الیاس قادری عرف بپا جانی کے نام
الیاس قادری عرف بپا جانی کے نام
برادرم شفیق بٹ سے انتہائی معذرت کے ساتھ ان کی حالیہ تحریر سے اختلاف کی جسارت کروں گا ۔ جس میں وہ الیاس قادری صاحب پر طنز کر رہے ہیں کہ وہ کسی بھی سیاسی موضوع پر کوئی بیان نہیں دیتے ۔
الیاس قادری صاحب کے مجذوبانہ انداز اور طرزِ عمل سے آپ ہزاروں اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن ایک بات ان کی جماعت اور تعلیمات میں ایسی ہے جو شاذ ہی کسی دوسری مذہبی جماعت میں دکھائی دیتی ہے ۔ اور وہ ہے عدمِ تشدد اور پرامن رویہ۔ الیاس قادری حالیہ تاریخ میں شاید ان چند شخصیات میں سے ہوں گے جن کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں ہے لیکن ان کے ضمیر پر کسی لاش کا کوئی بوجھ نہیں ۔ نہ انہوں نے کسی کو مروایا اور نہ ہی کوئی ان کی حفاظت کرتے ہوئے مرا ہوگا
دعوتِ اسلامی نے کبھی دوسروں کے بچوں کو سیاسی ایندھن کے طور پر استعمال نہیں کیا۔ ان کی کسی تقریر یا تحریر نے پاکستان میں انتشار، فساد، یا آگ و خون کا بازار گرم نہیں کیا۔ انہوں نے کبھی پاکستانی نوجوانوں کو لاٹھیاں، ڈنڈے یا اسلحہ اٹھانے کی ترغیب نہیں دی۔ کسی کو دین کا محافظ بنا کر سڑکوں پر نہیں نکالا۔ کبھی ریاست یا حکومت سے ٹکرانے کی دعوت نہیں دی، نہ ہی اپنی طاقت یا پریشر کا اظہار کرنے کے لیے آگ لگانے یا قومی املاک کو نقصان پہنچانے کی ترغیب دی۔
الیاس قادری صاحب نے کبھی تکفیری حربے استعمال نہیں کیے، نہ ہی غیروں کی گردن زنی کی تعلیم دی۔ میں نے خود ایک ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص توہینِ مذہب یا توہینِ رسالت کا مرتکب ہو بھی جائے تو آپ خود کچھ نہیں کر سکتے، کیونکہ آپ ریاست نہیں ہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کریں۔ پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے جانیں اور ان کا کام ، اب آپ کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔
الیاس قادری پر مقتدرہ کے ہاتھوں استعمال ہونے، بریف کیس لینے، ڈالرز یا غیر ملکی کرنسی کے بوریوں میں مدد لینے کا کوئی الزام بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ ان پر یہ الزام بھی نہیں کہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت کے خلاف یا کسی کاووٹ بینک گھٹانے یا بڑھانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے ۔ ان کی زبان سے آپ نے کبھی کسی کو “مار دو”، “کافر قرار دو” یا “قابلِ گردن زنی بناؤ” جیسے جملے نہیں سنے ہوں گے۔
سب سے بڑھ کر، وہ ایک سچے پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کبھی اس سرزمین کو نہیں چھوڑا، نہ ہی کسی اور ملک کو اپنا مسکن بنایا۔ آپ ان پر مجذوبانہ باتوں کا الزام لگا سکتے ہیں چاہے وہ کھیرے کاچھلکا اتارنے کا طریقہ ہو یا کیلے کی سمت قبلہ رُخ کرنا ہو لیکن سوال یہ ہے کہ ان باتوں سے ریاست یا اس کے کسی شہری کی جان، مال یا عزت پر کیا خوف آ پڑتا ہے ؟
برادرم شفیق بٹ ایک پروگریسو سوچ کے حامل ہیں اور دینی معاملات میں ریشنل طرز فکر رکھتے ہیں ۔ ان کی پوسٹیں سوچ کا زاویہ بدلنے کے لئے اہم ثابت ہوتی ہیں ۔ لیکن الیاس قادری پر ان کی حالیہ پوسٹ سے متفق نہیں ہوں کیونکہ میرا خیال ہے کہ پاکستان اس وقت جن حالات سے دوچار ہے مذہبی جنونیت جن حدوں کو چھو رہی ہے ایسے میں ایسے علمائے کرام جن کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے وہ اپنا پریشر گروپ نہیں بنا رہے تو یہ بھی ایک نعمت سے کم نہیں ہے
میں خود الیاس قادری صاحب کے چیریٹی اور مذہبی کام سے اس وقت متاثر ہوا جب میں حج پر گیا۔مجھے وہاں جتنے بھی پاکستانی یا اردو بولنے والے حاجیوں سے ملاقات کا موقع ملا ان میں دو طبقے نمایاں تھے ۔ ایک وہ جو تبلیغی جماعت سے وابستہ تھے اور زیادہ تر بزرگ حضرات پر مشتمل تھے، اور دوسرے نوجوان، جو پاکستان، برطانیہ یا یورپ سے آئے تھے، جن کے ہاتھوں میں دعوت اسلامی کی کتاب رفیق الحرمین تھی اور الیاس قادری کی تبلیغ سے متاثر ہو کر حج پر آئے تھے ۔
اور جس دوسری بات نے مجھے متاثر کیا وہ یہ تھی کہ میں نے جب بھی اس جماعت پر یا الیاس قادری پر تبلیغ کی ان کے کسی متعقدین نے آکر نیچے گالی نہیں دی ۔ میرے ایمان کو نہیں ٹٹولا ۔ اس پر کوئی فتوی صادر نہیں کیا ۔ فون پر شکوہ ضرور کیا ۔ ۔۔
پاکستان میں امن کی ترویج کے اس کردار پر دعوت اسلامی کے بپا جانی کو ایک لبرل ، کیمونسٹ ، سرخے ، مسلمان کا سلام
#محموداصغرچودھری