٧٤- بَابُ دَفْعِ السِّوَاكِ إِلَى الْأَكْبَرِ

بڑی عمر کے شخص کو مسواک دینا

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں باب احکام مسواک کے متعلق ہیں۔

٢٤٦ – وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا صَخرُ بْنُ جُوَيْرِيَةً ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِى اَتَسَوَّكُ بِسِوَاكَ، فَجَاءَ نِی رَجُلَانِ،أحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْأَخَرِ، فَنَاوَلَتُ السّوَاكَ الأصْغَرَ مِنْهُمَا ، فَقِيلَ لِي كَبِّرُ ، فَدَفَعْتُهُ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں : اور عفان نے کہا : ہمیں صخر بن جویریہ نے حدیث بیان کی از نافع از حضرت ابن عمر رضی الله عنہما وه بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک مسواک کے ساتھ مسواک کررہا ہو’ پس میرے پاس دو آدمی آئے ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی عمر کا تھا میں نے مسواک چھوٹے کو دے دی تو مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دیں، پھر میں نے وہ مسواک ان میں سے بڑے کو دے دی۔

قال أبو عَبْدِاللَّهِ اختَصَرَهُ نُعَيْمُ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أَسَامَةَ ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِی الله عَنْهُمْ. (صحیح مسلم : ۲۲۷۱ ارقم مسلسل : ۵۸۲۳ – ۷۳۶۶)

ابوعبداللہ (امام بخاری) نے کہا: نعیم نے اس حدیث کو مختصر روایت کیا ہے از ابن المبارک، از اسامه از نافع از حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما.

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عفان بن مسلم الصفار البصری ابوعثمان ،ان سے آزمائش کے زمانے میں قرآن مجید کے متعلق سوال کیا گیا، انہوں نے قرآن مجید کو مخلوق کہنے سے انکار کیا، یہ جرح اور تعدیل کرتے تھے ان سے کہا گیا: اس سے رک جاؤ اور ان کو دس ہزار دینار کی پیش کش کی گئی انہوں نے انکار کردیا اور کہا: میں حق کو نہیں چھپا سکتا یہ ۲۲۰ ھ میں بغداد میں فوت ہوگئے

(۲) صخر بن جویرہ ابو نافع التمیمی، یہ ثقہ راوی ہیں

(۳) نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد شدہ غلام

(۴) حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی الله  عنہما

( ۵ ) امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری

(۶) نعیم بن حماد المروزی الخزاعی مصری، امام احمد نے کہا : ہم ان کو الفارض کہتے تھے کیونکہ یہ علم الفرائض کے سب سے بڑے عالم تھے ان سے قرآن مجید کے متعلق سوال کیا گیا، انہوں نے ان کی منشاء کے مطابق جواب نہیں دیا تو ان کو قید کرلیا گیا، حتی کہ یہ قید خانے میں ہی ۲۲۸ ھ میں فوت ہو گئے، یہ اسحاق بن ہارون رشید کی خلافت کا زمانہ تھا

( ۷ ) عبداللہ بن المبارک

(۸) اسامہ بن زید اللیثی ،ان پر جرح کی گئی ہے یہ ۲۵۳ھ میں فوت ہو گئے تھے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۷۶)

اصل حدیث جس کا اختصار کیا گیا

اس حدیث میں مذکور ہے کہ اس کے متن کا نعیم بن حماد نے اختصار کیا ہے اصل حدیث کا متن اس طرح ہے:

نافع، حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضرت جبریل نے حکم دیا کہ میں بڑے کو دوں یا کہا: بڑے کو مقدم رکھو۔

المعجم الاوسط : ۳۲۴۲ مکتبۃ المعارف ریاض 1415ھ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کررہے تھے اور آپ کے پاس دو شخص تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا تو مسواک کی فضیلت میں آپ کی طرف یہ وحی کی گئی کہ آپ ان میں سے بڑے کو مسواک دیں۔

(سنن ابوداؤد : ۵۰)

اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت عائشہ کی روایت میں بیداری کا واقعہ ہے اور امام بخاری نے خواب کا واقعہ بیان کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خواب بیداری میں بیان کردیا تو اس کو حضرت عائشہ نے بیان کیا۔

بڑی عمر والے کی فضیلت

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کسی مجلس میں بڑی عمر کا شخص موجود ہو تو اس کا حق مقدم ہے، ماسوا اس کے کہ کم عمر دائیں جانب ہو تو پھر دائیں جانب والے کا حق مقدم ہے، جیسا کہ آپ نے ایک مجلس میں کم عمر لڑکے کو اپنا بچا ہوا دودھ عطا کیا، کیونکہ وہ دائیں جانب تھے ۔ ( صحیح البخاری : ۲۶۰۲-۲۳۵۱ صحیح مسلم : ۲۰۳۰) اور حضرت حویصہ اور محیصہ اپنے مقتول کی دیت کے سلسلہ میں بات کرنے آئے تو آپ نے فرمایا : بڑے کو بات کرنے دو۔

(صحیح البخاری : ۶۱۴۳ – ۲۷۰۲ صحیح مسلم :۱۶۶۹ سنن ابوداؤد :۴۳۲۰ سنن ترمذی: 1422، سنن نسائی: 4724،  سنن ابن ماجه: 2677)

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۸۱۶ – ج 6 ص 655 پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی۔