میں نے اپنے گھر کی چھت پہ کرکٹ کھیلتے ہوئے 600 رنز بنا کر برائن لارا کا 400 رنز بنانے والا ریکارڈ توڑا ہے۔۔۔
برائن لارا تو میرے سامنے شئے ای کوئی نہیں۔
میں نے یہ بات جب اپنے علاقے کے لوگوں سے کہی کہ میں برائن لارا سے بڑا بیٹسمین ہوں مجھے اک ورلڈ کلاس بیٹسمین مانو۔۔۔
بتاؤ 400 زیاده ہوتے ہیں یا 600؟
پھر کرکٹ کھیلنے والوں نے کہا کہ آئیں ہماری ٹیم میں کھیلیں میں نے کہا گراؤنڈ میں میں کھیلنا پسند نہیں کرتا۔۔۔
اگر آپ لوگوں کو نہیں یقین تو میں اپنی چھت سے اپنی بیٹنگ کی ویڈیو بنا کے سینڈ کرونگا اس میں میرے سارے شارٹس دیکھ لو۔۔۔
پھر اک بالر نے کہا اگر تو اتنا بیٹسمین ہے تو سامنے کھیل کے دکھا۔۔۔
میں نے کہا جا جا پہلے وسیم اکرم سے لکھوا کے لا، وقار یونس شعیب اختر سے لکھوا کے لا پھر تیرے سامنے کھیلوں گا۔۔۔
میں نے 600 رنز کئے ہیں میرا لیول نہیں تیرے جیسے بالر کے ساتھ کھیلنا۔۔۔
میں گراؤنڈ میں کھیلنے والا نہیں ہوں وہ برائن لارا ہی ھے جس نے گراؤنڈ میں 400 کئے میں 600 والا ہوں میرے سامنے کوئی بڑا بالر آئے یا لکھ کے دے کہ یہ بالر ہماری طرف سے ہے۔۔۔
کسی مائی کے لال کی اب تک جرات نہیں ہوئی کہ لکھوا کے لے آئے۔۔۔
میں تمہاری طرح گراؤنڈ کی مٹی کھانے والا نہیں ہوں میں نے اپنے گھر کی چھت پر 600 رنز بنائے ہیں میری ویڈیو میرے شارٹس دیکھو برائن لارا تے شئے کوئ نہیں۔۔۔

میری اس بات سے سب کھلاڑیوں کو چڑ آتی ہے۔۔۔
میری چھت پہ وسیم اکرم، شعیب اختر، وقار کو لے آؤ ٹائم قیامت تک کا۔۔۔
مجھے میدان میں بلاتے ہیں میں کیوں جاؤں میدان میں، مجھے سکن کا پروبلم ہے وہاں گرمی ہوتی ھے۔۔۔
ایتھے لیا نا جہنو لیانا اے۔۔۔
اور یہ بالرز جنکے میں نام لیتا ہوں کبھی بھی میری چھت پر کھیلنے نہیں آئیں گے ٹائم قیامت تک جے۔۔۔

(مرزا انجینئر کی کہانی )