آج کل جی پی ایس سسٹم، گوگل میپ اور مختلف کمپاس نُما موبائل ایپلیکیشنز کی بدولت بآسانی عینِ کعبہ کی سمت معلوم کی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں کچھ مساجد بالخصوص جو قدیمی ہیں؛ ان میں عینِ کعبہ کی سمت میں معمولی انحراف پایا جاتا ہے۔ ایسے میں جب نوجوان اپنے اسمارٹ فون سے سمتِ قبلہ معلوم کرتے ہیں تو فوراً چُونک اٹھتے ہیں کہ گویا مسجد کا محراب ہی درست نہیں، اور یوں نمازیوں میں یہ تشویش پیدا ہو جاتی ہے کہ ہماری نمازیں صحیح ہو رہی ہیں یا نہیں۔

 

سب سے پہلے یہ بنیادی بات سمجھ لیجئے کہ ہم چونکہ آفاقی ہیں؛ یعنی حرمِ کعبہ کے رہنے والے نہیں ہیں۔ اس لیے ہمارے لیے نماز میں عینِ کعبہ کی طرف رخ کرنا فرض نہیں، بلکہ جہتِ قبلہ کی طرف رخ کرنا ہی کافی ہے۔ جہتِ قبلہ کی شرعی حد یہ ہے کہ عینِ کعبہ سے دائیں طرف 45 درجے اور بائیں طرف 45 درجے تک کا دائرہ جہتِ قبلہ شمار ہوتا ہے۔ گویا کُل 90 درجے کا یہ زاویہ ہمارے لیے وسعت اور آسانی فراہم کرتا ہے۔ اس شرعی حد کے اندر اگر کوئی مسجد واقع ہے تو وہاں نماز بلا کراہت دُرست ہے، بلا وجہ تشویش میں مبتلا ہونے یا تشویش پھیلانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی یہ 45 درجے کیسے سمجھے؟

 

اس کا نہایت آسان طریقہ یہ ہے کہ:

 

موبائل کمپاس سے عینِ کعبہ کی سمت معلوم کریں۔

 

اگر مسجد کا محراب عین سمت سے بائیں جانب جھکا ہوا ہے تو کھڑے ہو کر دایاں ہاتھ آگے سیدھا پھیلائیں اور بایاں ہاتھ بائیں طرف سیدھا کھول دیں۔

 

اور اگر مسجد کا انحراف دائیں طرف ہے تو بایاں ہاتھ آگے اور دایاں ہاتھ دائیں طرف سیدھا پھیلائیں۔

 

ان دونوں صورتوں میں بازوؤں کے درمیان زاویائی فاصلہ 90 درجے بنتا ہے، اور اس کا نصف یعنی 45 درجے وہ وسعت ہے جسے شریعت نے جہتِ قبلہ قرار دیا ہے۔

 

مزید سہولت کے لیے جہاں آنکھ ختم ہوتی ہے، اُس کے کنارے کے عین سامنے دوسرا ہاتھ آگے کی جانب سیدھا پھیلایا جائے تو یہ تقریباً 45 درجے کا زاویائی فاصلہ بنے گا، یہی وہ حد ہے جس کے اندر چہرے کا کوئی حصہ ہو تو استقبالِ قبلہ متحقق ہو جاتا ہے۔

 

لہٰذا اگر کسی مسجد کے محراب کا عینِ کعبہ سے انحراف ہر دوجانب سے 45 درجے کی وسعت کے اندر ہے تو آپ بلا جھجک اطمینان وسکون سے وہیں موجود صفوں پر نماز ادا کر سکتے ہیں۔ محراب یا دیوار کو سیدھا کرنے یا غیرضروری تکلُّف کرنے کی حاجت نہیں ہے۔

 

ادارہ فیضانِ ابوھریرہ رضی اللّٰہ عنہ

Mufti-Muhammad Ata Ul Mustafa