وہابیوں  کا محقق العصر امن پوری لکھتا ہے :
۔باقی جن اہل علم نے یہ لکھا ہے کہ فلاں کی قبر سے تبرک و توسل حاصل کیا جاتا ہے،تو یہ عام گمراہ یا جاہل عوام کی عادت کا ذکر ہے،جس پر کوئی دلیل نہیں،اگر بعض متاخرین اہل علم کا ایسا نظریہ ہو بھی، تو یہ حجت نہیں
[اجساد اولیاء سے منسوب تبرکات،]

اس اجہل نے سب سے پہلے یہ جھوٹ بولا کہ متقدمین سے جو ان اعمال کا تذکرہ ملتا ہے وہ اہل علم جہلا عوام کے عمل کے بارے یہ کہتے ہیں۔

جبکہ ہر مطالعہ رکھنے والا یہ جانتا ہے کہ اپنے وقت کے مجتہدین و شارحین جب کسی کی فضیلت میں ایسی باتین کہتے ہیں تو وہ مقبول تذکرہ کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔

نیز امن پوری کا جھوٹا ہونا اس لیے بھی واضح ہے کہ متقدمین نے ایسے اعمال اہل فضل و اہل علم سلف کی طرف منسوب کرکے کہے ہیں نہ کہ جہلا کی طرف منسوب کرکے۔

خیر القرون کے مجتہد امام ابن ابی عاصم رحمہ اللہ (المتوفی 285ھ) اور انکے بقول انکے سلف کا عقیدہ!

امام ذھبی علیہ رحمہ آپکا تعارف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
ابن أبي عاصم
حافظ كبير ، إمام بارع متبع للآثار ، كثير التصانيف . قدم أصبهان على قضائها ، ونشر بها علمه . من أهل السنة والحديث وكان ثقة نبيلا معمرا .
●》امام ابن ابی عاصم  اثار و حدیث پر مطلع، صاحب تصانیف کثیرہ یہ اصفہان میں آئے اور وہاں اپنے علم کو (تصانیف کی صورت میں) نشر کیا، یہ اہل سنت و حدیث والوں میں سے تھے ثقہ نیک شخصیت کے مالک تھے۔

امام ذھبی نقل کرتے ہیں:
ابن مردويه : سمعت عبد الله بن محمد بن عيسى ، سمعت أحمد بن محمد بن محمد المديني البزاز يقول : قدمت البصرة وأحمد بن حنبل حي ، فسألت عن أفقههم ، فقالوا : ليس بالبصرة أفقه من أحمد بن عمرو بن أبي عاصم
●》امام ابن مردویہ کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن محمد بن عیسیٰ کو سنا، وہ کہتے ہیں میں نے احمد بن محمد بن محمد المدینی البزاز کو کہتے سنا:
میں بصرہ آیا اور تو امام احمد بن حنبل تب زندہ تھے، تو میں نے ان میں سے سب سے زیادہ فقیہ (مجتہد) کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : بصرہ میں امام احمد بن عمرو بن ابی عاصم سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں۔
[سیر اعلام النبلاء ص431، ج13]

آپ امام ابو حاتم و بخاری کے ہم عصر تھے اور انکے طبقہ میں تھے! اور 170ھ میں پیدا ہوئے!

امام ابن ابی عاصم اپنی تصنیف میں اپنے بارے اور اپنے سلف کے بارے عقیدے کی تصریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَقَدْ رَأَيْتُ جَمَاعَةً مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَأَهْلِ الْفَضْلِ إِذَا هُمْ أَخَذَهُمْ أَمْرٌ قَصَدَ إِلَى قَبْرِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَدَعَا بِحَضْرَتِهِ، وَكَانَ يَعْرِفُ الْإِجَابَةَ، وَأَخْبَرَنَا مَشَايِخُنَا قَدِيمًا أَنَّهُمْ رَأَوْا مَنْ كَانَ قَبْلَهُمْ يَفْعَلُهُ،
●》میں نے “اہل علم و فضل” کی ایک جماعت کو دیکھا کہ جب انہیں کسی پریشانی کا سامنا ہوتا، تو وہ ان(سیدنا طلحہ بن عبیداللہ)کی قبر پر جاکر سلام کرتے،اس جگہ دُعا مانگتے۔ وہ قبولیت ِدعا کو محسوس کرتے تھے۔ہمارے مشایخ نے یہ خبر دی کہ انہوں نے بھی اپنے سے پہلے لوگوں کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔
[الآحاد والمثاني :ص 163]

                               《《تبصرہ》》
معلوم ہوا امام ابن ابی عاصم  جو دوسری صدی ہجری  میں پیدا ہوئے۔ جو خیر القرون کے دور میں تھے انکے بقول انکے متقدمین سلف و صالحین کا نیک اولیاء اللہ کی قبور پر پر قبولیت کی دعا کا وسیلہ بنانا اور اولیاء اللہ کی قبور کی زیارت کے قصد لیکر جانا تاکہ انکی دعائیں قبول و مقبول ہوں!
یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ تابع تابعین کے ادوار میں جمہور ائمہ کا یہ عمومی طریقہ تھا۔
اور یہ اہل علم و مجتہدین فقہاء و محدثین کا طریقہ کار رہا ہے! اور اہل علم میں یہ امور کے مقبول و عام ہونے کا مطلب اسکا شرک و بدعت سے دور دور تک کچھ لینا دینا نہیں!

کیونکہ شرک و توحید قرآن و سنت میں نصوص کی صورت میں واضح ہے۔ ایسا محال ہے کہ ایک کام متقدمین ائمہ کی جماعت تواتر سے کرتی آرہی ہو اور متاخرین منہ اٹھا کر ان امور کو شرک و بدعت سے تعبیر کرکے متقدمین سلف کو قرآن و حدیث و عقائد توحید سے جاہل ثابت کرتے پھریں!

ان امور کو بدعت کہنا صریح کذب بیانی اور جہالت ہے۔ کیونکہ تمام خارج اہلسنہ کا زبانی منہج یہ ہے جو امر خیر القرون میں نہ ہو تو انکے نزدیک بدعت ہوتا ہے!

جبکہ یہ امور تو خیر القرون و تابع تابعین کے ادوار سے تواتر سے چلے آرہے ہیں ان امور کو شرکیہ قرار دینا گویہ امت محمدیہ کے کثیر ائمہ مجتہدین، محدثین، مفسرین، متکلمین و مورخین پر شرک پھیلانے کا الزام لگانے کے مترادف ہے!

جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے اللہ ہم کو سلف و صالحین کے راستے پر چلنے کی توفیق دے جنکا عموم ہونا اور جمہور ہونا سورج کی طرح عیاں ہے!

اسی طرح امام مالک اپنے دور کے لوگوں کے بارے فرماتے ہین

▪︎امام ابن عبدالبر نقل کرتے ہیں:
قال ابن القاسم عن مالك : بلغني عن قبر أبي أيوب رضي الله تعالى عنه : أن الروم يستصحون به ويستشفون
●》امام ابن قاسم کہتے ہیں امام مالک کے حوالے سے:
مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رومی سیدنا حضرت ابو ایوب انصاری کی قبر کے وسیلے صحت اور بارش طلب کرتے ہیں۔
[الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب لابن عبد البرّ : 1606/4]

▪︎نیز امام ابن عبد البر خود تصریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَقَبْرُ أَبِي أَیُّوْبَ قُرْبَ سُوْرِہَا، مَعْلُوْمٌ إِلَی الْیَوْمِ، مُعَظَّمٌ یَّسْتَسْقُوْنَ بِه، فَیُسْقَوْنَ۔
●》سیدنا حضرت ابو ایوب کی قبر(قسطنطنیہ)شہر کی فصیل کے قریب ہے۔ آج تک وہیں موجود ہے۔ اس کی تعظیم کی جاتی ہے اور اس کے وسیلہ سے بارش طلب کی جائے، تو بارش برستی ہے۔
[الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب : 426/2]

یعنی یہ وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں اتنا مقبول ہے کہ جب بھی قبرِ حضرت ابو ایوب انصاری کا وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا تو بقول امام ابن عبدالبر بارش برستی تھی حکم خدا وندی سے!

سلف کے باغی ہیں یہ لوگ لیکن اپنے مطلب کی بات آئے تو انکو چاٹنے لگ جاتے ہیں۔
یاد رہے حضرت ابو ایوب انصاری حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میزبان بنے مدینہ میں!
اسدالطحاوی ✍