أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ لَـنَا لَـلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى‏ ۞

ترجمہ:

بیشک آخرت اور دنیا کے ہم ہی مالک ہیں.

اللیل : ١٣ میں فرمایا : بیشک آخرت اور دنیا کے ہم ہی مالک ہیں۔

اللہ کی عبادت پر بتوں کی عبادت کو ترجیح دینے کی مذمت

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر بتوں کی عبادت کو ترجیح دیتے تھے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت فرمائی ہے کہ تم کو معلوم ہے کہ دنیا اور آخرت ہماری ملک میں ہے اور بتوں کی ملک میں نہیں ہے، پھر تم ان کی عبادت کیوں کرتے ہو، جو دنیا اور آخرت کے مالک نہیں ہیں، سو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے۔

اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ تم ایمان لا کر اللہ کی راہ میں کیوں خرچ نہیں کرتے اور تم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کیوں بخل کرتے ہو اور بےپرواہی برت رہے ہو، حالانکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ہی تم کو دنیا اور آخرت میں اس کا نفع ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی دنیا اور آخرت کا مالک ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 13