أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ عَلَيۡنَا لَـلۡهُدٰى ۞

ترجمہ:

بیشک سیدھا راستہ دکھانا ضرور ہمارے ذمہ کرم پر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک سیدھا راستہ دکھانا ضرور ہمارے ذمہ کرم پر ہے۔ بیشک آخرت اور دنیا کے ہم ہی مالک ہیں۔ پس میں تم کو بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں۔ اس میں صرف بڑا بدبخت ہی جھونکا جائے گا۔ جس نے حق کی تکذیب کی اور اس سے پیٹھ پھیری۔ اور عنقریب اس دوزخ سے سب سے زیادہ ڈرانے والے کو دور رکھا جائے گا۔ جو اپنا مال اپنے باطن کو پاک کرنے کے لیے دیتا ہے۔ اور اس پر کسی کا کوئی ( دنیاوی) احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔ مگر اس کا مال دنیا صرف اپنے رب اعلیٰ کی رضا جوئی کے لیے ہے۔ اور عنقریب اس کا رب ضرور راضی ہوگا۔ ( اللیل : ٢١۔ ٢١ )

اللیل : ١٢ میں فرمایا : بیشک سیدھا راستہ دکھانا ضرور ہمارے ذمہ کرم پر ہے۔

اس آیت کی توجیہات کہ اللہ پر ہدات دینا واجب ہے

اس آیت میں یہ الفاظ ہیں :” ان علینا للھدی۔ “ ( اللیل : ١٢) اس آیت کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے : ہم پر ہدایت دینا واجب ہے کیونکہ ” علیٰ “ وجوب کے لیے آتا ہے، اور اس سے معتزلہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ وہ بندوں کے فائدہ کے لیے کام کرے، اور اس پر واجب ہے کہ جو کام بندوں کے لیے نقصان دہ ہو اس کو نہ کرے، ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر کچھ واجب نہیں ہے، بندوں کو ہدایت دینا اور ان کے فائدہ کے کام کرنا اس پر واجب نہیں، یہ محض اس کا لطف و کرم ہے، اسی طرح نیک مؤمنین کو جنت عطاء فرمانا اس کا فضل ہے اور بدکار کافروں کو دوزخ میں جھونکنا اس کا عدل ہے۔ رہا ان کا یہ کہنا کہ لفظ ” علیٰ “ وجوب کے لیے آتا ہے، تو یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے، قرآن مجید میں بہت مقامات پر ” علی “ وجوب کے لیے نہیں ہے، مثلاً ان آیات میں :

وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ (المائدہ : ٣) اور جو جانور بتوں کے لیے ذبح کیے گئے ہوں۔

وَعَلَی اللہ ِ قَصْدُ السَّبِیْلِ (النحل : ٩) اور سیدھی راہ پر چلانا اللہ کے ذمہ کرم پر ہے۔

وَلَوْ تَرٰیٓ اِذْ وُقِفُوْا عَلٰی رَبِّہِمْ ط (الانعام : ٣٠) اور کاش آپ دیکھتے جب وہ اپنے رب کے لیے کھڑے ہوں گے۔

لہٰذا اس آیت کا معنی اس طرح ہوگا : بیشک ہماری عبادت کے لیے ضرور بندوں کو ہدایت دینا ہے، یا بیشک سیدھا راستہ دکھانا ضرور ہمارے ذمہ کرم پر ہے یا جو شخص ہم سے ہدایت طلب کرے، اس کو ہدایت دینا ہمارا لطف و کرم ہے، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا :

وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا ط (العنکبوت : ٦٩)

اور جو لوگ ہمارے راستہ میں کوشش کرتے ہیں، ہم ضرور ان کو اپنے راستہ کی ہدایت دیتے ہیں۔

اور اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے جس شخص سے ہدایت پر چلنے کے انعام کا وعدہ کیا ہے، اس وعدہ کا پورا کرنا ہمارے ذمہ کرم پر ہے۔