہ انٹی کرائسٹ ہر وہ بندہ ہے جو فادر کا انکار کرتا ہے جو سن کا انکار کرتا ہے یعنی جو عقیدہ تثلیث کا قائل نہیں ہے گویا کہ انہوں نے ہر اس بندے کو انٹی کرائسٹ قرار دیا ہے لیکن اس میں فادر فالس پرافٹس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اب غلطی کہاں پر ہورہی ہے مرزا صاحب کو کہاں سے یہ چیز محسوس ہوئی کہ جو مسیحی ہیں وہ ہمارے پیغمبر علیہ السلام کے بارے میں وہ نظریہ رکھتے ہیں جو مرزا صاحب بیان کررہے ہیں یہ ناظرین ایک تو لفظ استعمال کیا جارہا ہے اس سیناریو میں ایک لفظ ہے نقلِ کفر کا اور ایک ہے کشیدِ کفر یہاں مرزا صاحب نقلِ کفر نہیں کررہے بلکہ کفر کو کھینچ کر لارہے ہیں اس بات کی طرف جو اس بات کی طرف یہاں پر اب معاملہ پہنچا ہوا ہے تو بات اصل کیا چل رہی ہے دونوں چیزیں وہ گرامر کی زبان میں بلکہ منطقی زبان میں درسِ نظامی میں ایک چلتا ہے جملہ کے صغری اور کبری صغری کبرہ کہاں سے مل رہے ہیں وہ یہاں سے مل رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث کے اندر جھوٹے نبیوں کا جو تذکرہ فرمایا ہے ان میں آپ نے فرمایا کہ جھوٹے نبی آئیں گے کذاب آئیں گے میرے بعد ان کے لئے آپ نے دجال کا لفظ ذکر فرمایا ہے تو دجال کا جھوٹے انبیاء کے لئے دجال کا جو لفظ ہے وہ احادیث احادیث میں تو ملتا ہے لیکن کرسچین لٹریچر کے اندر بائبل کے اندر کہیں یہ لفظ نہیں ملتا کہ جو جھوٹا نبی ہوگا جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے گا اس کو انٹی کرائسٹ کہا جائے گا یہ کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیا انہوں نے تو انٹی کرائسٹ ہر اس بندے کو کہا ہے دجال ہر اس بندے کو بائبل میں کہا گیا ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا اور ایک جگہ آیا ہے کہ جو عیسیٰ علیہ السلام جو سن کو نہیں مانتا پادر کو نہیں مانتا باپ بیٹا روح القدس جو اس حوالے سے تو یہ چار مقامات کے اندر جہاں بھی بائبل میں تذکرہ ہوا ہے وہاں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے کے لیے انٹی کرائس کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا دجال کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا وہ ہماری احادیث کے اندر مسلمانوں کے جو احادیث موجود ہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو احادیث ہیں وہاں استعمال کیا گیا اب یہاں کفر کشید کرنے والی بات کہاں سے آتی ہے کشید کرنے والی بات اس طرح بنتی ہے گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ جو جھوٹے نبی ہوں گے جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں گے وہ کذاب ہیں دجال ہیں تو آگے سے گویا کہ کوئی بندہ یہ کہہ دے کہ جو آپ بات آپ ان کے لئے کہہ رہے ہیں وہی عیسائی آپ کے بارے میں کہتے ہیں تو آگے سے کوئی بندہ آگر الزامی طور پر جواب دے یہ جواب گویا کہ مرزا صاحب کی طرف سے یہاں پر یہ کہا جارہا ہے مگر نہ نہ عیسائی لٹریچر کے اندر نہ بائبل کے اندر نہ بائبل کی تشریحات کے اندر اس طرح کا کوئی لفظ موجود ہے کہ جس میں انٹی کرائس جو ہے وہ جھوٹے نبوت کے دعوے داروں کے لیے بولا گیا ہو ہاں اور یہ بھی آپ بڑی دلچسپ سی بات ہے کہ جہاں جہاں بائبل کے اندر فالس پرافٹ کا تذکرہ آتا ہے وہاں انٹی کرائس کا کوئی لفظ ذکر نہیں کیا گیا جہاں جھوٹے نبیوں کا ذکر کیا گیا کہ یہ کوئی جھوٹے نبی آئیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں ماننے والے ہوں گے جو مسیحیت کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کرائسٹ کی جو تعلیمات ہوں گی ان کا وہ انکار کرنے والے ہوں گے تو وہاں پر انٹی کرائسٹ کا لفظ ذکر نہیں کیا گیا یہ نہیں کہا گیا کہ وہ دجال ہوں گے ایسا کوئی بھی تذکرہ نہیں کیا گیا باقی تذکرہ تو جھوٹے انبیاء کیا گیا ہے کہ جھوٹے انبیاء آئیں گے تو میں نے پچھلی ویڈیو کے اندر بھی جس طرح پہلے عرض کیا تھا کہ عیسائیوں کا ہمارے پیغمبر علیہ السلام کو نہ ماننا نہ ماننے سے یہ نتیجہ لازم نہیں آتا جو مرزا صاحب نے نکالا ہوا ہے یہ ایک ایسا بھیانک جملہ ہے جو مرزا صاحب سے صادر ہوا ہے اور میں تو صادر کا لفظ کہہ رہا ہوں وگرنہ بات یہاں تک پہنچی ہوئی ہے جو انداز بتا رہا ہے جو ماضی بتا رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لفظ صادر نہیں ہوا بلکہ بڑے ہی سوچ سمجھ کر جچے طولے نپے تلے الفاظ میں یہ جملہ بولا گیا ہے اور مخلوق اس پر ڈٹی ہوئی ہے اللہ تبارک و تعالی ہمیں ان چیزوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور پہلے بھی میں یہ عرض کیا کرتا ہوں اللہم آرنالشیاء کماہیا کہ ان چیزوں کے حقائق پیچھے جاننے کی توفیق اطاف فرمائے السلام علیکم و رحمت اللہ