کراچی روشنیوں کا شہر یا گرد و غبار کا مرکز؟
کراچی روشنیوں کا شہر یا گرد و غبار کا مرکز؟
✍️: محمد #منعم مدنی
کراچی میں 4 دن گزارنے کے بعد آج کراچی ائیر پورٹ سے لاہور کی طرف سفر ہے اس مختصر قیام میں شہر کے مختلف علاقوں سے گزر ہوا تو دل بجھ سا گیا۔ کبھی روشنیوں اور رونقوں سے جگمگانے والا کراچی آج بدحالی، ٹوٹ پھوٹ اور گرد آلود فضا کا شکار نظر آیا۔
ڈیفینس جیسے چند علاقوں کو چھوڑ کر پورے شہر کی حالت خستہ ہے۔ بیشتر سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، گلیاں ابلتے ہوئے نالوں اور مٹی سے اٹی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ بائیک پر چند منٹ کا سفر ایسا لگتا ہے جیسے کسی کھیت میں گندم کی کٹائی کے موسم میں گرد اڑتی ہو۔ بیس منٹ بعد چہرہ مٹی سے اس قدر بھر جاتا ہے کہ انسان پہچان میں نہ آئے۔ یہ وہ کراچی نہیں جو کبھی اپنی صفائی، روشنیوں اور چمک دمک کے باعث پہچانا جاتا تھا۔یہ شہر پاکستان کی تجارت کا دل ہے۔ ہزاروں نہیں، لاکھوں لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔ مگر افسوس کہ ترقی کے نام پر تباہی مچا دی گئی ہے۔ جگہ جگہ کھدائیاں، ادھوری سڑکیں، کھلے مین ہول اور مٹی کے ڈھیر — جیسے کسی منصوبہ بندی کے بغیر سب کچھ برباد کر دیا گیا ہو۔ اگر گیس یا پانی کی لائنیں بچھانی تھیں تو پہلے منصوبہ مکمل کر کے کام شروع کیا جاتا، تاکہ عوام کو تکلیف نہ ہو۔ لیکن یہاں تو پہلے سڑکیں توڑ دی جاتی ہیں، پھر مہینوں تک انہیں ایسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔سلام ہے کراچی کے ان باسیوں کو جو ان حالات میں بھی صبر و استقامت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ، دل میں خلوص اور رویوں میں شائستگی آج بھی باقی ہے۔ یہ شہر اپنے باسیوں کی محبت سے زندہ ہے، مگر افسوس کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں نے اس محبت کا بدلہ لاپرواہی سے دیا ہے۔
گرد آلود فضا نے نہ صرف شہر کی خوبصورتی چھین لی ہے بلکہ صحت پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ہر دوسرے گھر میں کوئی نہ کوئی بیمار ہے کھانسی، نزلہ، سانس کی بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی کی عکاس ہے۔اللہ تعالیٰ کراچی کے باسیوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، اس شہر کو پھر سے روشنیوں، صفائی اور امن کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔