فتاوی رضویہ عربی چار جلدیں
مركز الدراسات الإسلامية جامعة الرضا کی فخریہ پیشکش | فتاوی رضویہ عربی چار جلدیں
الحمد للہ فقیر غفر لہ القدیر کو ۲۰۰۸ سے ۲۰۱۸ تک حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان کی صحبت بابرکت کا شرف حاصل رہا، دس سال کا یہ عرصہ پڑھنے، پڑھانے، رسائل و مضامین لکھنے اور بالخصوص اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کے اردو رسالوں کا عربی ترجمہ کرنے میں گزر گیا ، شروع کے پانچ چھ سال منتخب رسالوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا، پھر یہ خیال ہوا کہ کیوں نہ شروع سے فتاوی رضویہ کا عربی ترجمہ کیا جائے کیونکہ موقع بہت اچھا تھا حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان کے ہوتے ہوئے ان سے بہتر اس کام کو اور کوئی انجام نہیں دے سکتا تھا، کام جتنا ضروری تھا کیونکہ اعلیٰ حضرت کے کھوئے ہوئے تعارف سے معاصر علماے عرب کو متعارف کرانے کے لیے اس سے بہتر راستہ نہیں بچا، اتنا ہی بڑا بھی تھا کیونکہ تیس سے زائد جلدوں کا معاملہ تھا، مگر بحمد اللہ تعالی کام شروع کیا گیا اور کم و بیش دو سال کی مدت میں طبع قدیم کی پہلی جلد جو کتاب الطہارة پرمشتمل ہے کا ترجمہ مکمل ہوا جو چار جلدوں پر پھیل گیا۰
دوسری جلد کا کام شروع ہی ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان مرض الوصال میں مبتلا ہوئے اور کم وبیش ایک سال اس مرض کو صبر ورضا کے ساتھ برداشت کرکے اس دار فانی سے رحلت فرماگئے، اس طرح یہ کام مکمل نہ ہو سکا۰
بہرحال جس ایک جلد کا ترجمہ ہوا تھا مکمل ہوتے ہی اسے حضرت مولانا غلام عاصي بغدادي صاحب متعنا اللہ بطول حیاتہ نے اپنی تحویل میں لے کر اپنی ٹیم سے اپنی نگرانی میں کمپوز کرواکر ہمیں واپس بھیجا جو ہم نے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان کو دوبارہ سنا بھی دیا۰
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان کے وصال پھر نوٹ بندی پھر کورونا اور پھر سیاسی حالات کی نزاکت کی وجہ سے اس کی اشاعت معرض التوا میں پڑ گئی، اب کچھ عرصہ سے جب حالات میں تھوڑی بہتری آئی تو شہزادہ وجانشین تاج الشریعہ حضرت مولانا عسجد رضا قادری مد ظلہ العالی اور مولانا غلام عاصي بغدادي صاحب کے پیہم اصرار سے ہمت پاکر اس کی اشاعت کا منصوبہ بنایا مگر یہ خیال آیا کہ اشاعت سے پہلے اس پر ایک مرتبہ اور نظر ڈالنی چاہیے تاکہ اگر کہیں کوئی بات رہ گئی ہو تو اس کو شامل کیا جائے، کام شروع کیا گیا اور کوشش یہی تھی کہ اس سال عرس رضوی کے موقع پر یہ اشاعت پذیر ہوکر آئے اوراسی موقع پر اس کا رسم اجرا ہو مگر کسی وجہ سے ہماری کوشش کامیاب نہیں ہوئی اور کتاب چھپ کر نہ آسکی اور ۲۴ صفر المظفر ۱۴۴۷ھ کو رات میں حضور مفتی اعظم قدس سرہ کے قل شریف سے پہلے جامعہ الرضا کے اسٹیج پر بھرے مجمع میں ہمیں اس کی اہمیت، افادیت اور ضرورت بیان کرکے اس کے اعلان پر ہی اکتفا کرنا پڑا۰
اللہ تعالی کا فضل شامل حال رہا تو بہت جلد انتظار کی گھڑیاں ختم ہوں گی اور کتاب کی چاروں جلدیں اشاعت پذیر ہوکر آپ کے ہاتھوں میں ہوں گی۰
دعاوں کا طالب
عاشق حسین کشمیری
جامعة الرضا بريلي شريف
Join the Official WhatsApp Channel of Huzur Qaid-e Millat: www.muftiasjadraza.com/join
