انجینئر محمد علی مرزا کیس: کیا 295 سی عائد ہوتی ہے؟
انجینئر محمد علی مرزا کیس: کیا 295 سی عائد ہوتی ہے؟
مفتی عبدالمجید
روئے زمین کے نقشے پر موجود تمام ممالک میں سے شاید یہ اعزاز پاکستان کے پاس ہے کہ اس ملک میں مذہب اور دین کے موضوع پر لیکچرز اور گفت گو کے لیے کوئی معیار مقرر نہیں ہے۔اس کے لیے متعلقہ شخص کا پختہ فکر عالم ہونا ضروری نہیں سمجھا جاتا بلکہ کسی بھی فیلڈ کا شخص ہو اسے یہ اجازت ہوتی ہے کہ وہ مذہب اور مذہبی مقدسات پر جس قدر بے باک انداز میں چاہے تنقید کرسکتا ہے۔الٹی گنگا بہنے کی یہ کیفیت ہے کہ اگر ایسا شخص دینی علوم سے ہٹ کر کسی دوسری فیلڈ میں ڈگری ہولڈر ہے اور چاہے وہ اپنے شعبہ میں ناکام ترین فرد کی ایک بدترین مثال ہی کیوں نہ ہو پھر بھی دین اور مذہب کے موضوع پر اس کے لیکچرز عوام الناس کے نزدیک وحی کے بعد دوسرا قابل اعتبار ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں مذہبی فکر میں انارکی کا طوفان کبھی تھمنے میں نہیں آیا۔حالیہ کچھ ہی عرصہ قبل انجینئر محمد علی مرزا کے نام سے موسوم ایک یوٹیوبر کی طرف سے عیسائیوں کی طرف ایک عقیدہ منسوب کرنے کے بعد ملک میں ایک عجب بھونچال آیا ہوا ہے۔ مختلف اطراف سے اس یوٹیوبر کی مخالفت اور حق میں آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ ایسے ماحول میں سب سے پہلا خون جو چشم فلک روئے زمین پر بہتا ہوا دیکھتی ہے وہ علم وتحقیق کا ہوتا ہے جس کی کوکھ سے پھر عدم توازن اور ناانصافی جنم لیتے ہیں۔ درج ذیل سطور میں اس متنازعہ جملہ کے بارے میں یہ واضح کیا جائے گا کہ کیا اس پر 295سی کے تحت سزا لازم آتی ہے یا نہیں؟۔
لفظ دجال کے اطلاق میں عیسائی عقیدہ کی تحقیق
اولین طور پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ کسی بھی مذہب کی طرف جب کوئی عقیدہ منسوب کیا جاتا ہے تو اس کے ثبوت کے طور پر سب سے پہلے اس مذہب کے بنیادی لٹریچر اور بعد ازاں اس لٹریچر کی تشریح میں ان شخصیات کی آراء کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے جن کا اس مذہب میں یہ مقام ہو کہ ان کے بیان کیے گئے افکار کو اس مذہب میں ” عقیدہ” سمجھا جاتا ہو۔ اگر لٹریچر میں ایسا کوئی تصور موجود نہ ہو اور نہ ہی مذکورہ بالا معیار کی حامل کسی شخصیت نے ایسا کوئی بیانیہ قائم کیا ہو تو فقط بعض متعصب مستشرقین غیر معتدل اور غیر متوازن افراد کے الفاظ پورے مذہب عیسائیت کا ”عقیدہ” کہلائے جانے کے مستحق نہیں ہوں گے۔
عیسائی مذہبی لٹریچر میں لفظ ” دجال” کے استعمال کی حقیقت
لفظ ” دجال” کا استعمال عیسائیت کے مذہبی لٹریچر میں Antichrist کے لفظ سے ملتا ہے اور اس لفظ کو فقط ایک خاص شخص کے ساتھ جوڑا گیا ہے جس کا تذکرہ اسلامی مذہبی ادب میں ” دجال” کے نام کے ساتھ موجود ہے۔ عیسائی عقائد میں اولین بنیادی مصدر بائبل ہے اور بائبل میں جہاں جہاں یہ لفظ مذکور ہے اس کا اطلاق ان مقامات پر جھوٹے مدعئ نبوت کے لیے نہیں کیا گیا۔ بائبل کے مذکورہ مقامات درج ذیل ہیں:
1. Children, it is the last hour. And as you have heard that antichrist is coming, even now many antichrists have come. By this we know that it is the last hour. They went out from us, but they did not belong to us; for if they had belonged to us, they would have remained with us. However, they went out so that it might be made clear that none of them belongs to us.
بچو! یہ آخری گھڑی ہے۔ اور جیسا کہ آپ نے سنا ہے کہ دجال آنے والا ہے، اب بھی بہت سے دجال آ چکے ہیں۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ آخری گھڑی ہے۔ وہ ہم میں سے نکل گئے، لیکن وہ ہمارے نہیں تھے؛ کیونکہ اگر وہ ہمارے ہوتے، تو ہمارے ساتھ رہتے۔ بہرحال، وہ نکل گئے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ ان میں سے کوئی بھی ہمارا نہیں ہے۔
2. This one is the antichrist: the one who denies the Father and the Son. No one who denies the Son has the Father; he who confesses the Son has the Father as well.
دجال وہ ہے جو باپ اور بیٹے کا انکار کرتا ہے۔ جو کوئی بیٹے کا انکار کرتا ہے، اُس کے پاس باپ نہیں ہے؛ جو بیٹے کا اقرار کرتا ہے، اُس کے پاس باپ بھی ہے۔
3. This is how you know the Spirit of God: Every spirit that confesses that Jesus Christ has come in the flesh is from God, but every spirit that does not confess Jesus is not from God. This is the spirit of the antichrist, which you have heard is coming; even now it is already in the world.
اس سے آپ خدا کی روح کو پہچان سکتے ہیں: ہر روح جو یہ اقرار کرتی ہے کہ یسوع مسیح جسم میں ہو کر آیا ہے، وہ خدا کی طرف سے ہے، لیکن ہر روح جو یسوع کا اقرار نہیں کرتی وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ دجال کی روح ہے، جس کے بارے میں آپ نے سنا ہے کہ وہ آنے والی ہے؛ اب بھی وہ دنیا میں موجود ہے۔
4. Many deceivers have gone out into the world; they do not confess the coming of Jesus Christ in the flesh. This is the deceiver and the antichrist.
بہت سے دھوکا دینے والے دنیا میں نکل گئے ہیں؛ وہ جسم میں یسوع مسیح کے آنے کا اقرار نہیں کرتے۔ یہ ہی دھوکا دینے والا اور دجال ہے۔
مذکورہ بالا اقتباسات سے بخوبی عیاں ہوتا ہے کہ لفظ دجال کا اطلاق کسی بھی ایسے فرد پر نہیں کیا گیا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ علاوہ ازیں بائبل کے وہ مقامات جہاں جھوٹے مدعیان نبوت کا ذکر ہے وہاں ان کے لیے (False Prophets) کے الفاظ تو ملتے ہیں لیکن Antichrist یعنی لفظ دجال کا اطلاق ان پر نہیں کیا گیا۔
پیغمبر آخر الزماںﷺ کے بارے میں Antichrist کا لفظ استعمال کرنے والا عیسائی اور اس کا انجام
یونی ورسٹی آف واٹر لو کے سابق پروفیسر Daniel J. Sahas اپنی کتاب : JOHN OF DAMASCUS ON ISLAM The HERESY OF ISHMAELITES میں لکھتے ہیں:
‘‘Forerunner of the Antichrist”: In the same year that the Fount of Knowledge was written (743) Peter, bishop of Maiuma, was sentenced to death because he condemned Islam publicly and-he called Muhammad a “„false prophet” and the “forerunner of the Antichrist (Page: 68 )
جس سال فاؤنٹ آف نالج لکھی گئی (743ء)، اسی سال مایوما کے بشپ پیٹر کو موت کی سزا سنائی گئی کیونکہ اُس نے کھلے عام اسلام کی مذمت کی اور محمد کو ‘جھوٹا نبی اور دجال کا پیش خیمہ قرار دیا۔
پروفیسر مذکور کے مطابق مذکورہ بالا سخت الفاظ کا استعمال نہ صرف اسلام کے خلاف پہلی بار سامنے آیا بلکہ عیسائی فرقوں کی باہمی لڑائی میں اس لفظ کا استعمال شہنشاہ لیو سوم، اس کے بیٹے کونسٹنٹائن پنجم، قسطنطنیہ کے پیٹریارک جان ہفتم گرامیٹیکوس (836-842) اور ممکنہ طور پر کچھ دیگر نمایاں سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے لیے بھی کیا گیا تھا۔ جان آف دمشق نے اس لفظ کا استعمال مخالف عیسائی فرقے نسطوریہ کے لیے بھی کیا تھا۔ ( ملاحظہ ہو مذکورہ کتاب کا صفحہ نمبر: 69)
اسی مقام پر ہی پروفیسر ڈینیئل نے حاشیہ میں یہ وضاحت بھی درج کی ہے:
John of Damascus, unlike Peter of Maiuma, did not call Muhammad personally the „forerunner of the Antichrist”, but
applied it to the “religion”of the Ishmaelites… (page:69)
دمشق کے جان نے، مایوما کے پیٹر کے برعکس، محمد کو ذاتی طور پر ”دجال کا پیش خیمہ” نہیں کہا، بلکہ اس کا اطلاق اسماعیلیوں (اہل اسلام )کے “مذہب” پر کیا۔
مذکورہ بالا اقتباسات سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ جو لفظ انجینئر محمد علی مرزا صاحب نے عیسائیوں کی طرف بطور عقیدہ منسوب کیا ہے وہ آٹھویں صدی عیسوی میں عیسائیت کے فقط ایک اقلیتی فرقے کے ایک فرد نے نہ صرف دین اسلام بلکہ خود اپنے ہم مذہب لوگوں کے لیے بھی استعمال کیا۔ پیغمبر اسلام کے بارے میں یہ لفظ استعمال کرنے والے شخص کو اس وقت کی اسلامی حکومت نے سزائے موت دے دی تھی۔ اس صورت حال میں یہ کہنا کیسے درست ہوسکتا ہے کہ جو شخص عیسائی ہے وہ پیغمبر اسلام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہے؟؟؟؟ نیز مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ ایسی عورت سے اسلام شادی کی اجازت دیتا ہے یہ تب درست ہوتا جب نزول قرآن کے دور میں یہ لفظ رسول اللہﷺ کے خلاف مستعمل ہوتا اور پھر بھی قرآن اسے برداشت کرتے ہوئے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دیتا لیکن کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا کہ جس سے عہد رسالت کے عیسائیوں کا رسول اللہﷺ کےبارے میں اس لفظ کے استعمال کا عقیدہ ثابت ہو۔ فقط نبی نہ ماننے سے یہ کہاں سے لازم آتا ہے کہ عیسائی پیغمبر اسلام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں جو مرزا صاحب ان کی طرف منسو ب کرر ہے ہیں؟؟؟؟؟
کیا مرزا صاحب نے فقط نقل کفر کیا ہے؟؟؟
مرزا صاحب نے جو الفاظ مذہب عیسائیت کی طرف منسوب کیے ہیں انہیں ” نقل کفر” تب کہا جاسکتا تھا کہ جب عیسائیت کے جمہور اہل مذہب / عوام کا یہ عقیدہ ہوتا یا بائبل سے یہ ثابت ہوتا کہ ہر مدعئ نبوت دجال ہے۔ لیکن یہاں مرزا صاحب کے معاملہ میں کیفیت یہ ہے کہ ا نہوں نے حدیث پاک میں مذکور جھوٹے مدعیانِ نبوت کے لیے مستعمل لفظ دجال کو عیسائیت کی طرف غلط طور پر منسوب کرکے اسے رسول اللہﷺ کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ ” نقل کفر” نہیں بلکہ ” کشید کفر” ہے ۔ یعنی مثال کے طور پراگر ایک مسلمان یہ کہے کہ جو مدعئ نبوت جھوٹا ہو وہ حدیث پاک کی رو سے دجال ہے اور جواباً کوئی کہہ دے کہ اس کی زد میں تمہارے اپنے پیغمبر بھی آتے ہیں کیونکہ انہیں عیسائی نبی نہیں مانتے۔ تو کیا یہ توہین رسالت نہ ہوگی؟؟؟ یعنی ایک لفظ کو کھینچ کے رسول اللہﷺ کی ذات پر چسپاں کرنا اور اسے کسی دوسرے مذہب کی طرف منسوب کردینا حالانکہ وہ اس مذہب کے عقائد میں بنیادی طور پر شامل ہی نہیں ہے تو کیا یہ توہین رسالت کے زمرے میں نہیں آئے گا؟؟؟ اس معاملہ میں ایک اور بات بھی ذہن نشین رہے کہ مستشرقین نے جو ناشائستہ الفاظ رسول اللہﷺ کے لیے استعمال کیے ہیں انہیں ” عیسائیت کا عقیدہ” نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ لوگ عیسائی مذہب کی ایسی نمائندہ شخصیات نہیں ہیں کہ جن کے الفاظ کو پورے مذہب کے عقیدہ کی حیثیت حاصل ہو۔
جسٹس قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ
اگر کسی شخص نے گستاخی کے الفاظ اپنی طرف سے گھڑ کر اسے کسی اور کی طرف منسوب کردیا تو ایسے شخص کے بارے میں قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
وَإِنِ اتُّهِمَ هَذَا الْحَاكِي فِيمَا حَكَاهُ أَنَّهُ اخْتَلَقَهُ وَنَسَبَهُ إِلَى غَيْرِهِ، أَوْ كَانَتْ تِلْكَ عَادَةً لَهُ، أَوْ ظَهَرَ اسْتِحْسَانُهُ لِذَلِكَ، أَوْ كَانَ مُولَعًا بِمِثْلِهِ وَالِاسْتِخْفَافِ لَهُ، أَوِ التَّحَفُّظِ لِمِثْلِهِ وَطَلَبِهِ وَرِوَايَةِ أَشْعَارِ هَجْوِهِ صلى الله عليه وسلم وَسَبِّهِ، فَحُكْمُ هَذَا حُكْمُ السَّابِّ نَفْسِهِ.. يُؤَاخَذُ بِقَوْلِهِ وَلَا تَنْفَعُهُ نِسْبَتُهُ إِلَى غَيْرِهِ، فَيُبَادَرُ بِقَتْلِهِ وَيُعَجِّلُ إِلَى الهاوية أمه.
جب نقل کرنے والے پر اس بات کا الزام ہو کہ جو کچھ اس نے بیان کیا ہے وہ اس کی اپنی گھڑی ہوئی بات ہے جسے اس نے کسی اور کی طرف منسوب کیا ہے، یا یہ اس کی عادت ہو، یا اس کا اس طرح کی باتوں کو پسند کرنا ظاہر ہو، یا وہ ایسی باتوں میں دلچسپی رکھتا ہو اور انہیں ہلکا سمجھتا ہو، یا ایسی باتوں کو یاد کرنے اور ان کی تلاش میں لگا رہتا ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو اور سبّ (گالیوں) پر مشتمل اشعار روایت کرتا ہو، تو ایسے شخص کا حکم بھی وہی ہے جو خود گالی دینے والے کا ہے۔ اس سے اس کے قول کی وجہ سے باز پرس ہوگی اور کسی دوسرے کی طرف اس کی نسبت اسے فائدہ نہیں دے گی۔ پس، اسے فوراً قتل کر دیا جائے گا اور اسے جلد از جلدجہنم کے سب سے نچلے درجے ہاویہ میں اس کے ٹھکانے تک پہنچایا جائے گا۔
مرزا صاحب کے کیس میں بھی صورت حال اس سے ملتی جلتی ہی ہے جیسا کہ مضمون کی ابتدا میں واضح ہوا ہے کہ عیسائیت کا یہ عقیدہ نہیں ہے اور جس فرد نے یہ الفاظ رسول اللہﷺ کے بارے میں کہے تھے اسے اسلامی حکومت نے سزائے موت دے دی تھی۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انجینئر مرزا محمد علی صاحب ایک ایسے غیر محتاط اور انتہائی غیر سنجیدہ یوٹیوبر ہیں جو نہ صرف مذہب کی غلط تشریحات کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات ایسے جملے بھی بے باکی سے بول جاتے ہیں جو نہ صرف شرعاً بلکہ قانوناً ممنوع بھی ہوتے ہیں اور اگر اسلامی نظام قضاء نافذ ہو تو ایسے شخص کو بلا شبہ تعزیر کا مستحق قرار دیا جانا یقینی ہے۔ یہ ایک ایسا اہم موقع ہے کہ حکومت یوٹیوب پر مذہبی مبلغین اور واعظین کے لیے ایک Criteria مقرر کرے اور خاص طور پر وہ لوگ جو اسلامک ایجوکیشن کا بیک گراؤنڈ نہ رکھتے ہوں ان کے اس طرح بے باکانہ انداز میں مذہبی نظریات پر گفتگو کرنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی عائد ہونی چاہیے ورنہ ایسے لوگ ہمیشہ ملکی امن کو داؤ پر لگائے رکھیں گے۔