دہری شہریت
دہری شہریت
پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے عرض ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں آپ اپنے بادشاہ کی مدت پانچ سال کریں یا تاحیات یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے ۔مگر آ پ اپنے منہ سے جمہوریت اور سول سپریمیسی کا بھونڈا لفظ نہ دھرایا کریں آپ کو بالکل سوٹ نہیں کرتا ۔کیونکہ آپ میں سے کوئی بھی کبھی عوام کے کسی مسئلے کے لئے نہ تو کوئی ترمیم کرنے کے لئے اکٹھا ہوا اور نہ ہی کسی قانون سازی پر ۔جب بھی آپ لوگ کسی ایک نکتے پر جمع ہوئے وہ یہی تھا کہ آپ اپنے کسی آقا کی مدت ملازمت یا بے پناہ اختیارسونپنے کے لئے اکٹھے ہوئےہیں ۔
ہماری بس اتنی سی درخواست ہے کہ خیال رکھئے گا کہ غلامی کے لئے جمع ہونے والے اس اتحاد میں سمندرپار مقیم پاکستانیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے سے محتاط رہئے گا ۔ دہر ی شہریت کو ختم کرنے کا مت سوچئیے گا کیونکہ ایک جانب تو آپ کا گلہ ہے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی دوسری جانب ایک غریب سے غریب اوورسیز پاکستانی کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ پاکستان میں اپنا گھر ضرور بنائے ۔ دبئی یورپ اور برطانیہ میں وہ گھونسلے والے مکان میں رہتا ہے اور پاکستان میں وہ کئی کنال کے عالیشان گھر ضرور بناتا ہے۔
او پی ایف کے چیئرمین سید قمر رضا نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ اس تاثر کو زائل کرتے نظر آرہے ہیں کہ ایسی کوئی تبدیلی ہورہی ہے دوسری جانب او پی سی کے وائس چئیرمین بیرسٹر امجد ملکنے بھی بیان جاری کیا ہے کہ دہری شہریت کے معاہدے ختم کرنے میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔
البتہ مسلح افواج ، سول بیورو کریسی ، سرکاری ملازمین یعنی پولیس ، ججز وغیرہ کے لئے بھی دہری شہریت کو ممنوع قرار دینے کی قانون سازی زیر غور ہے ۔
یہ آخری جملہ ناقابل یقین ہے کہ ہمارے گزشتہ چار پانچ چیفس میں سے کوئی بھی پاکستان میں رہائش پذیر نہیں ہے ۔ ، اس کے علاوہ ملک کے 22 ہزار بیوروکریٹس کے پاس دوہری شہریت ہے ، کیا واقعی حکومت اتنی بہادر ہوگئی ہے کہ وہ ان سرکاری ملازمین کے خلاف کوئی قانون سازی کرے گی یا پھر دوبارہ اگر برق گرے گی تو تمام سمندر پار مقیم پاکستانیوں پر جنہوں نے اربوں روپے کی کرپشن کا پیسہ بیرون ملک لا کر کوئی پاسپورٹ حاصل نہیں کیا ۔ بلکہ ان ممالک میں اپنا خون پسینہ ایک کر کے محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے تو خدارا ان باتوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے
محموداصغرچودھری