📌 اہل سنت (بریلوی) مکتبِ فکر کے ساتھ ریاستی رویّے پر چند اہم نکات
1. ریاستی و ادارہ جاتی امتیاز:
• گزشتہ دہائی سے مسلسل یہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے ریاستی ادارے اہل سنت (بریلوی) مکتبِ فکر کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔
• طاقت، تشدد، اور اسلحہ کا استعمال اکثر بلا جواز اور غیر متوازن ہوتا ہے۔
2. طاقت کا بے دریغ استعمال:
• معمولی تنازعات یا مطالبات کے جواب میں سیدھی گولیاں چلا دی جاتی ہیں۔
• نتیجتاً نوجوان شہید ہو جاتے ہیں یا عمر بھر کے لیے زخمی ہو جاتے ہیں۔
3. دُہرے معیار:
• یہی سخت رویہ دیگر سیاسی یا مذہبی جماعتوں کے ساتھ کم نظر آتا ہے۔
• کچھ جماعتوں کو رعایت اور نرمی کا سامنا ہوتا ہے، جب کہ بریلوی طبقے کے ساتھ سختی برتی جاتی ہے۔
4. خاموش تماشائی:
• میڈیا، علماء، دیگر جماعتیں، اور خود عوام کی بڑی اکثریت ایسے مظالم پر خاموش رہتی ہے۔
• چند ایک افسوس کرتے ہیں، مگر بات وہیں ختم ہو جاتی ہے۔
5. مظلوم کو ہی قصوروار ٹھہرانا:
• یہ شدت پسند ہیں، دہشت گرد ہیں وغیرہ عوامی تاثر یہ بنایاجاتا ہے کہ “انھیں سیاست نہیں کرنی چاہیے تھی”، “یہ احتجاج کیوں کر رہے تھے؟”
• سوال یہ ہے: اگر مظاہرین کی حکمتِ عملی غلط بھی تھی، تو کیا گولی مار دینا اس کا حل تھا؟
6. پُرامن احتجاج پر تشدد:
• 10 اکتوبر کو امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا گیا، جو کہ بالکل جائز اور منطقی مقام ہے، کیونکہ امریکہ اسرائیلی جارحیت کا بڑا حمایتی ہے۔
• مگر حکومت نے کوئی حیلہ بہانہ کیے بغیر سیدھا گولی چلانے کا راستہ اپنایا، جس سے دو افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
7. القدس سے جذباتی تعلق:
• اہلِ ایمان کے لیے القدس ایک جذباتی اور ایمانی معاملہ ہے، اس احتجاج کو طاقت سے دبانا اس جذباتی وابستگی کی توہین ہے۔
8. جھوٹ پر مبنی حکومتی بیانیہ:
• طلال چوہدری کی پریس کانفرنس میں جھوٹ اور ڈھٹائی سے واقعات کو مسخ کیا گیا، جس پر حیرت اور افسوس ہوا۔
9. حکومت کو یہ جرات کس نے فراہم کی؟:
• طلال چوہدری جیسے افراد کے بے خوف بیانات دراصل اس خلا اور کمزوری کا نتیجہ ہیں جو اہل سنت کے علما و مشائخ کی باہمی تقسیم سے پیدا ہوئی ہے۔
• گزشتہ کئی دہائیوں میں بریلوی قیادت گروہوں، ٹکڑیوں اور ذاتی وفاداریوں میں بٹ چکی ہے۔
10. باہمی مخالفت کا نقصان:
• علما ایک دوسرے کے خلاف بولتے، الزام لگاتے، اور اپنی ہی صفوں میں نفرت پھیلاتے نظر آتے ہیں۔
• یہ مخالفت دراصل دین، تحریک، اور امت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
• حالانکہ ان کی مخالفت کا رخ کفر، ظلم اور سامراج کی طرف ہونا چاہیے تھا۔
11. حل کیا ہے؟
• ہر اس شخص اور تنظیم سے دور ہو جائیں جو انتشار اور افتراق پھیلا رہا ہو۔
• ورنہ اتحاد، مقصد کی یکسوئی، اور اخلاص کے بغیر بربادی کا سلسلہ مزید بڑھے گا۔
12. میری پوزیشن (وضاحت):
• میری کسی پارٹی یا تنظیم سے وابستگی نہیں۔
• مگر میں ہر ظلم کی مذمت کرتا ہوں۔ اور قرآن کے اس حکم کا
پابند ہوں: نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو۔

شعیب مدنی
۱۰ اکتوبر  ۲۰۲۵