اوجٍ سعادت

یادیں اور یاد داشتیں

آج ناچیز نے مرزا جاھل جہلمی جہنمی کے والد مرزا  ارشد کو مفصل فون کیا اور کہا کہ تم اخبار میں اشتہار دے کر اپنے اس جاھل بیٹے  سے لاتعلُّقی کا اظہار کر دو ورنہ یہ تمہاری دنیا و عقبیٰ کو بھی خراب کر دے گا ۔۔۔۔ کیونکہ یہ جاھل تو نعوذ باللہ صحابہء کرام اور اولیاء اللہ کی شان میں تنقیص کرتا ھے اور یہ کہ کرامات کو اپنی عقل پر پرکھتے ھوٸے انکا منکر  ھے ۔۔ حالانکہ کرامت تو ھوتی ھی وھی ھے جو ظاھری عقل سے ما وراء ھو ۔۔۔ اور یہ کہ تمہارا بیٹا کوٸی عقلٍ کل بھی نہیں ۔۔ بلکہ میں اسے تمہاری وساطت سے چیلنج کرتا ھوں کہ میرے دیے ھوۓ ایک  عربی پیرا گراف کا ترجمہ تو کجا اس کو دیکھ کر صحیح اعراب کیساتھ پڑھ ھی دے ۔۔۔ اور یہ کہ بیشک وہ مجھے کوٸی اردو  کا پیرا گراف لکھ کر دے اور میں اسے عربی میں ترجمہ کر دیتا ھوں اور پھر ثالثی  فیصلہ تمہارے اوپر چھوڑ دیتا ھوں ۔۔ ارشد مرزا بھی ابو الجاھل نکلا ۔۔۔ بیٹے کی طرفداری کرتے ھوۓ کہنے لگا کہ وہ کچھ غلط نہیں کہتا ۔۔۔ بلکہ لوگ سیاق و سباق کے بغیر اسے کوٹ کرتے ہیں ۔۔۔

میں نے کہا کہ اسکے وڈیو کلپ میں نے خود دیکھے اور سنے ہیں کہ وہ بابوں یعنی اولیاءاللہ کو نہیں مانتا ۔۔۔  بلکہ کہتا ھے کہ نعوذباللہ نہ کوٸی مشکل کشا ھے نہ کوٸی داتا ، نہ کوٸی غریبنواز ھے نہ کوٸی غوث  اور نہ انکی کسی کرامت کو مانتا ھے ۔۔۔ میں نے مزید کہا کہ آپ دونوں باپ بیٹا تختٍ بلقیس والی کرامت کو تو مانتے ھوں گے ۔۔۔ ؟ تو کیا تکلیف صرف امام الانبیاء کی امت کے اولیاء سے ھے ؟

آٸیں باٸیں شاٸیں کرنے لگا ۔۔۔ کہ اس وقت میں کسی ایسی جگہ پر ھوں جہاں زیادہ بات نہیں کر سکتا ۔۔۔

دراصل جب 1989 میں دو سال کیلیے ناچیز کی پوسٹنگ جہلم کینٹ میں ھوٸی تب مرزا ارشد الاٸیڈ بنک کینٹ برانچ کا منیجر تھا ، میں نے اسے اس وقت بھی بتایا تھا کہ میرے شیخٍ کریم غریبنواز رض تو بنک کی نوکری کو ناپسند فرماتے تھے ۔۔۔ اور یہ کہ سود خوری کا وبال اور نحوسَت بہت بھیانک ھے  نسلوں کو تباہ کر دیتا ھے ۔۔۔ یہ نحوست جو اب ان پر پڑ رھی ھے۔۔۔ اس وقت مرزا جاھل اور اسکے دونوں چھوٹے بھاٸی شعیب اور سلمان بھی پراٸمری کلاسز میں تھے ۔۔۔ اب اگر اسکا باپ اسکی ڈگر پر چل پڑا ھے اور اسکا دفاع کر رھا ھے تو اسکے دونوں چھوٹے بھاٸی شعیب اور سلمان کب تک اسکے باطل نظریات سے محفوظ رہیں گے۔۔۔  استغفر الله !

میں نے ارشد  کو بتایا کہ تیرا جاھل بیٹا تو اپنے باپ دادا کے کے ایمان پر برشی پھیر رھا ھے کہ اسکے آباء و اجداد گمراہ تھے جو بابوں کی حاضری کیلیے درگاھوں پر جاتے تھے تو حیف ھے کہ تم اسی بیٹے کا دفاع کر رھے ھو ۔۔۔۔

بہرحال  مرزا جاھل کیلیے اتنی سزا ھی کافی ھے کہ نہ  تو عام  پبلک میں نکل سکتا ھے نہ مسلمانوں کی مسجد میں جمعہ پڑھ سکتا ھے نہ عید ۔۔۔  اور نہ ھی ان شاء اللہ اسے مسلمانوں کی جنازہ گاہ اور  قبرستان نصیب ھوں گے ۔۔۔

سورہء کہف میں مفصل واقعہ  ھے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے جب ایک بچے کو جان سے مار دیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وجہ بیان کرتے ھوٸے فرمایا کہ اس نے گمراہ ھو جانا تھا اور اسکے والدین نے بھی اسکی محبت میں حق چھوڑ کر باطل کی راہ اپنا لینی تھی ۔۔۔

اب جاھل کی محبت میں ابو الجاھل بھی حق سے روگردانی کرتا ھوا نظر آ رھا ھے ورنہ تو اس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیتا اور اپنا ایمان بچا لیتا ۔۔۔ حالانکہ 1989-1990 میں مرزا ارشد میرے ساتھ سیال شریف  اور جلالپور شریف کی حاضری کے لیے بھی گیا تھا ۔۔۔

اللہ کریم  ہمیں (اور ہماری آٸندہ نسلوں کو بھی تاقیامت) ان ھستیوں کے راستے پر ھی رکھے جن پر اس نے انعام فرمایا ھے

آمین بجاہٍ سیدالمرسلین خاتم النبیین

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

دعاگو و دعا جو

میجر محمد اسلم خان قمری سیالوی

فاضلٍ سیال شریف فاضلٍ مصر