فلسطین کو ایک ملک تسلیم کر لیا گیا
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
فلسطین کو ایک ملک تسلیم کر لیا گیا
(1)اقوام متحدہ میں شریک 193 ممالک میں سے 150 ممالک نے فلسطین کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کر لیا ہے اور دیگر ممالک بھی تسلیم کر سکتے ہیں،لیکن غزہ پٹی یا شام و لبنان پر حملے بند نہیں ہوں گے۔اسرائیل مشرق وسطی کو تباہ وبرباد کرتا رہے گا۔
(2) فلسطین کو مغربی ممالک اس لئے تسلیم کرتے جا رہے ہیں کہ مسلم ممالک ہم سے جدا ہو کر مشترکہ مسلم فوج نہ بنا لیں اور مشرق وسطی پر مغربی ممالک کا تسلط ختم نہ ہو جائے،لہذا فریب بازی کا نیا طریقہ ایجاد کیا گیا ہے،نیز بعض مسلم ممالک سے مسلم مشترکہ فوج کے ایجنڈا کی مخالفت بھی کرائی جا سکتی ہے اور جو ممالک مشترکہ فوج بنانے کے حامی ہوں گے،ان ممالک میں افراتفری بھی پھیلانی جا سکتی ہے۔یعنی مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کے منصوبے کو ملیامیٹ کرنے کی مختلف کوششیں ہوں گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ مسلم ممالک کو باہمی جنگ وجدال میں الجھا دیا جائے،تاکہ مشترکہ فوج کا تصور ہی ختم ہو جائے۔
(3) فلسطین کو آزاد ملک کی حیثیت اسی وقت ملے گی جب اقوام متحدہ سے اس کی منظوری ہو جائے اور امریکہ یہ کام ہونے نہیں دے گا،نیز ظاہری طور پر فلسطین کی حمایت کرنا اور اس کو آزاد ملک کی حیثیت دینے کا اعلان کرنا درحقیقت فلسطین میں جاری نسل کشی سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے۔اگر حملے بند کرا دیئے گئے،تب یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ فلسطین کے ساتھ انصاف کیا گیا،ورنہ ناانصافی اور ظلم وستم پر پردہ ڈالنے کے لئے بہت کچھ کیا جاتا ہے۔
(4)مسلم ممالک کو اپنی مشترکہ فوج بنانی چاہئے۔اس میں سب کا شریک ہونا محال عادی ہے،لہذا جتنے ممالک شریک ہو سکیں،اتنے ہی پر اکتفا کیا جائے۔نیز یہ متحرک فوج ہو،ورنہ ہاتھی کے دکھاوے کے دانت کی طرح 57:مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی(OIC) پہلے ہی سے موجود ہے۔ایسی بے مقصد تحریکوں سے کچھ فائدہ نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:ستمبر 2025