خون لیگ تخت، طاقت اور خونی ماضی
از؛ محمد افتخار الحسن

اقتدار کی راہداریوں میں گونجتی سرگوشیاں اور بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے فیصلے جب تاریخ کے اوراق پر رقم ہوتے ہیں تو اکثر اُن کی اصل حقیقت پر دبیز پردے پڑے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس لندن میں مسلم لیگ (ن) کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے اپنی جماعت کی ایک تقریب میں مدعو کیا۔ میرا مزاج سیاسی اجتماعات سے  مجھے دور رکھتا ہے،  لیکن ایک سوال تھا جو سینے میں کانٹے کی طرح چبھتا تھا۔ میں نے میزبان سے اس شرط پر آمادگی ظاہر کی کہ مجھے سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف سے پانچ منٹ کی علیحدہ ملاقات کرنی ہے تاکہ ایک سوال کا جواب براہِ راست اُن کی زبانی سُن سکوں۔

سہولت کے لیے سوال بھی پیشگی بھجوا دیا: “ملک ممتاز قادری کی پھانسی کا فیصلہ خالصتاً عدالتی تھا، عسکری قیادت کے ایما پر ہوا یا کسی بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ تھا؟”

میزبان نے ایک معنی خیز قہقہہ لگایا اور کہا، “حضرت، کیا آپ خود نہیں جانتے؟” میں نے عرض کیا، “جانتا ہوں، لیکن جس حاکم کے دور میں یہ تاریخی پھانسی ہوئی  اُس کی زبان سے تصدیق چاہتا ہوں تاکہ سند رہے۔” میزبان کا جواب، جو شاید ن لیگ کی داخلی سیاست کا عکاس تھا، چونکا دینے والا تھا۔ انہوں نے فرمایا، “یہ فیصلہ بلاشبہ عسکری و عالمی دباؤ کا شاخسانہ تھا، لیکن میاں صاحب کے پاس انکار کا راستہ موجود تھا۔ وہ چاہتے تو یہ تلخ گولی نگلنے سے انکار کر کے اسلامیانِ پاکستان کے دل جیت سکتے تھے، مگر انہوں نے اپنی حکومت بچانا زیادہ ضروری سمجھا… وہ حکومت جو بالآخر بچ نہ سکی۔”

یہ ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت کی نقاب کشائی ہے جو مسلم لیگ (ن) کے پنجاب میں طرزِ حکمرانی پر ایک دائمی سوالیہ نشان بن کر ثبت ہو چکی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جب بھی پنجاب کی دھرتی پر ریاستی جبر و استبداد کا بازار گرم ہوتا ہے تو انگلیاں اسی جماعت کی طرف اٹھتی ہیں؟ ان کے ہاتھ اپنے ہی لوگوں کے خون سے رنگین کیوں نظر آتے ہیں؟

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں چودہ بے گناہ شہریوں کو دن دیہاڑے گولیوں سے بھون ڈالا گیا، جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔ وہ قیامت خیز منظر آج بھی قوم کے حافظے میں زندہ ہے۔ اور اب مریدکے میں تحریکِ لبیک کے کارکنان پر ہونے والا تشدد اسی سلسلے کی ایک اور شرمناک کڑی ہے۔ جس بے دردی سے گاڑیاں اور املاک نذرِ آتش کی گئیں، وہ منظر کسی مہذب ریاست کی قانون نافذ کرنے والی کارروائی کا نہیں، بلکہ ایک قابض فوج کے غیض و غضب کا معلوم ہوتا تھا۔ یہ مناظر اُس یزیدی لشکر کی یاد دلاتے ہیں جس نے کربلا میں نواسہِ رسول ﷺ اور ان کے اہلِ بیت کو شہید کرنے کے بعد خیامِ حسینی کو آگ لگا دی تھی۔ پنجاب پر قابض یہ قیادت آخر ثابت کیا کرنا چاہتی ہے؟

دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی تحریکِ لبیک کراچی میں بھی اپنے احتجاج اور دھرنوں کا انعقاد کرتی ہے، مگر وہاں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت معاملات کو اس نہج پر کیوں نہیں لے جاتی؟ کیا اُن کے پاس کوئی مختلف ضابطہِ قانون ہے یا وہ سیاسی حرکیات کو سمجھنے اور عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچائے بغیر معاملات کو سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ پنجاب میں طاقت کا بے دریغ استعمال ایک سوچا سمجھا انتخاب ہے، کوئی مجبوری نہیں۔

ایک سادہ سا اور ناقابلِ قبول عذر
جو ہر ایسے سانحے کے بعد پیش کیا جاتا ہے کہ “اصل طاقت تو فوج کی ہے، وہی یہ سب کرواتی ہے۔” یہ جھوٹ ہے، اور اس جھوٹ کا پردہ چاک ہونا چاہیے۔ اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے سختی کا دباؤ ہوتا ہے، تو ایک عوامی اور سیاسی حکومت کا اولین فرض اپنے شہریوں کا تحفظ ہے، نہ کہ کسی ادارے کے غیر آئینی حکم کی تعمیل۔ عوامی مینڈیٹ گولی چلانے کے لیے نہیں، بلکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ملتا ہے۔ اگر ایک سیاسی قیادت اتنی بے بس ہے کہ وہ اپنے ہی شہریوں پر گولی چلانے کے حکم سے انکار نہیں کر سکتی، تو اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔

تاریخ کا سبق یہی ہے کہ حکومتیں بچانے کی خاطر کیے گئے سمجھوتے حکمرانوں کو رسوا تو کر سکتے ہیں، لیکن تاریخ کے دھارے کو نہیں موڑ سکتے۔ تختِ پنجاب پر حکمرانی کا دعویٰ کرنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خون کے چھینٹے کبھی خشک نہیں ہوتے؛ یہ ہر دور میں اپنے ذمہ داروں کا پتہ دیتے ہیں۔
حقائق اور معاملات جو بھی ہیں، اسلامیانِ پاکستان کو مل کر اس سانحے کے خلاف ملکی و عالمی عدالتوں میں جانا چاہیے، اس پر بین الاقوامی صحافتی حلقوں سے رابطہ کریں، سفارتی حلقوں میں اس قتلِ عام پر پریزینٹیشنز دیں، ممکن ہو سکے تو بے نظیر قتل کیس کی طرز پر اس کی تفتیش کروائی جائے اور اس قتلِ عام میں ملوث ہر سرکاری عہدیدار کو پھانسی گھاٹ تک پہنچایا جانا چاہیے۔
محمد افتخار الحسن
13 اکتوبر 2025

#TLPUpdates
#IHRizvi