مفتی طارق مسعود دیوبندی کا مغالطہ!

مفتی طارق مسعود دیوبندی مرزا صاحب کے دفاع میں کلپ ریکارڈ کرتے ہوئے کہتے ہیں کے ان پر گستاخی کا الزام لگانا زیادتی ہے کیونکہ مرزا صاحب نے براء راست رسول ﷺ کو دجال نہیں کہا ہے بلکے انہوں نے تو نصاری کا قول نقل کیا ہے اگر نصاری کے اقوال نقل کرنا گستاخی ہے تو پھر تو فلاں فلاں بھی گستاخ ہے

یہ مغالطہ ہمارے نومولود بعض فیسبکی دانشوروں کو بھی ہوا ہے تو سوچا اس پر کچھ روشنی ڈالی جائے

اولا:کسی کا رد کے لیے گستاخی والے اقوال نقل کرکے پھر اسکا رد کرنا اور ہے اور اپنا الو ثابت کرنے کے لیے کسی کی گستاخی کو اپنے لیے دلیل بنانا اور ہے۔۔!

مرزا صاحب سے جب سوال ہوا کے لوگ آپ کو دو نمبر کہتے ہیں تو مرزا صاحب نے کہا کے دو نمبر اور دجال تو نصاری بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں یہ بدترین گستاخی ہے علماء نے اسکو بقاعدہ گستاخی شمار کیا ہے

چنانچہ امام ابوالفضل قاضی عیاض بن موسی رحمہ اللہ (المتوفی ۵۴۴ھ) فرماتے ہیں

“جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے اوصاف منسوب کرے بطور ضرب مثل اور اس سے اسکا مقصد خود کو درست ثابت کرنا ہو یا کسی دوسرے کو درست ثابت کرنا ہو جیسے کسی سے برائی کے متعلق کہا گیا تو اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی بری باتیں کہی گئیں ہیں یا اس سے کہا گیا تو نے جھوٹ بولا تو اس نے کہا انبیاء نے بھی جھوٹ بولا ہے تو یہ بےادبی اور گستاخی ہے”

(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ج۲ ص 224 دار الفکر بیروت)

اس پوری عبارت کی روشنی میں واضح ہوا کے کسی فرد کا گستاخانہ اقوال رد کرنے کے لیے نقل کرنا اور ہے اور ان گستاخانہ اقوال کے ذریعے اپنی خفت برائی مٹانا اور ہے

میں طارق مسعود دیوبندی سے پوچھتا ہوں اگر کسی کو کہا گیا

“فلاں بندہ گدھا ہے تو اس نے کہا کے محلہ تو یہ بھی کہتا ہے کے طارق مسعود گدھا ہے”

کیا طارق مسعود دیوبندی اسکو اپنی بےعزتی سمجھیں گے یا اس بندے کو کہیں گے کے تمھاری کوئی غلطی نہیں تم نے تو اہل محلہ کی بات بس نقل کی ہے؟

ثانیا:مرزا صاحب پر اسلیے بھی یہ توہین اور گستاخی بنتی ہے کیونکہ مرزا صاحب مقدسات کی توہین کرنے کے حوالے سے معروف و مشہور ہیں جسکے گواہ عام و خواص کے ساتھ طارق مسعود دیوبندی بھی ہیں اور اس چیز کو ثابت کرنے کے لیے یہ حضرت کراچی سے جہلم تک سفر کرکے آئے تھے۔۔!

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے جو اپنی توہین کے ساتھ ایسے معروف ہو اسکا ایسے جملے بولنا گستاخی ہے اور اس میں کسی اور کی طرف نسبت کرنا کافی نہیں ہے اس پر دو حوالہ جات ملاحظہ ہوں

1-چنانچہ امام ابو عیسی الترمذی (المتوفی 279ھ) نقل کرتے ہیں

قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں انصار میں سے ایک خاندان ایسا تضا جنہیں بنو ابیرق کہا جاتا تھا وہ تین بھائی بشر بشیر اور مبشر تھے بشیر منافق تھا شعر کہتا تھا صحابہ پر تبراء کرتا تھا پھر انکو بعض عرب کی طرف منسوب کردیتا تھا کے فلاں فلاں نے ایسا کہا ہے میں تو بس ناقل ہوں صحابہ نے یہ شعر سنا تو کہا یہ جملے اسی خبیث نے کہے ہوئے ہیں

(سنن الترمذی رقم الحدیث 3036)

2-امام امام ابوالفضل قاضی عیاض بن موسی رحمہ اللہ(المتوفی ۵۴۴ھ ) فرماتے ہیں

“اگر یہ گستاخانہ جملے نقل کرنے والا اپنی بےادبی توہین میں معروف ہے اور اسکی یہ عادت مشہور ہے اور اس بےادبی اور گستاخی کی وجہ سے اسکو اکثر لعن طعن کیا جاتا ہے یا وہ اس طرح کے جملے نقل کرکے خود کو تحفظ دیتا ہے تو اسکا حکم اس شخص کی طرح ہے جو حکم رسول ﷺ کو گالی دینے والے کا ہے اور اسکو یہ بات نہیں سنی جائے گی کے یہ تو فلاں فلاں بندہ بات کرتا ہے میں بس ناقل ہوں اسکو قتل کیا جائے اور اسکو جلد جہنم بھیجا جائے”

(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ص ۲۴۶)

اس پوری تفصیل کے بعد مفتی طارق مسعود اور اسکے حواری فیصلہ کریں

کیا مرزا مقدسات کی بےادبی کرنے میں معروف نہیں ہے؟

کیا مرزے نے اس سے قبل رسول ﷺ صحابہ کے متعلق تبراء نہیں کیا ہے؟

اگر طارق مسعود دیوبندی کے اندر شرم وحیاء ہے تو وہ ضرور اس پر سوچیں گے ورنہ یہ بات قابل غور ضرور ہوگی کے کل تک جو شخص مرزا صاحب کو بدترین گمراہ سمجھتا تھا آج مرزے کے لیے اتنا دفاع انداز کیوں اختیار کررہا ہے

میرا مقصد اس تحریر کے ذرائع ایک عام مغالطے کو دور کرنا اور عام عوام کی اصلاح کرنا ہے طارق مسعود دیوبندی اور اسکے حواری اگر سمجھ جائیں تو اچھی بات ہے وہ نا بھی سمجھیں تو کوئی بات نہیں ہے

وقار احمد