گستاخ چارلی مارا گیا:
سلمان علی – شعور نیوز
وہ شخص نہ حکومتی عہدیدار تھا، نہ ہی سرکاری افسر، نہ ہی فوج کا کوئی اعلیٰ عہدیدار ، نہ ملک کا بانی، نہ کوئی سائنسدان، نہ کوئی گولڈ میڈلسٹ ،مگر اُس کی موت پر امریکی صدر نے 3 دن کے لیے پورے  ملک میں امریکی پرچم ہی نیچے کرا دیئے ۔یہ تھا31 سالہ ، ملعون چارلس جیمز کرک جسے چارلی کرک کے نام سے جانا جاتاتھا۔اُس کا بنیادی تعارف میڈیا پر میزبانی یا چرب زبانی کا تھا۔اِسی گندی زبان سے اُس ملعون نے ایک امریکی مرتد کے ساتھ بیٹھ کر نبی کریم ﷺ سے متعلق جو ناقابل بیان گفتگو کی وہ اُس کی شیاطینت کا کھلا ثبوت ہے۔بطور مسلمان ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ایسے گستاخ کو بھرے مجمع میں ،سیکڑوں کیمروں کے درمیان ایسے قتل کرایا کہ پوری دنیا میں طاغوتی پرچم سرنگوںہو گیا اور قاتل آج تک نامعلوم ہے۔
سوشل میڈیا پر اُس کے نام کا ، اُس کی موت کا ٹرینڈ 15 لاکھ پوسٹوں کے ساتھ شیطان کی موت پر اُس کے ساتھیو کی چیخوں کی علامت بنا ہوا تھا۔10 ستمبر کو امریکہ کی ریاست اُتاہ کے شہر’ اورم ‘ کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران وہ بطور مقررمدعو تھا۔اُتاہ ویلی یونیورسٹی (UVU) کے اُس پروگرام میں کوئی 3 ہزار لوگ شریک تھے ۔ چارلی کو وہاں اپنی تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے ( TPUSA) کے حوالے سے ہی اُسے گفتگو کرنی تھی۔اُس نے خطاب شروع کیا پھر سوال جواب بھی شروع ہوئے تو اُس دوران ہی ایک گولی نے اُس کو نشانہ بنا لیا۔ گولی کی آواز سے ایسی بھگدڑ مچی کہ آپ کو وڈیوز دیکھ کر حیرت ہوگی۔حالانکہ وہ کھلے آسمان کے نیچے نہیں بلکہ ایک ٹینٹ کے اندر کرسی پر بیٹھ کر بات کر رہا تھا۔ایونٹ کی وڈیوز سوشل میڈیا پر موجو دہیں۔پولیس کی ابتدائی رپورٹس اور ویڈیو شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کو کسی چھت یا قریبی عمارت کی سمت سے نشانہ بنایا گیا۔گولی اُس کی گردن میں لگی، اُس کو ہسپتال تک لے کر گئے مگر وہ بچ نہیں سکا۔تفتیش جاری ہے ، امریکہ میں اسے سیاسی قتل قرار دیاگیا۔اُس شخص کی موت کی خبر کی تصدیق امریکہ کے صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے دی۔ٹرمپ نے اُس شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع پر پوری قوم سے دعائیں کرنے کی اپیل بھی کی۔
چارلی کون؟
چارلی کرک کا بنیادی تعارف ’میڈیا پرسنالٹی ‘اس لیے تھا کہ وہ صرف سیاسی کارکن یا اپنی این جی او کا سربراہ نہیں بلکہ ٹی وی، ریڈیو، پوڈکاسٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر باقاعدہ موجود رہنے والی شخصیت تھا۔ اُس نے “The Charlie Kirk Show‘‘ کے نام سے پوڈکاسٹ/ریڈیو شو شروع کیا جو امریکہ بھر میں لاکھوں سامعین تک پہنچا۔ یہ شو ریڈیو اسٹیشنز کے ساتھ ساتھ Spotify اور ApplePodcasts پر بھی نشر ہوتا تھا۔اس کے بعد وہ فاکس نیوز اور نیوز میکس جیسے کنزرویٹو ٹی وی چینلز پر باقاعدہ بطور تجزیہ کار اور مہمان شریک ہونا شروع ہوا۔پھر CNN اور MSNBC جیسے بڑے چینلز پر ۔سوشل میڈیا کی آمد کےبعد تو جیسے پر لگ گئے ۔ٹوئٹر (X)  پر اُس کے 56 لاکھ فالوورز ہو چکے تھے ۔اسی طرح انسٹاگرام، یوٹیوب اور TikTok پر بھی لاکھوں فالوورز تھے۔ وہ ان پلیٹ فارمز کو اپنی تنظیم Turning Point USA کے بیانیے پھیلانے اور نوجوانوں کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کرتاتھا۔

چارلی کی تنظیم:
چارلی کی بنائی گئی تنظیم اُس کے باطل عقیدے سے جُڑی ہوئی تھی۔یہ ادارہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں قدامت پسند (Conservative) نظریات پھیلانے اور لبرل ایجنڈے کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیے سرگرم تھا۔اس تنظیم کے تحت کانفرنسز ، یونیورسٹیز میں سرگرمیاںاور نوجوانوں کے لیے میڈیا کیمپین چلائی جاتی تھیں۔Turning Point Actionاُس کی ایک سیاسی شاخ ہے ، جس کا مقصد امریکی انتخابی عمل میں قدامت پسند امیدواروں کی حمایت اور ٹرمپ کی مہمات کو تقویت دینا ہے ۔اسی طرح Turning Point Faith بھی اُن کی ایک ذیلی شاخ ہے جو چرچ اور مذہبی کمیونٹیز کے ساتھ عیسائی قدامت پسند سیاسی نظریات جوڑنے پر مرکوز ہے۔The Charlie Kirk Show اُس کا ذاتی میڈیا پلیٹ فارم (پوڈکاسٹ + ریڈیو)، جس نے اُس کو بطور میڈیا پرسنالٹی مزید مقبول بنایا۔

عیسائی قدامت  پسندی کیا ہے؟
چارلی عیسائی قدامت پسند قوم پرستی (Christian Nationalism) کا حامی تھا۔موجودہ امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ بھی اِسی بیانے کی بنیاد پر امریکہ کے 2024 کے صدارتی انتخابات میں نمایاں کامیابی لیکر کامیاب ہوا۔ وہ کھلے عام کہتا تھا کہ ’’امریکہ ایک عیسائی ملک ہے‘‘ اور امریکی آئین کو بائبل سے ہم آہنگ قرار دیتا تھا۔ اس طرح وہ اپنے مذہب کو سیاست کے ساتھ جوڑ کر ایک نظریاتی اور سخت گیر شناخت قائم کرتاتھا۔ امریکی سیاسی پس منظر میں ایسے لوگ کلچرل کنزرویٹو / دائیں بازو کے پاپولسٹ کہلاتے ہیں۔ان کے بنیادی ظاہری مقاصد یہ ہیں:امریکہ کو سرکاری طور پر عیسائی ملک کے طور پر تسلیم کروانا۔آئین، سیاست، تعلیم اور قانون کو بائبل کے مطابق ڈھالنا۔سیکولرزم کو رد کر کے Christian Morality کو ریاستی سطح پر نافذ کرنا۔خاندانی اقدار، مذہبی آزادی (صرف عیسائیت کے لیے)، ہم جنس پرستی اور اسقاطِ حمل کے خلاف قوانین کو مضبوط بنانا۔دنیا میں امریکہ کو ایک عیسائی طاقت کے طور پر پیش کرنا۔

مذہبی بددیانتیـ:
چونکہ یہ سب لوگ سیاسی اور مذہبی شدت پسندی کے قائل ہوتے ہیں (خاص طور پر عیسائیت کو سیاست پر حاوی کرنے میں) اس لیے اسلام کے بارے میں اُن کا موقف مکمل منفی ہوتا ہے۔ یہ
سب لوگ اسلام کو سکیورٹی یا تہذیبی خطرے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔نبی کریم ﷺ کے بارے میں جو الفاظ یہ استعمال کرچکا ہے وہ ناقابل بیان ہیں۔اب یہ سارے (بددیانت )قدامت پسند /عیسائیت پسند دراصل پوری دُنیا کےساتھ اپنے آپ کو بھی دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ اپنی تاریخ جان بوجھ کر اسلام کے غلبہ پانے کے بعد سے شروع کرتے ہیں۔ عیسائیت کی تاریخ تو اگر کوئی شروع کرے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اُس کو شروع کرنی چاہیے۔جب وہ عیسیٰ علیہ السلام سے شروع کریں گے تو اُن کو یہ سارے ثبوت ملیں گے کہ اصل میں عیسائیت کو تو یہودیوں نے خراب کیا۔مسلمان تو اُن کے کم از کم 600 سال کےبعد منظر پر آئے۔ اب ایک طرف سیکولر ازم ہے جو مذہب و سیاست کو الگ کرتا ہے اور لبرل ہیومن رائٹس کو سیاست کا عنوان بناتا ہے۔دوسری طرف عیسائیت قدامت پسندی ہے جو صرف اُن کی اپنی بنائی عیسائیت کو ہی سیاست میں لانا چاہتی ہے۔مطلب اسلام دونوں کے لیے مکمل ’مائنس‘ ہے۔یہ مکمل عقلی ،علمی و عملی بددیانتی اور شیطانی دھوکہ ہے۔

صیہونی عیسائی :
جب چارلی جیسے لوگ ایسے نظریات و عقائد رکھتے ہیں تو اُسی کے نتیجے میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کا فلسطین (ارضِ مقدس) میں واپس آنا، قیامت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کا پیش خیمہ ہے۔اس لیے Genesis 12:3 (پرانے عہدنامہ کی آیت) “جو اسرائیل کو برکت دے گا، خدا اسے برکت دے گا۔” اس آیت کو بنیاد بنا کر وہ اسرائیل کے ساتھ مکمل وفاداری کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔اسی لیے یہ سارے  Christian Nationalists اسرائیل کی ہر پالیسی (حتیٰ کہ ظلم اور نسل کشی) کا دفاع کرتے ہیں۔ان کی کتابوں زکریاہ 12:3 اور زکریاہ 14:2 میں لکھا ہے کہ آخر زمانہ میں تمام قومیں یروشلم کے خلاف جمع ہوں گی اور خدا اُنہیں شکست دے گا۔ عیسائی Zionists یہ آیات مسلمانوں (خاص طور پر فلسطینیوں) پر فٹ کرتے ہیں، اور اسرائیل کی حمایت کو اپنا دینی فریضہ بنا لیتے ہیں۔
یہ بات حالیہ دنوں ’مائیک ہکابی ‘نے ایک انٹرویو میں دہرائی۔ یہ مائیک امریکہ کی ٹرمپ حکومت کا اسرائیل میں بھیجا گیا سفیر ہے۔ یہ بھی مکمل قدامت پسند ہے۔ یہ صاف کہتا ہے کہ ’’یہ جغرافیائی سیاسی تنازع نہیں بلکہ ایک روحانی جنگ ہے۔ یہ زمانوں کی لڑائی ہے۔ یہ رائٹ لیفٹ ، لبرل، قدامت پسند کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنت بمقابلہ جہنم کی جنگ ہے۔ یہ نیکی بمقابلہ بدی کی جنگ ہے۔خاص طور پر امریکہ اور پوری دنیا میں مسیحیوں کو اسے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ اسرائیل کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں کیونکہ آپ حکومت کی کسی چیز سے متفق نہیں ۔مگر آپ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوں کیونکہ اسرائیل دراصل ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے خدا کی روایت اور قانون کے لیے، روشنی کے لیے، خود مغربی تہذیب کی اصل بنیاد لیے، اور ان لوگوں کے لیے کھڑا ہے جو نہ صرف ہر یہودی کو بلکہ ہر عیسائی کو فنا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
اس طرح کا قدامت پسندی کا عقیدہ رکھنے والے ’صیہونی عیسائی ‘ کہلاتے ہیں۔ صیہونی ہونے کے لیے یہودی ہونا ضروری نہیں۔ اس معاملے میں نیت یا کسی کے دِل میں جھانکنے کا کوئی چکر نہیں ہے۔مرزا جہلمی سے لیکر غامدی اور ڈانلڈ ٹرمپ سے نیتن یاہو تک جو بھی قیام اسرائیل کو کسی بھی قسم کی بنیادیں فراہم کرتا ہے وہ صیہونی ہی کہلاتا ہے۔

مشن اسٹیٹمنٹ:
انجیلِ متی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول نقل کیا جاتا ہے:”جاؤ اور سب قوموں کو شاگرد بناؤ، اور اُنہیں باپ، بیٹے اور روح القدس کے نام پر بپتسمہ دو۔”(متی 28:19) اس متن کو وہ سارے  قدامت پسند عیسائی پوری دنیا میں تبلیغ (Missionary Work) کا حکم سمجھتے ہیں۔یہاں سے وہ تصور غلبہ لاتے ہیں ۔تمام دنیا کو عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار بنانا۔اسلام، بدھ مت، ہندو مت وغیرہ کو
’’جھوٹے مذاہب ‘‘کہہ کر اُن کے ماننے والوں کو اپنے عقیدے کے مطابق Jesus کی دوبارہ آمد قریب لانا ہے ، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر میں عیسائیت پھیلنے کے بعد ہی قیامت آئے گی۔ اب آپ سمجھیں نہ سمجھیں یہ ہے وہ شیطانی نظریہ جس کی بنیاد پر وہ اپنا ایسا غلبہ مانگ رہے ہیں کہ آپ کو وہ اپنے دائرے میں لائیں گے ۔آپ نہیں آؤگے تو اُن کا مذہب آپ کو ’’زمین سے صاف ‘‘کرنے کا کہتا ہے۔ یہ آنا ،صرف آنا نہیں ہے بلکہ وہ اس میں آپ کے دین ، ایمان، نبی کریم ﷺ ،کتاب اللہ سب کو نشانہ تضحیک ، اِن سب عقائد کے خلاف بھی بات کرنے پر مجبور کرتا ہے۔یہ کوئی بہت معمولی بات نہیں۔ کمال یہ ہے کہ پہلے تنویری مفکرین نے استعماری فکر کے ساتھ پوری دنیا سے مذاہب کا خاتمہ کرانے، ہرقسم کے مذہب کے غلبہ کا تصور ختم کرادیا۔ لبرل اقدار نافذ کریں، اب اُن کے بطن سے ہی ’ٹرمپ‘ اور اُس کے غلیظ ساتھیو کی صورت یہ لوگ سامنے آچکے ہیں۔

کہاں ہےمزاحمت؟:
اس ہفتے قطر پر ہونے والا اسرائیلی حملہ کیا پیغام دے رہا ہے؟کبھی آپ نے سوچا؟ دنیا کی معلوم تاریخ میں جنگوںکی بہت بڑی تاریخ ہے، مگر ایسا کبھی کہیں نہیں ہوا کہ ثالث کی موجودگی و امان میں ایک طرف مذاکرات جاری ہوں وہاں ایک فریق دھوکے سے حملہ کردے۔ کوئی شہید ہو یا نہ ہو ، حملہ کرنا اصل سوال ہے۔ آپ مسلمان کی اسلام کی عینک سے دیکھیں تو یہ صرف ایک ہی پیغام بتاتا ہے کہ
استعمار نے تصور جہاد کو جس طرح روندا،خوب سارے RCM پیدا کیے اب اُن کے لیے زمین ہموار ہوچکی ہے۔مسلمانوں میں جہاں بھی، جو بھی ، جس قسم کی مزاحمت، تصور جہاد باقی ہے اُس کو ہی اب فائنل راؤنڈ کےطور پر کچلا جا رہا ہے۔ غزہ اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ قطر حملہ اس کی دلیل ہے۔ ویسے پاکستان بھی ایک مثال ہے ان معنوں میں کہ یہاں سے امریکی جہاز جا کر افغانستان پر ڈیزی کٹر بم برساتے رہے۔ پاکستان کے اندر امریکی فوج نے داخل ہو کر ایبٹ آباد میں آپریشن کرلیا۔اِن سب کے بعد بھی تاریخ گواہ ہے کہ صرف زبانی مذمت ہوتی ہے۔ہاں، ایران عراق جنگ، عراق کویت جنگ، ایران پاکستان حملے، پاک و بھارت حملے ، سوڈان خانہ جنگی وغیرہ چلیں گے ۔اسرائیل کی طرف ، امریکہ کی طرف آنکھ نہیں اٹھے گی۔کیوں؟ کیونکہ میں نے تصور مزاحمت صرف ’استعمار‘ ( امریکہ ) کے خلاف ہی ختم کیا ہے ، باقی دِکھاوے کی قومی غیرت کسی کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔قطر میں ایک نہیں 2امریکی فوجی اڈے ہیں، قطر کیسے کوئی معمولی ہمت بھی کرے گا؟قطر میں امریکی ، یورپی ٹیکنالوجی سے بنایا گیا  بلکہ خریدا گیا میزائل دفائی نظام موجو دہے مگر وہ امریکہ کے خلاف کیسے کام کرے گا؟سمجھے کچھ۔ بس کہنا ، یاد دلانا یہی ہے کہ اگر امریکہ اپنی مذہبی جنونیت کے ساتھ آپ پر حملہ آور ہے ،تو آپ کون سے مذہب پر کھڑے ہیں جو آپ سے باطل کے سامنے تصور مزاحمت ہی چھین چکا ہے؟
آخری مزے دار بات سُن لیں ۔ یہ جو قدامت پسند عیسائیت آپ کو ختم کر رہی ہے اُس کی تعلیمات محبت، امن، صبر، دعا ،محبت، باطنی تبدیلی، تزکیہ پر کھڑی ہیں۔ اُن کی تعلیمات میں یہ لکھا ہے کہ ’’اگر کوئی تیرے دائیں گال پر طمانچہ مارے، تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔‘‘(متی 5:39 ) مگر ستم یہ ہے کہ آپ کا نبی تو نَبِیُّ الْمَلَاحِم( جنگوں کا نبی) نَبِيُّ الْقِتَال (قتال کا نبی)ﷺ کہلاتا ہے ۔ آپ کی کتا ب میں 200 آیات ہیں جو باطل کے خلاف مزاحمت کے پورے احکامات کے ساتھ کھڑی ہیں۔