کیا آپ کو علم ہے کہ لندن میں ایکس مسلم سوسائٹی(سابق مسلمانوں کی تنظیم جو اب اسلام ترک کر چکے ہیں) ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے جس کے رجسٹرڈ ممبرز کی تعداد تقریبا ایک لاکھ ہو چکی ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ اس تنظیم میں بڑی تعداد پاکستانی، کشمیری اور اردو بولنے والے ہندوستانی مسلمانوں کی ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ اس تنظیم کے ممبرز کی اکثریت تعلیم یافتہ مرتد (مسلمان) جوانوں کی ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ سب “ایک مسلمز” سائنسدان، بینکار، ڈاکٹرز اور دیگر سائنسی علوم کے ماہر ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں یہ ایکس مسلمز آپ کے سب عیوب اعلانیہ بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کیوں ترک کیا؟

ان ایک مسلمز میں سے پچاس کے قریب لوگوں سے میری براہِ راست گفتگو ہو چکی ہے، کیا آپ جانتے ہیں وہ اپنی اس تباہی کا ذمہ دار کسے قرار دیتے ہیں؟
حضور حجۃ الاسلام کو، امام المحدثین کو، شہنشاہِ تصوف کو، والیِ وادیِ ولایت کو، مفکرِ اسلام کو، بلبلِ مدینہ کو، سفیرِ عشقِ رسول کو،  نجم الملت والدین کو، قطبِ عالم کو، مناظر اسلام کو، شمشیرِ اعلٰی حضرت کو، شیرِ اہل سنت کو، قاطع نجدیت و رافضیت کو، ننگی تلوار کو، خطیبِ عرب و عجم کو، سید السادات کو، فخرِ ملت اسلامیہ کو اور شہنشاہِ خطابت کو۔۔۔۔

کیوں؟؟؟
اس لیے کہ ان سب سفید ہاتھیوں نے منبر و محراب پر ان بچوں کی تربیت کے لیے خطبات نہیں دیے، بلکہ انہوں نے پہلے سے تقسیم امت کو نفرت و تعصب پر مبنی خطبات کے ذریعے مزید تقسیم کیا ہے۔ انہوں نے برطانیہ کے سٹیجز پر پاکستان و ہندوستان کے علاقائی مسائل پر بات کی، مذہبی منافرت کو مزید ہوا دی اور فروعی و سطحی مسائل پر مزید شیطنت سے کام لیا۔

واللہ واللہ واللہ۔۔۔ یہ سب لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے مولوی احمق، لاعلم، حقائق سے نظر چرانے والے اور تبلیغِ دین کے لیے ان فِٹ ہیں۔ ان بچوں کو جب ہائی سکول میں ٹرانس جینڈرز، LGBTQ، جنسی تعلیم اور بے راہ روی پڑھائی جا رہی تھی تو اس وقت ان مولویوں نے مسجد و مدرسہ سے اس بری تعلیم کا کتاب و سنت کی روشنی میں رد کیا نہ جواب دیا اور یوں بچے دین سے دور ہو گئے۔

بریڈفورڈ سے تعلق رکھنے والے دو بھائی جو اس تنظیم سے وابستہ ہیں، انہوں نے دو بڑے ہیوی مولویوں کا نام لے کر بتایا کہ ہم ان کے پاس مسلمانوں کے بنیادی عقائد سے متعلق کچھ سوالات لے کر متعدد بار حاضر ہوئے، مولوی صاحب نے ہمیں ہر بار یہ کہہ کر بھگا دیا کہ تم گمراہ و مرتد ہو چکے ہو کہ ذاتِ باری تعالٰی سے متعلق ایسے سوالات ہی کیوں کرتے ہو۔

یہودی طلباء نے انہیں رسول اللہ ﷺ سے متعلق کچھ اعتراضات لکھ کر دیے، اسی شیخ الحدیث صاحب نے یہ کہہ ٹرخا دیا کہ تم لوگ ایسے کلاس فیلوز کے ساتھ نہ بیٹھا کرو، یہ تمہارا دماغ خراب کرتے رہیں گے!!!

او احمقو!
یہ برطانیہ ہے، عیسائیوں کا ملک ہے، اس ملک کا اپنی تعلیمی نظام ہے، ریاستِ مدینہ نہیں، تم یہاں آئے ہو، ان کے دیس میں۔ انہوں نے دعوت نہیں دی، اگر تمہیں یہ ملک اور اس کا نظام پسند نہیں تو ملک چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ کس نے روکا ہے؟
اب آپ کو سمجھ آ رہی ہے کہ انہیں میری باتیں کیوں چبھتی ہیں؟
کیا میں ان مولویوں کے نام لکھوں جن کے داماد، بہو یا خود اپنی اولاد ان ایکس مسلمز کے ساتھ مضبوط روابط رکھتے ہیں؟

کیا میں بتاؤں کس کس مولوی اور پیر کے بچے شراب بخوشی پی لیتے ہیں اور “ریلیشنشپس” رکھے ہوئے ہیں؟

مقصد توہین و تنقیص نہیں، عیب ظاہر کرنا بھی مقصد نہیں  لیکن تمہارے قلوب و اذہان اور ضمیر پر جو گرد جم چکی ہے اسے ہٹانا بھی کوئی سوکھا کام نہیں اس لیے اس سرطان کا علاج اسی سختی و نشتر لگانے میں ہے۔

آج تمہیں غصہ آ رہا ہے؟ انتظار کرو، یہ آج کے بچے تمہیں کل مساجد کے محراب سے دھکے دے کر نکال دیں گے، تمہاری پگڑیاں اچھالی جائیں گے لیکن اس وقت افسوس کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا کیونکہ تمہاری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہوں گے، تمہاری یادداشت کمزور ہو چکی ہو گی، تمہاری آواز تھک چکی ہو گی  اور تم اس وقت کچھ نہیں کر سکو گے۔ اب بھی وقت ہے کہ اپنے رویے بدلو، موضوعات بدلو، مساجد کے ماحول بدلو اور بچوں کو وہ پڑھاؤ جو اس وقت کے ساتھ ساتھ مستقبل کی بھی ضرورت ہے۔

محمد افتخار الحسن
۱۰ ستمبر ۲۰۲۵