تختِ لاہور، ہوٹلوں کی محفلیں اور مفتیِ اعظم
تختِ لاہور، ہوٹلوں کی محفلیں اور مفتیِ اعظم
از؛ محمد افتخار الحسن
گزشتہ آٹھ روز سے چین میں کاروباری مصروفیات کے باعث مذہبی و سیاسی حالات پر کچھ لکھنے کا موقع نہ ملا۔ ویسے بھی چین میں سوشل میڈیا تک رسائی خاصی دشوار ہے۔ تاہم، وقتاً فوقتاً چند خبریں نگاہ سے گزرتی رہیں، جنہیں پڑھ کر فقط اذیت میں اضافہ ہوا۔
سانحہ مریدکے کے بعد اہلِ سنت کے لہو پر پلنے والی جونکوں نے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں اپنی لمبی چوڑی، اونچی پگڑیوں اور چمکیلی قباؤں کا مقابلۂ حسن منعقد کیا۔ اس محفلِ ریا میں کچھ درد مند و مخلص سنی علما بھی دھوکے کا شکار ہو کر شریک ہو گئے۔ حالانکہ یہ حقیقت اب طفلِ مکتب پر بھی آشکار ہے کہ امت کی تقدیر کے فیصلے اگر ہوٹلوں میں ہوتے تو غیرت و حمیت کا پیکر، وہ مردِ درویش، ویل چیئر پر کھلے آسمان تلے راتیں نہ گزارتا۔ سیرینا و شیرٹن اس کے لیے دستیاب تھے، مگر وہ جانتا تھا کہ جو کیف و سرور فقر میں ہے، وہ محلات و قصور میں نہیں اور یہی اکابرین اسلام کا ورثہ ہے جو ہر دور کے صوفی سنبھالتے آئے ہیں۔ ان سفید ہاتھیوں کو شرم آنی چاہیے تھی کہ اس قدر وسیع و عریض آستانوں، حویلیوں اور مراز کے ہوتے ہوئے انہیں ہوٹلوں میں یہ اجلاس منعقد کرنی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ان ہی جونکوں نے جنوری میں ایک اور محفل سجانے کی نوید دی ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ بند گوبھی کے وہ سفید پھول ہیں جن کے پرت کھولتے جائیں تو اندر سے کچھ برآمد نہیں ہوتا۔ خالی خول، خوش نما دعوے، اور بے روح اجتماع۔ اس قدر تاخیر سے جمع ہونے کے مقاصد اور ان لومڑیوں کے عذر ہم سب جانتے ہیں۔
اسی دوران تختِ لاہور کی بیک وقت ملکہ و شہزادی، سیدہ جلیلہ محترمہ مریم بنتِ نواز آلِ شریف نے لاہور میں علما کو طلب فرمایا۔ اس نشست میں ان کیمرہ کچھ مفید بات چیت بھی ہوئی۔ تاہم، بعض احباب کو اعتراض رہا کہ مفتی اعظم پاکستان، حضرت مفتی منیب الرحمٰن کی موجودگی میں محترمہ نے کچھ ایسے کلمات کہے جو سانحہ مریدکے کے متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھے۔
صاحبو! اگر خدا نے آپ کو ذرہ برابر بھی شعور عطا فرمایا ہے تو ذرا غور کیجیے۔ وہ بزرگ، مفتی منیب الرحمٰن، جو اس وقت اسی برس، آٹھ ماہ اور انتیس دن کی عمر میں ضعف، ناتوانی، تکالیف اور مصروفیات کے باوجود، گزشتہ دہائی میں ہر نازک مرحلے پر حکومتوں سے مکالمہ کرنے والے واحد فرد رہے۔ جب سجادہ نشین، پگڑی فروش، اور ایمان فروش حضرات حق کا ساتھ دینے سے کتراتے، خوفزدہ ہوتے، اور منہ چھپاتے تھے، تب صدر، وزیرِ اعظم، وزرائے اعلیٰ، عدلیہ اور آرمی چیف تک بات پہنچانے والا کون تھا؟ اور آپ جانتے ہیں کہ ان اداروں کے سربراہان مفتی صاحب کی بات کیوں سنتے رہے؟ اس لیے کہ وہ کردار کے غازی، بعد عنوانی سے پاک، اور خالص انسان ہیں۔
مفتی صاحب اصول و قطعیات کے پابند ہیں، مگر فروعی اختلافات میں نرمی برتتے ہوئے تمام مسالک و مذاہب کے درمیان احترام کا پل بنے ہوئے ہیں۔ ان کی بات ہر حلقے میں سنی جاتی ہے۔ لہٰذا ان پر تنقید کرنے سے قبل خود میدانِ عمل میں اتریے۔ دیکھیے، کیا حکامِ وقت آپ کے لیے دروازے کھولتے ہیں؟ حکام سب جانتے ہیں کہ کون چندے پر پلتا ہے، کس کی بیرونِ ملک جائیدادیں ہیں، اور کس کے بچے کس رنگ میں زندگی گزار رہے ہیں۔
مفتی منیب الرحمٰن ایک ضعیف شخص ہیں۔ آپ اپنی جوانی کب بروئے کار لائیں گے؟ قیادت کیجیے، کون روک رہا ہے؟ مگر یاد رکھیے، حماقت، ہٹ دھرمی اور ضد کے باعث جو آزمائش اس وقت اہلِ سنت پر نازل ہے، اس کا حل بیک ڈور یا اوپن ڈپلومیسی کے ذریعے جس انداز میں مفتی صاحب کر رہے ہیں، وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ نہ کوئی کر سکا ہے، نہ کر سکے گا۔
لہٰذا اس درویش، مخلص اور ستھرے انسان کی قدر کرو۔ ان کی صحت و سلامتی کے لیے دعا کرو۔ اور اگر ضعف و بڑھاپے کے باعث ان سے کوئی لغزش ہو جائے تو یاد رکھیے، وہ مکلف نہیں، نہ جواب دہ۔
اک طرف اعدائے دیں ایک طرف حاسدیں
بندہ ہے تنہا شہا تم پہ کروڑوں درود
کر دو عَدُو کو تباہ حاسدوں کو رُو براہ
اہلِ وِلا کی بھلا تم پہ کروڑوں درود
کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نامِ رضؔا تم پہ کروڑوں درود
محمد افتخار الحسن
۳۱ اکتوبر ۲۰۲۵
Al-Munib
#IHRizvi