الَّذِىۡ كَذَّبَ وَتَوَلّٰىؕ – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 16
sulemansubhani نے Sunday، 2 November 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الَّذِىۡ كَذَّبَ وَتَوَلّٰىؕ ۞
ترجمہ:
جس نے حق کی تکذیب کی اور اس سے پیٹھ پھیری.
اللیل : ١٦۔ ١٥ میں فرمایا : اس میں صرف بڑا بدبخت ہی جھونکا جائے گا۔ جس نے حق کی تکذیب کی اور اس سے پیٹھ پھیری۔
اللیل : ١٦ سے معتزلہ اور مرجئہ کا اپنے اپنے مذہب سے استدلال اور ان کے جوابات
یہ آیت اہل سنت و جماعت کے مؤقف کے موافق ہے کہ دوزخ میں دائمی عذاب کے لیے کفار ہی کو جھونکا جائے گا اور فساق مؤمنین اور مرتکب کبائر دائمی عذاب کے لیے دوزخ میں نہیں ڈالے جائیں گے اور چونکہ یہ آیت معتزلہ کے مسلک کے خلاف تھی، اس لیے انہوں نے اس آیت کی یہ تاویل کی کہ اس آیت میں تکذیب کی حقیقت مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل نہیں کرتے اور جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے، ان کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ بھی اللہ تعالیٰ کی عملاً تکذیب کرتے ہیں، لہٰذا جو مؤمنین مرتکبین کبائر ہیں، وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرنے والے ہیں اور اس سے روگردانی کرنے والے ہیں، کیونکہ ابتداء میں تو وہ توحید پر ایمان لائے اور بعد میں وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنی خواہشوں پر عمل کرنے لگے، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل نہ کرنے سے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا مکذب نہیں ہوتا کیونکہ بہت آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فاسق مومن کو مکذب نہیں قرار دیا بلکہ اس پر مومن کا اطلاق کیا ہے، مثلاً فرمایا :
یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی ط (البقرہ : ١٧٨)
اے ایمان والو ! تم پر مقتولین میں قصاص فرض کیا گیا ہے۔
قصاص قاتل پر فرض کیا جاتا ہے اور قاتل مرتکب کبیرہ ہوتا ہے اور اس آیت میں اس پر مومن کا اطلاق فرمایا ہے : لہٰذا واضح ہوگیا کہ مرتکب کبیرہ اللہ تعالیٰ کا مکذب نہیں ہوتا۔
اس آیت سے مرجئہ نے بھی استدلال کیا ہے، مرجئہ کا مؤقف یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد کسی معصیت اور گناہ سے مومن کی گرفت اور پکڑ نہیں ہوگی، ان کے استدلال کی تقریر یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے کہ دوزخ میں وہی داخل ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرے اور اس کے حکم سے پیٹھ پھیرے اور مومن خواہ گناہ کبیرہ کرے یا صغیرہ، وہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرنے والا ہے نہ اس کے حکم سے پیٹھ پھیرنے والا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ دوزخ کے متعدد طبقات ہیں جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے :
اِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ج (النسائ : ١٤٥) بیشک منافقین دوزخ کی آگ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔
اس لیے یہ ہوسکتا ہے کہ جن کفار اور منافقین نے اللہ تعالیٰ کی تکذیب کی اور اس کے احکام سے رو گردانی کی، وہ دوزخ کی زیادہ بھڑکتی ہوئی آگ کے طبقہ میں ہوں، اور جن مؤمنین نے صرف گناہ کبیرہ کیا، ان کو تطہیر کے لیے اس سے کم درجہ کے آگ کے طبقہ میں ڈالا جائے، اور مومن مرتکب کبیرہ کے عذاب کی دلیل یہ آیات ہیں :
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَآئُ وْنَ ۔ وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ۔ (الماعون : ٧۔ ٤)
ان نمازیوں کے لیے ویل نامی دوزخ کی وادی کا عذاب ہے۔ جو اپنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں۔ جو دکھاوے کے لیے عبادت کرتے ہیں۔ اور معمولی چیز دینے سے منع کرتے ہیں۔
اس لیے یہ ہوسکتا ہے کہ دوزخ کے اس خاص طبقہ میں صرف مکذب داخل ہوں اور مومن مرتکب کبیرہ کے لیے دوزخ کا کوئی اور طبقہ ہو۔
فساق مؤمنین کے متعلق اہل سنت و جماعت کا مؤقف
جن مؤمنین مرتکبین کبائر کو سخت عذاب سے ڈرایا گیا ہے، مثلاً سود خوروں، زانیوں، یتیم کا مال کھانے والوں، شرابیوں جھوٹوں اور بےنمازیوں کو، ہم ان کو دی ہوئی وعیدوں کا انکار نہیں کرتے، اگر انہوں نے مرنے سے پہلے تو یہ صحیحہ نہیں کی اور گناہوں کی تلافی نہیں کی تو وہ ضرور عذاب کی ان وعیدوں کے مستحق ہیں الایہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی شفاعت فرما دیں اور یا اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل محض سے معاف فرما دے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کو آخرت میں عذاب دیا جائے مگر یہ عذاب کفار اور مکذبین کے عذاب سے کم ہوگا، کیفیت میں بھی کم ہوگا اور مقدار میں بھی کم ہوگا، کفار کا عذاب ان کی توہین کے لیے ہوگا اور مؤمنین مرتکبین کبائر کا عذاب تطہیر کے لیے ہوگا۔
القرآن – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 16